Daily Mashriq


پاکستان نے آئی ایم کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا، مذاکرات کا ایک اوردوربے نتیجہ ختم

پاکستان نے آئی ایم کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا، مذاکرات کا ایک اوردوربے نتیجہ ختم

ویب ڈیسک:حکومت کی جانب سے  آئی ایم ایف کے بعض مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کے باعث مذاکرات کا ایک اور دور  بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی و صوبائی وزرائے خزانہ پر مشتمل وفد کے آئی ایم ایف مشن سے مذاکرات ہوئے، اختتامی سیشن کی صدارت وزیر خزانہ اسد عمر نے کی جس میں حکومت کی آئی ایم ایف کے ساتھ پالیسی، اسٹرکچرل اصلاحات فریم ورک پر اتفاق میں پیش رفت ہوئی۔

آئی ایم ایف کے ساتھ مانیٹری پالیسی، ادائیگیوں کے توازن اور کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے سے متعلق بھی پیش رفت ہوئی تاہم بعض شعبوں میں اتفاق ہونا باقی ہے، اس ضمن میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور راؤنڈ ہوگا۔

 وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے 7 سے 20 نومبر تک پاکستان کا دورہ کیا اور اس دوران مذاکرات میں گورننس، ترقی اور کاروبار کا ماحول دوستانہ بنانے اور غربت کم کرنے کے لیے اخراجات پر بات ہوئی۔

آئی ایم ایف کے وفد نے وزارت خزانہ، منصوبہ بندی، اسٹیٹ بینک، اراکین پارلیمنٹ اور وزرائے خزانہ سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ آئندہ ہفتوں میں مزید مذاکرات ہوں گے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت آئی ایم ایف کے نئے مالی پروگرام میں معاون ثابت ہوگی پاکستان حکام کے ساتھ مذاکرات مزید چند ہفتے تک جاری رہیں گے۔

آئی ایم ایف کے مطابق جائزہ مشن نے ہیرالڈ فنگر کی سربراہی میں 7 سے 20 نومبر تک پاکستان کی جانب سے نئے پروگرام کے لیے دی جانے والی درخواست پر مذاکرات کیے۔

آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ ہیرالڈ فنگر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات مفید رہے ہیں جب کہ  جامع اصلاحاتی ایجنڈے، مالیاتی و کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے، سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے، گورننس و شفافیت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ وسیع معاہدے کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پائیدار روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں