Daily Mashriq

سیاسی مناقشے اور مذاکرات

سیاسی مناقشے اور مذاکرات

کچھ بھی تو نہیں بدلا' لگ بھگ نصف صدی کے سیاسی بیانات کا جائزہ لیاجائے تو کیا حکومتی اکابرین' کیا اپوزیشن کی جماعتیں' الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ وہی بیانات آج بھی کانوں سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ باریاں بدلنے کی وجہ سے حکومتی جماعتیں اپوزیشن جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوتی رہی ہیں۔ مگر اپنی اپنی پوزیشن کے حوالے سے ان کے بیانات وہی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بیانات جو آج سے چالیس پچاس سال پہلے لکھے گئے ہیں وہی فائلیں اٹھا کر ان کے سامنے رکھ دئیے جاتے ہیں اور حالات میں بدلائو کے تناظر میں معمولی رد و بدل کے ساتھ '' شرطیہ نئی کاپی'' کی صورت جاری کردئیے جاتے ہیں۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے عوام کی '' فلاح و بہبود' ترقی اور خوشحالی'' کے حوالے سے بلند آہنگ دعوے' اپوزیشن کے ادوار پر طنز و تشنیع' ملکی وسائل کی لوٹ مار اور بربادی' کرپشن وغیرہ وغیرہ کے ساتھ دھمکیاں وغیرہ جبکہ اپوزیشن کی جانب سے جواب آں غزل کے طور پر تڑیاں' احتجاجی جلسے جلوس اور اب گزشتہ دس سال سے دھرنوں کا سلسلہ جبکہ حکومت کو چلتا کرنے' گھر بھیج دینے کے دعوے بھی شامل ہوچکے ہیں۔ حالانکہ آخر میں نتیجہ دونوں جانب کے لئے '' ورنہ پر ملازمت'' والا بن جاتا ہے

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں؟

تاریخ اپنے آپ کو دہراتے ہوئے آج ایک بار پھر دھمکیوں' جوابی دھمکیوں' جلوسوں' دھرنوں کی تڑیوں کے ساتھ نئی صف بندیوں کا مرقع دکھائی دے رہی ہے۔ ایک جانب اگر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر اکٹھی ہونے جا رہی ہیں( امکانات پر سوال بھی اٹھ رہے ہیں) اور مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں بقول ایک تاریخی ناول نویس کے مشہور جملے یعنی کشتوں کے پشتے لگانے پر تلی دکھائی دیتی ہیں تو دوسری جانب حکومت بھی اپنی رٹ برقرار رکھنے کے لئے تیار بیٹھی ہے اور اب تک مختلف بیانئے سامنے آچکے ہیں یعنی اگر خیبر پختونخوا میں '' آزادی مارچ'' کو راستہ دینا تو درکنار مارچ والوں کو گھروں سے نکلنے تک کی اجازت نہ دینے کے بیانات سامنے آرہے ہیں جبکہ پنجاب کا بیانیہ اس کے برعکس ہے' حالانکہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما سرکار کو اس کے پرانے بیانات یاد کرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ نہ صرف وزیر اعظم اپنے وعدے کے مطابق کنٹینر فراہم کرے بلکہ دھرنے (اگر ہوا تو) کے شرکاء کو کھانا بھی پہنچانے کا بندوبست کرے جبکہ گزشتہ روز جو خبر سامنے آئی اس کے مطابق اسلام آباد کے وینڈرز کو مبینہ طور پر حکم دیاگیا ہے کہ وہ دھرنے والوں کو کھانا فراہم نہ کریں کہ حکم عدولی کی صورت میں سخت ایکشن لیا جائے گا۔ خیر یہ تو ضمنی سی باتیں ہیں کیونکہ اسلام آباد کا قصد کرنے والوں کو جمعیت کے اکابرین نے اپنے ساتھ چنے اور خشک میوہ جات لانے کی ہدایت کردی ہے گویا'' بریانی'' کے متبادل کے طور پر بھوک مٹانے کے لئے بندوبست کرلیاگیا ہے۔ صورتحال حبیب جالب کے بقول کچھ ایسی ہے کہ

کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی

ریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں

قصور وار سمجھتا نہیں کوئی خود کو

چھڑی ہوئی ہے لڑائی منافقینوں میں

تازہ صورتحال یہ بن رہی ہے کہ ایک جانب بالآخر لیگ نون نے آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان کردیا ہے' شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمن کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرادی ہے اور کہا ہے کہ حکومت ناکام ہے' کراچی سے پشاور تک عوام حکومت سے استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ مولانا صاحب نے کہا ہے کہ تضحیک ' گالیاں' مذاکرات اور سنجیدگی کبھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ادھر وزیر اعظم نے کہا ہے کہ مولانا کے جائز مطالبات تسلیم' ناجائز نہیں مانیں گے جبکہ حکومت نے مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں پرویز خٹک کے علاوہ اسد قیصر' صادق سنجرانی' نورالحق قادری' اسد عمر' شفقت محمود اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی شامل ہیں جبکہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن مذاکرات کے دروازے بند نہ کریں۔تاہم وزیر اعظم کے مستعفی ہونے سے ملک میں سیاسی بحران پیدا ہونے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کیونکہ تحریک کے اندر کی صورتحال جاننے والے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا تو ان ہائوس تبدیلی سے پارٹی کو سنبھالنا تک مشکل ہوجائے گا اور حالات اس حد تک جاسکتے ہیں کہ وزارت عظمیٰ کے لئے '' رسہ کشی'' کے نتیجے میں کوئی نتیجہ برآمد نہ ہونے کی صورت میں سیاسی افراتفری جنم لے سکتی ہے۔ ظاہر ہے اس کے بعد کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور ماضی کی تاریخ دہرانے تک نوبت پہنچ سکتی ہے' پھر کیسی جمہوریت کیسی حکومت اور کیسے انتخابات؟ اس لئے بہتر ہے کہ آزادی مارچ کو خود مارچ والے ہی مناسب حدوں میں رکھتے ہوئے مطالبات کریں اور مذاکرات کے دروازے بند نہ کریں۔ اسی میں ملک کی بقاء اور جمہوریت کا تسلسل ہے۔ وما علینا الالبلاغ۔

متعلقہ خبریں