Daily Mashriq


اہل علم وفن کی دادرسی

اہل علم وفن کی دادرسی

پنجاب کے وزیراطلاعات وثقافت فیاض الحسن چوہان نے گزشتہ روز ایک ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو میں بڑی پتے کی بات کی ہے ، پتے کی بات ہم نے اس لئے کہا ہے کہ موصوف کے دہن مبارک سے کبھی کسی خیر کا کلمہ نہیں نکلتا اور وہ بعض دیگر پارٹی رہنمائوں کی طرح غصے سے اتنے بھرے ہوئے ہیں کہ جن کے بارے میں شاعر نے دہن بگڑنے کے حوالے سے اپنی خبر لینے کی تلقین کی ہے ، مگر جانے موصوف کے جی میں کیا سمائی کہ انہوں نے جو بات کی اسے گل افشانی گفتار کے حقیقی زمرے میں شامل کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیئے ، یعنی بحیثیت وزیرثقافت انہوں نے صوبہ پنجاب کے فنکاروں کو خوشخبری دی ہے کہ حکومت پنجاب جلد ہی ہزاروں فنکاروں کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے والی ہے۔ دراصل یہ جو فنکاربرادری ہے نا ، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ، اور بے چارے رزق کے حصول کیلئے بعض اوقات دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں ، یہاں یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ پنجاب میں بھی سٹیج، ٹی وی، فلم اور ریڈیو کے ہزاروں اداکاروں، صدا کاروں ، تکنیک کاروں، موسیقاروں وغیرہ وغیرہ کو سرکاری وظائف دیئے جاتے ہیں، جیسا کہ ہمارے صوبے میں بھی ہے، تاہم اب کی بار اس میںتھوڑی سی پھسوڑی پڑ گئی ہے، اور وہ جو بیچارے فنکار اعزازیہ کے انتظار میں تھے حالات نے انہیں بقول اساچغتائی یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ

تیرے آنے کا انتظار رہا

عمر بھر موسم بہار رہا

مگر بہار آتی ہے نہ خزاں کا پتہ چلتا ہے ، یعنی معاملہ بیچ میں اٹک گیا ہے ، اور وہ یوں کہ صوبے کے اہل علم وقلم ، فن وکمال سے درخواستیں مانگی گئیں تو ظاہر ہے ماشاء اللہ ہزاروں نے اپنی اہلیت کا دعویٰ کیا، اہلیت پر تو کسی کے بھی اعتراض نہیں ہوسکتا کہ اگر کوئی اہل کمال کسی بھی شعبہ فن سے وابستہ ہو اس کے دعوے کو رد تو نہیں کیا جاسکتا ، تاہم محکمہ ثقافت نے جو معیار مقرر کیا تھا اس چھلنی سے گزر کر ہی کسی کو اپنی حیثیت تسلیم کرانا پڑتی تھی، اس معیار میں کئی پڑائوتھے یعنی تجربہ ، فنی حیثیت ، متعلقہ شعبے میں مقام و مرتبہ وغیرہ وغیرہ اور اس حوالے سے حقداروں کا تعین کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی جو ابتدائی طور پر 24تجربہ کار افراد پر مشتمل تھی جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نام اور مقام کما رکھا تھا، آغاز ہی میں ایک دو ممبران نے بوجوہ کمیٹی سے علیحدگی اختیار کی ، تاہم اس کے بعد کام پر بھر پور توجہ دی گئی اور ہر شعبے میں شامل فہرستوں کے مطابق سکروٹنی کا عمل شروع کیا گیا ، یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ کہ یہ جو ہم تفصیل سے بتارہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خود ہم بھی اس سکروٹنی کمیٹی کا حصہ تھے اور ایک ایک لمحے کی ہمیں خبر رہی ہے یعنی جب تک کمیٹی نے تمام کام مکمل کر کے حتمی رپورٹ مرتب نہیں کی ہم سب ممبرصورتحال کا جائزہ لیتے رہے اور سکروٹنی کاکام مکمل کرنے میں اپنا حصہ ڈالتے رہے ، بہرحال سکروٹنی کے دوران جو صورتحال رہی وہ یہ تھی کہ اکثر فیصلہ کرتے ہوئے ممبران آپس میں الجھ بھی پڑتے تھے اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ کسی غیر مستحق کو یہ اعزازیہ نہ پہنچ سکے ، یعنی خوب بحث مباحثہ ہوتا اور جب تمام ممبران کو مکمل اطمینان ہوجاتا تو نام فائنل کردیا جاتا ، بقول شاعر

بلا کازور تھا حالات کے تنائو میں

کئے نہ ہم نے مگر فیصلے دبائو میں

پنجاب کے وزیر ثقافت کے گزشتہ روز کے اعلان کے حوالے سے یہ باتیں اس لئے یاد آئیں کہ حالیہ دنوں میں پشاور کے ایک فنکار ارشد حسین کے حوالے سے یہ تشویشناک خبریں سامنے آرہی ہیں کہ انہیں کینسر کا عارضہ لاحق ہے اور وہ حکومتی توجہ کے مستحق ہیں، ارشد حسین ہمارے صوبے کے اہم فنکاروں میں شامل ہیں ، فن کیلئے ان کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں ، اور جن دنوں صوبے کے اہل فن کیلئے اعزازیہ دینے کے ضمن میں سکروٹنی کمیٹی کے اجلاس ہورہے تھے اس دوران محکمہ ثقافت کے اعلیٰ عہدیداروں نے بار بار یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اعزازیئے کا فیصلہ ہونے کے بعد صوبے کے اہل کمال کو صحت کی سہولیات فراہمی کیلئے عملی اقدام کیا جائے گا اور جہاں تک ہمیں یاد ہے اس سلسلے میں فارم بھی تقسیم کئے جاچکے ہیں ، تاہم اس کے بعد اس حوالے سے مزید پیش رفت کیا ہوئی اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ اس لئے اس موقع پر محکمہ ثقافت کے حکام سے یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ ایک تو اگران کے پاس مجوزہ فارم جمع ہوچکے ہیں تو ان پر ضروری کارروائی کرکے ثقافت کے زندہ امینوں کو میڈیکل سہولیات مہیا کرنے پر توجہ دی جائے اور صحت کارڈ دے کر ان کی داد رسی کی جائے ، جبکہ ارشد حسین یا اور بھی اس قسم کی فوری طبی امداد کے مستحق افراد ہوں تو ان کیلئے فوری مالی اور طبی امداد یقینی بنائی جائے ۔ کہ بقول ن۔م۔ راشد

مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں

اس دورناگوار میں جینا محال ہے

دوسرے یہ کہ جن لوگوں کے اعزازیئے رکے ہوئے ہیں ان کی ادائیگی پر بھی توجہ دی جائے ، البتہ ایک تجویز دینے کی اجازت دیجئے کہ جس طرح بعض افراد نے ان اعزازیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کر کے انہیں متنازعہ بنادیا ہے ، آئندہ کیلئے اعزازیئے کی رقم کم (دس یا پندرہ ہزار روپے)کرکے دوہزار افراد تک امداد پہنچانے کا اہتمام کیا جائے تو امید ہے کہ تمام اعتراضات رفع ہو جائیں گے۔

متعلقہ خبریں