Daily Mashriq

حکومت کی طویل مدتی پالیسیوں سےملک میں معاشی استحکام آئے گا،وزیراعظم

حکومت کی طویل مدتی پالیسیوں سےملک میں معاشی استحکام آئے گا،وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے اس اعتماد کا اظہارکیا ہے کہ حکومت کی طویل مدتی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں اقتصادی استحکام آئے گا۔انہوں نے بدھ کی سہ پہر اسلام آباد میں سیلز ٹیکس واپسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملک کو ساڑھے 19 ارب ڈالر تجارتی خسارے کا سامنا تھا۔ روپیہ دباؤ میں تھا اور اقتصادی اشاریے بہت خراب حالت میں تھے۔وزیراعظم نے نسبتاً کم مدت میں حکومت کی اقتصادی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کرنسی مستحکم ہو رہی ہے اور سٹاک مارکیٹ مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات کے حجم میں بہتری آ رہی ہے جو ملک کی مجموعی معیشت کیلئے اچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ طویل مدتی پالیسیوں میں بہتری سے مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے علاوہ ملک کے اقتصادی حالات میں مزید بہتری آئیگی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں خطے کے بہت سے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ مواقع موجود ہیں لیکن ماضی کی حکومتوں نے اس سے استفادہ نہیں کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پالیسیوں میں عدم تسلسل کے باعث وقتی پالیسیوں کو فروغ ملا۔وزیراعظم نے کہا کہ چار سال میں پہلی بار حکومت جاری کھاتوں کے خسارے میں کمی لانے میں کامیاب رہی ہے۔انہوں نے قومی ترقی کیلئے آمدن کے حصول کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تاجربرادری اور صنعت کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کے فائدے کیلئے سمگلنگ کے ناسور پر قابو پانے کے لئے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے لئے تاجروں کی رجسٹریشن ضروری ہے کیونکہ محصولات میں اضافے کے بغیر حکومت اچھے انداز میں نہیں چلائی جا سکتی۔وزیراعظم نے ٹیکس بیس بڑھانے پر ایف بی آر کے چیئرمین اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی۔انہوں نے تاجربرادری پر زور دیا کہ ٹیکسوں کی ادائیگی کو اپنا قومی فریضہ سمجھیں۔اس سے قبل وزیراعظم نے مختلف 

متعلقہ خبریں