Daily Mashriq

خوش آئند صورتحال

خوش آئند صورتحال

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا فرسودہ روایات کو ترک کرتے ہوئے پارلیمان جانے اور کسی بھی معاملے پر بریفنگ دینے کی پیشکش خوش آئند اور حوصلہ افزاء امر ہے جس سے سیاسی و عسکری قیادت میں بہتر روابط استوار ہونا فطری امر ہوگا ۔ آرمی چیف کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹیوں سے طے شدہ نصف ساعت کی ملاقات کا تین گھنٹوں پر محیط ہوجانا اس امر پر دال ہے کہ تبادلہ خیال کا عنصر بڑھا بھی ہے اور اس کی ضرورت بھی محسوس کی گئی ہے۔ آرمی چیف نے بعض ایسے معاملات پر بھی صراحت سے بات کرکے کئی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ۔ عسکری قیادت اور سیاسی قیادت کے درمیان کشاکشی تاثر سے پوری قوم کا مشوش ہونا فطری امر تھا۔ بہر حال اب آرمی چیف کی کسی ترجمان کی وساطت کے بغیر اور لگی لپٹی رکھے بغیر اس کی تردید سے معاملہ صاف اور واضح ہونا چاہئے جبکہ دوسری جانب سیاسی عناصر کو بھی اب اشاروں کنایوں سے اجتناب کی ضرورت ہے تاکہ ایک ناخوشگوار تاثر کا خاتمہ ہو اور اعتماد کی فضاء بڑھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمان کے بے وقعت ہونے کی جو شکایات چیئر مین سینیٹ رضا ربانی کی طرف سے آئی تھیں آرمی چیف کی پیشکش پر عملدرآمد کے بعد اس طرح کی شکایات اور تاثرات کا ازالہ ہونا فطری امر ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمان کو بے وقعت کرنے کی جتنی ذمہ داری خود سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے اتنی کسی اور پر عائد نہیں ہوتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ حالات سے ایک خوش آئند صورتحال کی نشاندہی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جہاں غلط فہمیوں کاخاتمہ ہوگا وہاں اداروں کا وقار بھی بڑھے گا۔
خطبات جمعہ کا نصاب
وفاقی وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال کی طرف سے خطبات جمعہ کے نصاب کی تیاری کاعندیہ ایک نئے تنازعہ کا سبب بن سکتا ہے الایہ کہ اس ضمن میں علمائے کرام کو اعتماد میں لے کراس کی ضرورت و اہمیت سے ان کو آگاہ کیا جائے۔ ہمارے تئیں سعودی عرب کی طرز پر ہمارے ہاں مساجد میں سرکاری کنٹرول میں اور سرکار کی منشاء کے مطابق نظام کا قیام مشکل امر ہے اور نہ ہی حکومت کے پاس اس قدر قوت نافذہ اور وسائل ہیں کہ وہ ملک بھر کے مساجد کے پیش اماموں او رعملے کو سرکاری ملازمت و مراعات دے کر ان کو سرکاری ملازمت میں لے سکے۔ حکومت اگر ایسا کرنے کی پوزیشن میں ہو تب بھی مساجد حکومت کے تعمیر کردہ نہیں اور نہ ہی مساجد کو سرکاری تحویل میں لیا جاسکتا ہے اس لئے سعودی طرز کی نقالی ممکن نہیں قطع نظر ان معاملات کے اگر دیکھا جائے تو ہمارے ہاں ان مساجد میں جہاں جید علمائے کرام مقرر ہیں وہاں کسی مداخلت کی اس لئے ضرورت نہیں کہ ان علمائے کرام کو اپنی ذمہ داریوں کا بخوبی علم ہے ان کی وعظ و نصیحت اور دروس شریعت کے عین مطابق ہیں۔ ان سے معاشرے میں اصلاح تو ممکن ہے فساد نہیں لیکن بعض ایسے مساجد ضرور موجود ہوں گے جہاں اس طرح کی صورتحال نہیں ہوتی بلکہ برعکس صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔ ان مساجد میں عموماً تعینات افراد کی اکثریت عالم دین کی شرط پر پوری نہیں اترتی۔ اگر وہ سندیافتہ ہوں بھی تو بھی ان کا طرز بیان مناسب اور نافع نہیں ہوتا جس کی وجہ سے منافرت اور فرقہ واریت کا خطرہ رہتا ہے۔ اپنے فقے اور مسلک کا بیان ہر عالم دین بخوبی کرتا ہے۔ صرف فرق اس بات کا ہوتا ہے کہ بعض جذبات میں حد سے گزر جاتے ہیں یہ عناصر بھی اپنی بات مناسب لب و لہجہ اور نفاق پیدا کئے بغیر کرنے لگیں تو معاشرے میں ہم آہنگی کی فضا متاثر نہ ہو۔ ہمارے تئیں ثانی الذکر نوعیت کے افراد کو تربیت کی ضرورت ہے۔ ان کو اس امر کا احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ان کا طرز عمل مناسب نہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے احسن طریقے سے کوئی لائحہ عمل مرتب کرکے اس کو مزاحمت اور مخالفت سے محفوظ رکھ کر مجموعی فلاح کے لئے نفاذ کی سعی سامنے آتی ہے تو فبہا لیکن اگر علاوہ ازیں کوئی صورت اختیار کی جاتی ہے تو اس سے قبل دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آئی ٹی اساتذہ کا مسئلہ حل کیا جائے
صوبائی حکومت کی جانب سے این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو مستقل کرنے کے اعلان کے باوجود این ٹی ایس ہی کے ذریعے بھرتی ہونے والے آئی ٹی اساتذہ کے کنٹریکٹ میں عدم توسیع کے بعد ان کی فراغت کا عندیہ ان اساتذہ کے لئے پریشانی کاباعث ہونا فطری امر ہے۔ تین سو آئی ٹی ٹیچرز کی فراغت سے صوبے کے تین سو سکولوں میں آئی ٹی کی تعلیم متاثر ہوگی اور ان کی جگہ اساتذہ بھرتی کرنے میں وقت لگے گا جس سے طالب علموں کی پڑھائی کا حرج ہوگا جبکہ یہ پہلے سے فرائض انجام دینے والے ان اساتذہ کی حق تلفی بھی ہوگی۔ بہتر ہوگا کہ حکومت ان کے مسئلے پر ہمدردانہ غور کرے او ران کے بارے میں لائحہ عمل کااعلان کیا جائے تاکہ ان کی بے چینی ختم ہو اور وہ یکسوئی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

اداریہ