Daily Mashriq


نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

آج 20 نومبرکو ہم دنیا والوں کے ساتھ مل کر بچوں کا عالمی دن منارہے ہیں۔ہمارے گھر آنگن میں کھلنے والے یہ پھول اور کلیوں جیسے بچے جوانی کی دہلیز پر پہنچتے پہنچتے غنچے بن کر پھوٹتے ہیں تو قسمت والے ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے بچوں کی چڑھتی جوانی کو دنیا والے رشک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پوری قوم ان کو مستقبل کے امین اور معمار کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان پر فخر کرتے ہیں اورروح اقبال پکار پکار کر کہہ اٹھتی ہے کہ 

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

لیکن شومئی قسمت سے ستاروں پر کمند ڈالنے والے بہت کم نوجوان اقبال کے خوابوں کی تعبیر بن کر اس منزل کو حاصل کر سکتے ہیں۔ بہت سے بچے نہ صرف جوانی میں بلکہ ادھیڑ عمری اور عہد پیری میں بھی بچے ہی رہتے ہیں اور انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند کے مصداق اپنے عہد جوانی اور عہد پیری میں بھی اپنے کھوئے ہوئے بچپن کو تلاش کرتے ہوئے بچپن کا ترانہ الاپتے رہ جاتے ہیں کہ

کتنے اچھے تھے دن

میرے بچپن کے دن

بچپن کے دن ہر عہد اور عمرکے افراد کی زندگی کے سنہری دور کی یاد بن کر ماضی کے جھروکوں سے جھانکتا رہتا ہے ۔ عہد طفولیت یابچپن کے زمانہ کو لوگ ہنسنے کھیلنے کودنے اور موج مستیاں کرنے کا زمانہ سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ انسانی زندگی کا یہی وہ دور ہے جس پر عہد جوانی ادھیڑ عمری اور عہد پیری کی عمارت ایستادہ کی جاتی ہے۔ ماہرین نفسیات کا دعویٰ ہے کہ بچہ اپنی ماں کی گود کے علادہ گود سے نکلنے کے بعد سیکھنے اور سمجھنے کی جو صلاحیت رکھتا ہے وہ زندگی کے کسی موڑ پر بھی اسے حاصل نہیں ہوتی۔ بعض ماہرین نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بچہ سات سال کی عمر تک جو کچھ سیکھ اور سمجھ جاتا ہے وہ باقی عمر کے دوران سیکھے جانے والے 30 فی صد کے مقابلے میں70 فی صد ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم علم و آگہی کا خزانہ اپنی عمر کے ابتدائی حصہ میں جمع کرتے ہیں اور پھر اس خزانے کو لیکر زندگی کی شاہراہوں پر خرچتے رہتے ہیں۔لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہ خزانہ نہیں جو خرچ کرنے یا استعمال کرنے سے کم ہوتا ہو۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ علم وہ دولت ہے جو چرائی نہیں جاسکتی اور نہ تقسیم کرنے سے اس میں کمی آتی ہے۔ بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں میں اپنی زندگی کا پہلا درس اپنی ماں کی گود سے حاصل کرتا ہے جو اس کی مادری زبان میں مامتا بھری لوریوں کی صورت اسے سنایا جاتا ہے۔ستم کی بات ہے کہ بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی ماہ و سال کے دوران جو کچھ اپنی ماں کی گود میں یا ارد گرد کے ماحول سے اپنے گھر آنگن اور گلی محلے کے سنگیوں ساتھیوں کی زبان میں سیکھنا شروع کرتا ہے عین اس وقت اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے جب وہ اسکول یا مدرسے جانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اسکول یا مدرسے میںمادری زبان کی بجائے بچے کو بدیشی زبان میں تعلیم دینا شروع کردیا جاتا ہے اور یوں کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا کے مصداق وہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بننے لگتا ہے۔ ابھی وہ ٹھیک طرح سے اردو بھی سیکھنے نہیں پاتا کہ اسے اردو سے بالکل مختلف حروف تہجی کی تختی تھما دی جاتی ہے۔اردو میں تو ایک ہی الف تھا انگریزی میں ’اے‘ بھی الف ہے ’ای‘ بھی الف کی آواز دیتا ہے۔’ یو‘ بھی الف ہی ہے ـ’آئی ‘بھی الف ہے۔ یا خدا کن بھول بھلیوں میں پھنسا کر رکھ دیا جاتا ہے ہمارے جگر گوشوں کو اور ہم یہ طرفہ تماشا دیکھ کر کہتے رہ جاتے ہیں کہ

اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے

کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا

ہمارے بہت سے بچے محض اس وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں کہ ان کا ذہن قبول ہی نہیں کرپاتا ان گنجلکوں کو جو تعلیم کے نام پر اس کی راہ میں حائل کردئے جاتے ہیں۔آپ نے چیتھڑے پہنے بچے تو دیکھے ہونگے جو کچرے کے ڈھیر میں اپنا رزق تلاش کرتے رہتے ہیں۔ہمارے ہاں جیب مارنے والے بچوں کی بھی کوئی کمی نہیں ، ہر تھڑہ ہوٹل میں اوئے چھوٹے کے نام سے پکارے جانے والے بچے موجود ہوتے ہیں ، کسی مستری کی دکان دیہاڑی پر کام کرنے والے بچوں کے بغیر نہیں چل سکتی ۔ آپ اسے چائلڈ لیبر کہیں یا کسی اور نام سے پکاریں یہ ایک کڑوی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا ، تعلیم و تعلم سے بیزار یہ بچے غربت کے ہاتھوں اس حال تک پہنچتے ہیں بچوں کی تعلیم اور تربیت ان کا پیدائشی حق ہے اور حکومت وقت کا فریضہ ہے کہ وہ ان کا پیدائشی حق ادا کرے ، وزیر اعظم پاکستان نے یکساں نظام تعلیم کا نعرہ لگا کر قوم کے حساس طبقے کو جس مخمصے کا شکار کردیا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کیا خیبر پختون خوا کی سابقہ حکومت نے بچوں کو ان کی مادری زبان میںتعلیم دینے کا بل منظور کرتے وقت جھک مارا تھا ،ہم اپنے چارہ گروں کو ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے ہیں کہ اگر آپ یکساں نظام تعلیم کا اجراء کرنا چاہتے ہیں تو خدارا ہمارے بچوں سے ان کے بچپن کی زبان میں ذریعہ تعلیم کا آغاز کریں کہ اسی کو یکساں نظام تعلیم کا بہترین ذریعہ قرار دیا جاسکتا ہے اور اگر آپ ایسا نہ کرسکے تو آنے والے دنوں میں ہمیں یہ کہہ کر رونے دیجئے گا کہ

نہ خدا ہی ملا ، نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ہوئے

متعلقہ خبریں