Daily Mashriq

آزادی مارچ کرنے اور روکنے کی تیاریاں

آزادی مارچ کرنے اور روکنے کی تیاریاں

مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے سے دو زخی کا جو تاثر سامنے آتا رہا ہے اس کا اثر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد زائل ہوتا نظرآرہا ہے۔ قیادت کی سوچ کے زاویے مختلف ہونا فطری امر ہوتا ہے اختلافات حتمی اور فیصلہ کن فیصلے سے رو گردانی کو کہا جاتا ہے جس کی نوبت نہیں آئی ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنی حکمت عملی اور سوچ کو ایک مناسب وقت تک اخفاء میں رکھنے کی حکمت عملی اپنائی تھی یا پھر آمدہ دنوں میں ایسی صورتحال بھی سامنے آتی ہے جس سے لیگی قیادت کے دوشاخہ ہونے کا واضح اظہار ہو اس صورتحال سے قطع نظر لیگی قیادت کے اعلان کے بعد جے یو آئی کے آزادی مارچ کو پنجاب میں درکار حمایت حاصل ہوتی نظر آتی ہے جو حکومت کے لئے پریشانی کا باعث امر بن سکتا ہے۔ پنجاب سے تحریک انصاف کے دھرنے کو تقویت کے باعث مدد ملتی تو اس کے نتائج مختلف ہونے کا امکان تھا اس تناظر میں لیگی حمایت کی خاص طور پر اہمیت تھی حزب اختلاف کی جماعتوں کے روابط مربوط اور سیاسی جماعتوں کی یکساں سوچ کے باعث حکومت کی حکمت عملی موثر نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی فہرست کی تیاری جاری ہے مگر مذاکرات کا ہونا فی الوقت یقینی نہیں دوسری جانب آزادی مارچ کو اسلام آباد سے باہر روکنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں انتظامیہ کی حکمت عملی درست ہے کہ مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد میں داخل نہ ہونے دیا جائے البتہ ماضی میں ایک سو چھبیس دن ڈی چوک پر گزارنے والی حکومت کے پاس اس کا اخلاقی جواز نہیں مستزاد جبکہ خود وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ وہ مارچ سے خوفزدہ نہیں اسلام آباد سے باہر مارچ کو روکنے کے لئے اسلام آباد کو چاروں طرف سے سیل کرنا ہوگا جس سے پورا دارالحکومت محاصرے میں آسکتا ہے جس کافائدہ انتظامیہ سے زیادہ مارچ کے شرکاء کو ہوگا۔ علاوہ ازیں مارچ کے قائدین کے پاس دیگر راستوں اور پہلے سے جڑواں شہروں میں اپنے کارکنوں کو پہنچانے کا بھی آپشن موجود ہے۔ ہمارے تئیں اس صورتحال کو انتظامی طور پر اور طاقت کے ذریعے کنٹرول کرنا ہر گز بہتر حکمت عملی نہیں بلکہ اس سے حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عام آدمی بھی متاثر ہوگا۔ ملکی معیشت اور کاروبار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مارچ میں کتنی تعداد میں لوگوں کو لانے میں سیاسی جماعتوں کو کامیابی ہوتی ہے یہ سوال اپنی جگہ اہم ضرور ہے البتہ تیاریوں کی صورتحال اور سیاسی حمایت دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ افرادی قوت کی کمی نہ ہوگی۔ مارچ کے شرکاء اسلام آباد میں یا پھر اسلام آباد کے ارد گرد کتنے عرصے تک ٹھہریں گے اواس کی کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے اگرچہ یہ واضح نہیں لیکن مطلوبہ مقصد کے حصول تک ان کے احتجاج کے جاری رکھنے کا قوی امکان بہر حال اس لئے ہے کہ اتنی تیاریاں اور انتظامیہ کی جانب سے ان کو روکنے کی حکمت عملی مختصر مدت کی نظر نہیں آتی۔ سیاسی معاملات جب بھی حل ہوئے ہیں بالآخر مذاکرات کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہی حل ہوئے ہیں یہاں بھی بالآخر یہی فارمولہ ہی کار گر ہونا فطری امر ہوگا۔

اس طرح سے تویہ ہڑتال کبھی ختم نہیں ہوگی

خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان اختلافات کو تقریباً ایک ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے۔ ڈاکٹروں کے احتجاج و ہڑتال اور حکومت کے گرفتاریوں کا رد عمل دکھانے کے بعد دونوں فریق اب اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود فریقین میں مذاکرات اور احتجاج ختم کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ رابطے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی بعض سینئر ڈاکٹروں کے مصالحت کی کوششیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت اور ڈاکٹروں کو ہسپتالوں کے ویران اور عوام کے علاج معالجے سے محروم ہونے سے کوئی سروکار نہیں اور وہ اس کے لئے کسی درمیانی راستے پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حکومت ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرفی کی دھمکی تو دیتی ہے لیکن عملی طور پر حکومت اس ضمن میں بے بس اس لئے نظر آتی ہے کہ پورے صوبے کی ڈاکٹر برادری کے خلاف سخت اقدامات بچوں کاکھیل نہیں ڈاکٹروں نے گزشتہ ماہ کی تنخواہیں تو لے لی ہیں چونکہ انہوں نے اس ماہ ہسپتالوں میں کام اور عوام کی کوئی خدمت نہیں کی ہے اس لئے حکومت کو آمدہ ماہ کام پر نہ آنے والے ڈاکٹروں کی تنخواہیں قرق کرلینی چاہئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر آخری نہج پر پہنچ چکے ہیں اور ان کی واپسی کا بھی کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ حکومت بلا شبہ جے یو آئی (ف) کی قیادت میں حزب اختلاف کی آزادی مارچ کے جھمیلوں میں الجھی ضرور ہے لیکن اس احتجاج کے شروع ہونے تک ایک کم درجے کے احتجاج کو ختم نہ کرنے کی غلطی کر رہی ہے۔ حکومت اور ڈاکٹروں کا صورتحال جوں کے توں برقرار رکھنے میں حکومت کے لئے مشکلات اور عوامی تنقید میں اضافہ فطری امر ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت یا تو ڈاکٹروں کے مطالبات تسلیم کرلے جس کا امکان کم ہی ہے۔ دوسری صورت صوبائی حکومت کے پاس راست اقدام کی ہی رہ جاتی ہے جس میں اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ڈاکٹر تو تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے محاورے کے مصداق منتظر ہوں گے کہ ماہ رواں کے اختتام تک ملک کی سیاسی صورتحال کیا کروٹ لیتی ہے صوبائی حکومت کے پاس اس قسم کا کوئی آپشن نہیں اس لئے اس اونٹ کو کسی کروٹ بٹھا لینا ہی صوبائی حکومت کے حق میں بہتر ہوگا۔ حکومت کو اس ابتداً ہفتہ سے سخت اقدامات کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا تاخیر کی صورت میں شاید پھر حکومت کو جلد اس مسئلے کو نمٹاے کا موقع جلد نہ ملے۔ جاری سیاسی حالات میں کسی ممکنہ تصادم اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی معمول کی خدمات کے علاوہ اضافی خدمات کی ضرورت پیش آنے کا امکان دکھائی دیتا ہے جس کی کوئی تیاری نظر نہیں آتی۔ جہاں تک ڈاکٹر برادری کا سوال ہے ایک ہنر مند پیشے سے تعلق رکھنے کی بناء پر وہ معاشی طور پر اس حد تک مجبور نہیں کئے جاسکتے کہ وہ مجبوراً ہڑتال ختم کرکے ہسپتالوں کو واپس آئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس اپنی لیبارٹریز اور نجی کلینکس میں ہسپتالوں کے مریضوں کا معائنہ ، علاج اور آپریشن کررہے ہیں۔ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے اس صورتحال کا تدارک تو درکنار ابھی تک نوٹس لینے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی ہے۔ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت تحمل و برداشت کی پالیسی کی ناکامی کے بعد اب حرکت میں آئے اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے اور ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولت دوبارہ شروع ہوسکے۔

متعلقہ خبریں