Daily Mashriq

ممتاز انقلابی شاعر اور دانشور فیض احمد فیض کی برسی

ممتاز انقلابی شاعر اور دانشور فیض احمد فیض کی برسی

عہد ساز شاعر فیض احمد فیض کو ہم سے بچھڑے پينتيس برس بیت گئے مگر ان کی انقلابی شاعری آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔

 نادر الفاظ کے موتی مصرعوں کی سلک میں پرونے والے شاعر فیض احمد فیض کی شاعری کا ایک زمانہ معترف ہے۔ وہ 13فروری 1911ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کی علمي فضا سے فيض ياب ہوئے۔ ادبی دنیا میں نقش فریادی، دست صبا، نسخہ ہائے وفا، زندان نامہ، میرے دل میرے مسافر سے پہچان بنائی۔

فیض اور اقبال ہم شہر تھے، یعنی دونوں کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ دونوں کی شاعری کا رنگ بھی ایک تھا البتہ دونوں کے اسلوب مختلف تھے۔ اقبال بانو، مہندي حسن، ٹینا ثانی، نور جہاں اور دیگر گلوکاروں نے فیضؔ کا کلام خوب گایا اور شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا۔

فیض کے شعری مجموعوں کا انگلش، فارسی، روسی، جرمن اور دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ فیض بائیں بازو کے نظریات کے حامی تھے اور یہ ہی وجہ ہے کہ انہیں آمرانہ ادوار میں مختلف صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

کليات فيض، خاموش شہرياراں، رات کي رات، ورق ورق، حرف حرف، دست صبا ان کي مشہور کتابيں ہيں، جب کہ فیض کے اہم کلام کا مجموعہ نسخہ ہائے وفا آج بھی ادب سے محبت کرنے والوں کی لائبریری کا حصہ ہے۔

یہ فيض کی شاعری کا ہی خاصہ ہے کہ انہیں علامہ اقبال اور مرزا غالب کے بعد اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ فیض احمد فیض کا شمار بلاشبہ پاکستان کے اُن چند شاعروں اور ادیبوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے دنیائے ادب میں پاکستان کو بلند مقام دیا۔ ان کی شاعری کے اکثر بول آج بھی ہر لب پر عام ہيں۔

فیض احمد فیض ایشیاء کے واحد شاعر ہیں، جنہیں روس نے لینن امن ایوارڈ سےنوازا۔ فیض احمد فیض 20 نومبر 1984ء کو 73 برس کی عمر میں اپنے کروڑوں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔

متعلقہ خبریں