Daily Mashriq


یہ کیا ماجرا ہے؟

یہ کیا ماجرا ہے؟

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے گزشتہ دنوں دئیے گئے اس بیان کی تائید کی جس میں کہا گیا تھا کہ اپنے گھر کی صفائی پہلے ہونی چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس حقیقت کے ادراک اور اعتراف کے بعد اب امریکہ سمیت دنیا کو کسی قسم کے شک و شبے کے اظہار اور الزام تراشی کا کوئی موقع باقی نہیں رہنا چاہئے۔ وزیر اعظم نے اس امر کا واضح اظہار کیا ہے کہ اپنی قومی مفادات کو پہلی ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے کھلے بیانات کے بعد وزیر اعظم کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں پاکستان کا موقف واضح کرنے میں دشواری نہیں ہوگی اور الزام تراشی کرنے والے عناصر کو بھی اس امر کا موقع نہیں ملے گا کہ وہ خواہ مخواہ پاکستان کو ناکردہ معاملات کے الزام پر بار بار مطعون کرسکیں۔ امر واقع یہ ہے کہ پاکستان از خود مشکوک سرگرمیوں کی حامل تنظیموں پر پابندیاں لگا چکا ہے اور ان کو کالعدم قرار دے دیاگیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ مگردہشت گردی سے سب سے زیادہ شکار ملک ہونے کے باوجود اور سب سے زیادہ قربانیاں دینے کے باوجود ہمیں ہی اس سے جوڑا جاتا ہے جبکہ مسلمانوں کو من حیث المجموع شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اولاً اپنے گھر کی صفائی کا بیان محض تسلی کے لئے ہے وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ جتنی صفائی اپنے گھر کی پاکستان میں ہوئی ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے جو ابہام اور غیر واضح صورتحال ہے اب وقت آگیا ہے کہ اس کا خاتمہ کیا جائے۔ وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ کی فعالیت کی ضرورت ویسے تو ہر وقت رہتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد اس کی ضرورت و اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ہمارے تئیں یہ ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری ہی ہے جس کے باعث دنیا کو ہماری دہشت گردی کے خلاف نا قابل فراموش قربانیوں کا احساس ہی نہیں ہو پاتا اور وہ ہمیں الٹا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے گردانتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں ہمارا ازلی دشمن پیش پیش ہے جو پاکستان کے خلاف سازشوں کا کوئی موقع کبھی جانے نہیں دیتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں ہمیں گھر کی صفائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہاں ہمارے لئے ایک جامع مربوط اور قومی امنگوں سے ہم آہنگ خارجہ پالیسی کی تیاری اور اس پر کار بند ہونے پر خاص طور پر توجہ دی جانی چاہئے۔ خارجہ پالیسی کی تشکیل میں سیاسی اور عسکری قیادت سبھی کی دانش غور و فکر اور نقطہ نظر کو اہمیت دینے کی حقیقت سے آنکھیں چرانے کی بجائے باہم مل بیٹھ کر مشترکہ اور قومی مفادات سے ہم آہنگ پالیسی وضع کرکے اس پر مکمل طور پر کار بند ہونے کی ضرورت ہے۔ اس امر سے کسی کو انکار نہیں کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی میں مختلف عوامل کا عمل دخل رہتا ہے جس کی وجہ سے ہماری خارجہ حکمت عملی متوازن خطوط پر استوار نہیں ہوئی۔ بہر حال مختلف نوعیت کے کرداروں کو اپنی اپنی جگہ حقیقت حال کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اجماع کی کیفیت پیدا ہو اور ہم بیرونی دنیا کے سامنے ہر وقت وضاحتیں دینے کی بجائے اپنا موقف سمجھانے اور منوانے کی پوزیشن میں آسکیں۔ جہاں تک گھر کی صفائی کا معاملہ ہے اس بیان کا وزیر اعظم کی جانب سے اعادے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی یہ اعتراف کس زمرے میں آتا ہے اور اسے کس زمرے میں لیا جائے گا۔ کیا ایسا کرکے ہم از خود دوسروں کے موقف کی تائید و تصدیق کا ارتکاب تو نہیں کر بیٹھے اس طرح کی حقیقت پسندی عملی طور پر ہونے کی مخالفت نہیں کی جاسکتی بلکہ احسن عمل قرار پائے گا مگر اغیار اسے کس تناظر میں لیں گے اور اسے خود ہماری صفوں میں دو عملی اور عدم آہنگی سے کہیں تعبیر نہ کیاجائے۔ ان تمام معاملات پر غور و حوض کی ضرورت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیاسی قیادت کے بقول ہمیں خود اپنے گھر کی صفائی کی ضرورت ہے تو اب تک جو ہوتا رہا ہے کیا یہ کافی نہیں اور وہ کون سے مقامات اور معاملات ہیں جہاں تطہیر کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ بہر حال ہمارے تئیں اغیار کا منہ تو بند نہیں کیا جاسکتا اور نہ یہ سازش اور پروپیگنڈہ کرنے والوں سے باز آنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ہمارے لئے ممکن یہی ہے کہ ملکی سطح پر ایک قوم اور ایک مٹھی ہو کر حالات کا مقابلہ کریں۔ اپنی کمزوریاں دور کرنے پر توجہ دیں اور ملکی و قومی مفادات کو سمجھیں اور اسی کو مقدم گردانیں۔ جب تک ہم داخلی طور پر ہم آہنگی کی منزل سے دور ہوں گے باہر سے آواز لگانے والوں کی صدائیں سنائی دیتی رہیں گی۔ جب ہم داخلی طور پر اطمینان بخش صورتحال کا حامل ملک بن جائیں تو باہر سے آنے والی آوازوں کا مدھم پڑنا فطری امر ہوگا۔ فیصلہ ہمیں خو د کرنا ہے اور فیصلے کی گھڑی آگئی ہے۔ ہمیں دنیا کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اپنے وجود و بقاء کی جنگ جیتنے کی پوری تیاری کرنی ہے۔

متعلقہ خبریں