Daily Mashriq

61برسوں کی مختصر کہانی

61برسوں کی مختصر کہانی

مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب فیلڈمارشل محمد ایوب خان کیخلاف عوامی تحریک شروع ہوئی تو روزانہ کی بنیاد پر کوئی نہ کوئی حکومتی رہنما کہا کرتا تھا ''موجودہ وقت انتشار کی سیاست کا نہیں اتفاق اور اتحاد کا ہے'' جواباً متحدہ حزب اختلاف والے کہا کرتے تھے ''حکومت کی ملک دشمن پالیسیوں اور جبر پر اُٹھائے گئے نظام کی بدولت ملک بحرانوں سے دوچار ہے'' ایوب رخصت ہوئے اور جاتے ہوئے انہوں نے کمانڈر انچیف جنرل محمد یحییٰ خان کو اپنا جانشین مقرر کر دیا، یوں ملک میں دوسرا مارشل لاء لگ گیا۔ دفاع کیساتھ امور مملکت بھی مضبوط ہاتھوں میں ہونے کی کہانیاں سنائی جانے لگیں۔ جنرل یحییٰ خان نے لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا ون یونٹ ختم ہوا، مغربی پاکستان کے چاروں صوبے بحال کر دئیے گئے۔ 1970ء کے انتخابات اسی لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت ہوئے۔ ایوبی مارشل لاء کے غیرمنصفانہ اقدامات کے نتیجے میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں جو دوریاں پیدا ہوچکی تھیں ان دوریوں کو کم نہ کیا جاسکا۔ انتخابات میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے جھاڑو پھیر دیا۔ صرف نورالامین اور راجہ تری دیو رائے اپنی ذاتی شخصی ساکھ کی بدولت کامیاب ہو پائے۔ بنگالیوں نے عوامی لیگ کے 6نکات کو ووٹ دیا، مغربی پاکستان سے قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی اور سندھ وپنجاب کی صوبائی اسمبلیوں میں اسے اکثریت حاصل تھی۔ بلوچستان اور صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کی اسمبلیوں میں مینڈیٹ منقسم تھا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد جی ایچ کیو نے جونیئر افسروں کی بغاوت کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کیا۔ بھٹو مارشل لاء کے ضابطوں کے تحت ہی سربراہ مملکت بنے۔

بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھالا' ملک میں آئین بنا اور جمہوری نظام کی بنیاد پڑی' بھٹو جو پہلے صدر مملکت تھے آئین بننے کے بعد وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ ان کی جگہ گجرات سے تعلق رکھنے والے چودھری فضل الٰہی صدر مملکت منتخب ہوگئے۔ ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ صالحین کی جماعت اسلامی نے آرمی چیف ٹکا خان کی تصویروں والے پوسٹرز راولپنڈی اسلام آباد کی دیواروں پر لگا دئیے۔ ان پوسٹروں پر لکھا تھا ''مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟''۔ اسی دوران نیپ پر پابندی لگی صوبہ سرحد اور بلوچستان کی مخلوط صوبائی حکومتیں معزول کردی گئیں۔ نیپ اور جے یو آئی مفتی محمود گروپ کی مخلوط حکومتوں کی جگہ پیپلز پارٹی اور قیوم لیگ کی اتحادی حکومتیں بن گئیں۔ 1977ء کے انتخابات کے پہلے مرحلے قومی اسمبلی کے چناؤ کو اپوزیشن نے مسترد کرتے ہوئے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ پھر حکومت مخالف تحریک کا ڈول ڈال دیا، اس تحریک کی کوکھ سے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء نے جنم لیا اس وقت کے ملکی حالات اور خطے کے معاملات کا جائزہ لیجئے تو صاف سمجھ میں آتا ہے کہ قومی اتحاد کی تحریک کو امریکہ اور جرنیل شاہی کی پشت بانی حاصل تھی۔ فوجی حکومت کی کابینہ میں سب سے پہلے مسلم لیگ شامل ہوئی اور پھر قومی اتحاد نے حکومت میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی۔ ماسوائے این ڈی پی کے پی این اے کی جماعتوں نے وزارتیں قبول کرلیں۔ ہمارے بزرگ سیاستدان اور بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کی پی ڈی پی کو بھی وزارتیں ملیں۔ انتخابات کا وعدہ ایفا نہ ہوا، بھٹو پر قتل کا ایک مقدمہ اس طور چلایا گیا کہ براہ راست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی ان کے خون کے پیاسے مولوی مشتاق نے انہیں سزائے موت سنا دی۔ یہ سزائے موت وعدہ معاف گواہوں کے بیانات پر سنائی گئی اور پھر ماسوائے ایک وعدہ معاف گواہ مسعود محمود کے باقی گواہوں کو بھی پھانسی چڑھا دیاگیا۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء نے ہزاروں سیاسی کارکنوں کو قید' کوڑوں اور جرمانوں کی سزائیں سنائیں، بدنام زمانہ ٹارچر کیمپ خوب آباد ہوئے۔ ان کے دور میں پہلے صوبائی کونسلیں اور پھر قومی مجلس شوریٰ بنی۔ 1985ء میں انہوں نے غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے، ایم آر ڈی نے بائیکاٹ کر دیا۔ ایم آر ڈی کا یہ بائیکاٹ ملک سے نظریاتی سیاست کے خاتمے اور ذات پات' برادری' فرقوں اور لسانی سیاست کے آغاز کا باعث بنا۔ گیارہ سال سے کچھ اوپر اقتدار پر قابض رہنے والے جنرل ضیاء طیارے کے ایک حادثے میں رخصت ہوئے۔ اگلے دس برسوں کے دوران پی پی پی اور نواز لیگ کی دو دو حکومتیں کرپشن کے الزامات پر برطرف ہوئیں۔ اکتوبر1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیا، ان کا قبضہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں ختم ہوا۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے 5'5 سال حکومت کی اور دونوں نے ایک دوسرے کو خوب دھویا' بھد اُڑائی' سنگین ترین الزامات لگائے کسی کو یاد ہو تو جناب نواز شریف میمو گیٹ سکینڈل میں کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ گئے تھے تاکہ پیپلز پارٹی کی فوج دشمن حکومت کو برطرف کروا سکیں۔ اکتوبر2011ء میں تحریک انصاف نے نیا جنم لیا' 2013ء میں اسے ایک صوبے میں اور 2018ء میں تین صوبوں اور مرکز میں اقتدار مل گیا۔ یہ اقتدار کیسے ملا اسے سمجھنے کیلئے جھنگ سے قومی اسمبلی کے امیدوار مخدوم فیصل صالح حیات کی اس درخواست کا متن پڑھ لیجئے جو انہوں نے اپنی الیکشن پٹیشن واپس لینے کیلئے دی ہے، آپ کے چودہ نہیں تو بارہ طبق روشن ہوجائیں گے۔

متعلقہ خبریں