Daily Mashriq

مجھے اختلاف طریقۂ اختلاف سے ہے

مجھے اختلاف طریقۂ اختلاف سے ہے

پاکستان میں سیاست کیلئے ایک میرٹ تو یہ ہے کہ آپ کسی سیاستدان کی اولاد ہوں پھر چاہے کو ئی سیاسی فہم اور تدبر ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا دوسرا میرٹ یہ ہے بلکہ بہت اہم یہ ہے کہ آپ کے پاس اتنی دولت ضرور ہوکہ آپ یا تو گن نہ سکیں اور گن سکیں تو کئی ہفتے یا چلئے کئی دن تو لگیں ورنہ تو کوچۂ سیاست میں قدم رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں اور اگر اتفاقاََ کوئی ''غریب سیاستدان'' کامیاب بھی ہو جائے تو یہ کامیابی بس ایک ہی نسل تک رہتی ہے بلکہ بسا اوقات ایک الیکشن یا زیادہ سے زیادہ دو تین بار کی کامیابی سے بات آگے نہیں بڑھتی ہاں اگر یہ ''غریب سیاستدان'' اپنی دولت میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر اور بات ہے اور یہ اضافہ کسی نہ کسی حد تک ہو ہی جاتا ہے، جو یہ نہیں کر پاتے وہ اکثر ان کی پہلی اور آخری جیت اور سیٹ بن جاتی ہے۔ہماری سیاسی جماعتیں بھی اسی اُصول پر عمل پیرا ہیں اور اپنے اثاثوں میں اضافہ کرتی جاتی ہیں تاکہ ممبران کی خرید و فروخت ، ووٹ کی خرید اری،عظیم الشان جلسوں کے انعقاد اور بریانی کی تقسیم میں استعمال ہوسکے اب ان تمام کاموں میں دھرنوں کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ سب کچھ اگرچہ سیاسی عمل کا حصہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک غریب ملک کے اندر یہ سب کچھ کیسے ممکن ہو جاتا ہے ان تمام اخراجات کا بندوبست کون کرتا ہے اور کیسے کرتا ہے کیا پارٹیاں اس سوال کا جواب دے سکتی ہیں۔ اب ایک اور دھرنا تیار ہے اور مولانا فضل الرحمٰن اپنے لاؤ لشکر کیساتھ آزادی مارچ کیلئے تیار ہیںاور پھر اسلام آباد کو مفلوج کر کے ایک غیرمعینہ مدت تک کیلئے دھرنے کا پروگرام ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ کسی جمہوری ملک میں عوام اور حزب اختلاف کا حق ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کر لے اور احتجاج بھی کرے لیکن سیاسی پارٹیوں کا بطور پارٹی بھی منی ٹریل ضروری ہے انہیں ان کے پرجوش کارکن ضرور چندہ دیں لیکن ان چندوں کا ریکارڈ بھی ضروری ہے تاکہ عوام با خبر رہیں کہ آخر پیسہ کہاں سے آیا اور کہاں جا رہاہے۔ اگر یہ چندہ بذریعہ بینک پارٹی اکاؤنٹس میں جمع کروائے جائیںاور یہ پارٹی اکاؤنٹ بھی دیگر تمام اکاؤنٹس کی طرح ہو جس پر وہ تمام قوانین لاگو ہوں جو کسی بھی عام شہری پر ہوتے ہیںاوریہ ضرور معلوم ہو کہ ان کے اکاؤنٹس میں پیسے کیسے جمع ہوتے ہیں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ چلئے مان لیاان کے پاس عوام کے چندے جمع ہوتے ہیں لیکن پھر انہیں خرچ کیسے کیا جاتا ہے آخر ان کا کوئی حساب لیا جاتا ہے یا نہیں اور کیا یہ بات بھی یقینی ہے کہ یہ سب چندے سے ہی ہوتا ہے جبکہ بہت ساری جماعتوں کے بارے میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ وہ بیرونی امداد وصول کرتے ہیں اور پھر اس پیسے سے ملک میں فساد پھیلایا جاتا ہے اور بہت سارے منظور پشتین، گلالئی اسماعیل اور برہمداغ بگٹی بھی پیدا ہوتے ہیں خیر یہ تو ملک دشمن عناصر ہیں اس لئے انہیںدیگر سیاسی جماعتوں سے تو نہیںملایا جا سکتا لیکن یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ آخر ذرائع آمدن اور وسائل کیا ہیں، سیا سی جماعتیںاپنی کامیابی کیلئے آخر اتنا پیسہ کہاں سے لاتی ہیں کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ انہیں پابند کیا جائے کہ انہیں بقول ان کے جتنے بھی چندے وصول ہوتے ہیں تو انہیں بینک کے ذریعے وصول کیا جائے تاکہ لینے اور دینے والے دونوں کا ریکارڈ رہے لیکن بظاہر ایسا اس لئے نہیں کیا جاتا کہ غیر مناسب ذرائع سے آنے والے پیسے کو چھپایا جاسکے بہرحال ہمیں اپنی سیاست پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے سیاست ضرور کی جائے لیکن اپنے جائز وسائل کے اندر رہ کر اور ملکی مفادات کو مدنظر رکھ کر۔ سیاسی جماعتیں اپنا مفاد اور مقصد تو حاصل کر لیتی ہیں لیکن اس کیلئے ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر بلکہ اس پر سمجھوتہ کرکے ایسا کیا جاتا ہے۔ دھرنے، جلسے سب اپنی جگہ اور اس کو اگر جمہوری انداز میں کیا جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن دھرنوں کی سیاست کے رواج پانے سے سیاسی اخراجات میں شدید اضافہ ہوا ہے اس اندازِ سیاست کو رائج کرنے والے پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کیخلاف ایک ایسا دھرنا تیار ہے جس کیلئے باقاعدہ جنگی تربیت اور ڈنڈا بردار وردی پوش فوج بھی تیا رکی گئی ہے۔ اب گھوم پھر کر پھر وہی سوال کہ اخراجات کیلئے روپیہ پیسہ کہاں سے آیا اور مہینوں کیلئے کھانے پینے کے بندوبست کیسے کیا جائے گا۔ مجھے اختلاف اختلاف سے نہیں میرا اختلاف طریقہء اختلاف سے ہے اور وسائل برائے اختلاف سے ہے اور میرا مطالبہ یعنی عوام پاکستان کا مطالبہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو بھی آڈٹ کا پابند کیا جائے ان سے پوچھا جائے اور بزور قانون پوچھا جائے کہ وہ آخر کہاں سے پیسہ لارہے ہیں اور اگر کوئی بیرونی قوتیں چاہے وہ بظاہر دوست ہوں ان پر بھی پابندی لگائی جائے انہیں روکا جائے اور اپنی ملکی سیاست میں ہر قسم کے بیرونی عناصر کو ختم کیا جائے اور ہر قسم کی ترسیل کا ریکارڈ رکھا بھی جائے اور عوام کے سامنے بھی لایا جائے کہ عوام اپنے سیاسی ہیروز اور لیڈروں کے بارے میں کسی خوش فہمی یا غلط فہمی کا شکار نہ رہیں اور انہیںپہچان سکیں اور یہ احساس بھی کر سکیں کہ دھرناچاہے جس بھی پارٹی کا ہو ان کے یعنی عوام کیلئے نہیں اپنے آپ کو ایوانِ حکومت تک پہنچانے کا ایک ذریعہ اور بہانہ ہے اور ان راہداریوں تک پہنچنے کے بعد کانوں سے محروم یہ لوگ عوام کے چندے، مفاد اور سہولت سب کچھ بھول کر اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں