Daily Mashriq


فلاحی ریاست کے قیام میں وسائل سے زیادہ احساس کا عمل دخل ہے،وزیراعظم عمران خان۔

فلاحی ریاست کے قیام میں وسائل سے زیادہ احساس کا عمل دخل ہے،وزیراعظم عمران خان۔

ویب ڈیسک: بین الاقوامی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان مذہب کی ہتک کے خلاف بین الاقوامی قرارداد لے کر آئے گا، آزادی اظہار کی آڑ میں دنیا کے سوا ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی جاسکتی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جشن ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلسلے میں 2 روزہ بین الاقوامی رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے،وزیراعظم عمران خان نے کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس کے منتظمین اور شریک مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہماضی میں اپنے کرکٹ کے دنوں میں نام کا مسلمان تھا، والد کے کہنے پر جمعے اورعید کی نماز پڑھتا تھا، اس دوران مجھے ایک اسکالر نے دین کی طرف راغب کیا، نبی کریم ﷺ کی زندگی کو پڑھنے کے بعد میری زندگی میں تبدیلی آئی اور میرے ایمان کے راستے میں حائل رکاوٹیں آہستہ آہستہ ختم ہوگئیں، اللہ نے ہر انسان کو کسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، اللہ کے وجود پر یقین انسان کی زندگی بدل دیتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت العالمین کا خطاب دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست بنائی، فلاحی ریاست وسائل کی وجہ سے نہیں بلکہ احساس سے بنتی ہے۔ ریاست مدینہ کے گیارہ سالہ دور پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ 3 جامعات میں سیرت نبیﷺ چیئرز بنائی جائیں گی۔

 عمران خان نے کہا کہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے زندگی گزارنے کے دو راستے ہیں، نبی کریمﷺ کا راستہ سیدھا راستہ ہے، سیدھے راستے پر چلنا ایک مسلسل جدوجہد ہے ۔ ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر پاکستان معرض وجود میں آیا،یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ کئی لوگ اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں، انہیں اس فلسفے کی سمجھ ہی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہستی ہیں، پاکستان عظیم ملک بنے گا لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے کردار کو بدلنا ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، ہم نے خاکوں کا معاملہ ہر فورم پر اٹھایا، ہماری کوشش سے ہالینڈ نے پہلی دفعہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کو رکوایا۔ اظہار آزادی کے نام پر سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ ہم اس سلسلے میں کنونشن کی تیاری کریں گے، اس مقصد کے لیے انہوں نے ماہر قانون احمر بلال صوفی کو اپنا بین الاقوامی نمائندہ خصوصی مقرر کیا ہے اور انہیں ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ مختلف ممالک میں جاکر اس کنونشن پر دستخط کرائیں تاکہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کو قانونی حیثیت مل جائے۔

متعلقہ خبریں