Daily Mashriq

لاہور کے ضمنی انتخاب پر تبصرے

لاہور کے ضمنی انتخاب پر تبصرے

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے تو کسی اور پیرائے میں کہا تھا کہ پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ (اس موضوع پر بات کی جائے تو بہت دور تک جا سکتی ہے) لیکن بات ان کی عمومی طور پر ٹھیک ہے ۔ سب کو چاہیے کہ پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کریں۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے خواجہ آصف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف ایسے دوست ہوں تو دشمن کی ضرورت نہیں۔ پتہ نہیں کہ چوہدری نثار کو احساس تھا یا نہیں کہ اس تبصرہ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔سابق وزیر داخلہ کے مقابلے میں حاضر سروس وزیر داخلہ نے خواجہ صاحب کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹھیک کہا ہے۔ وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی نے بھی شاید اپنے ساتھیوں کی لاج رکھنے کے لیے کہا ہے کہ خواجہ آصف نے اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی بات ٹھیک ہی کہی تھی۔ خواجہ آصف کے بیان کی حمایت تو کی گئی ان کی بات پر عمل ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔ اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کا کم از کم مطلب یہ ہے کہ کسی موضوع پر متفقہ رائے قائم کی جائے اور اس کا اظہار کیاجائے۔ لاہور کے حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی امیدوار بیگم کلثوم نواز کی جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ جمہوریت جیتی ہے۔ لیکن وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ترقی کو فتح حاصل ہوئی ہے اور بیگم کلثوم نواز کے جیتنے سے ثابت ہوگیا ہے کہ نواز شریف کی قیادت ہی ترقی کی ضامن ہے۔ ان دونوں قائدین کو خواجہ آصف کی بات پر عمل کرتے ہوئے آپس میں یہ طے کر لینا چاہیے تھا کہ حلقہ این اے 120لاہور میں جیت جمہوریت کی ہوئی یا ترقی کی۔ جہاں تک ترقی کی بات ہے بیگم کلثوم نواز کی مدِمقابل ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا ہے کہ حلقے میں بیشتر ترقیاتی کام مسلم لیگ ن کی حکومت نے انتخابی مہم کے دوران کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی شیڈول کے اعلان کے چار روز بعد ٹینڈرجاری کیے گئے ۔ ان کا کہنا یا الزام یہ بھی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران حلقے میں ایک ارب روپے کے ترقیاتی کام کرائے گئے۔ انتخاب کے روز ایک میڈیا چینل کی رپورٹر نے یہ بھی کہا کہ یہ سڑک جس پر ہم کھڑے ہیں انتخاب کے دن سے صرف چار روز پہلے مکمل ہوئی۔ اب یہ معلوم کرنے کا کوئی معروف طریقہ نہیں ہے کہ حلقے کے لوگوں نے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے کلثوم نواز کو ووٹ دیے یا ان کی علالت کے باعث اظہارِ ہمدردی کی خاطر۔ لیکن اس میں ایک بات ضروری ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشدکے بیانات کی تصدیق کسی عدالتی ادارے سے کروا لی جائے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ٹیلی وژن پر یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کی سربراہ مریم نواز ووٹروں میں پیسے بانٹ رہی ہیں۔ الغرض وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر داخلہ احسن اقبال کو پہلے یہ آپس میں طے کر لینا چاہیے تھا کہ حلقہ این اے 120میں جمہوریت کو فتح حاصل ہوئی یا ترقی کو۔ 

پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان بھی اس بحث میں کود پڑے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کو 2013ء کے عام انتخابات کی نسبت 2017ء کے ضمنی انتخاب میں تیس ہزار ووٹ کم پڑنے کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ جیت گئی۔ سپریم کورٹ کو فریق کے طور پر پیش کرنا بھی توہینِ عدالت سمجھی جانی چاہیے۔ جج نہیں بولتے ججوں کے فیصلے بولتے ہیں اور وہی کچھ بولتے ہیں جو آئین اور قانون میں درج ہوتاہے۔انہی کالموں میں انتخاب سے چند دن پہلے یہ کہا گیا تھا کہ انتخاب کانتیجہ کچھ بھی نکلے اس سے سپریم کورٹ کافیصلہ متاثر نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ کافیصلہ پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ ہے۔ اگر اس کے تسلیم کیے جانے کو جیت کہا جا سکتا ہے تو یہ فیصلہ اسی روز تسلیم کر لیاگیاتھا جب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی اختیار کر لی تھی اور الیکشن کمیشن نے فیصلہ کے مطابق ان کی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ جہاں تک میاں نواز شریف کے راولپنڈی سے لاہور کے احتجاجی سفر میں شکوے شکایت اور اعلانات کی بات ہے وہ ان کے دل برداشتہ ہونے کی دلیل ہیں۔ انہوں نے لاہور پہنچنے کے بعد کسی انقلابی پروگرام کا اعلان نہیں کیایعنی فیصلے کو تسلیم کیا۔عمران خان پہلے بھی اس انتخاب کے حوالے سے کہتے رہے کہ عوام سپریم کورٹ کی حمایت میں آگے آئیں لیکن سپریم کورٹ پاکستان کے بیس کروڑ عوام کی سپریم کورٹ ہے اسے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت نہیں۔محترمہ کلثوم نواز کی انتخابی مہم کی آرگنائزر ان چیف مریم نواز نے یہ تو نہیں کہا کہ اس انتخاب میں بیگم کلثوم نواز کے علاوہ کسی کی جیت ہوئی البتہ انہوں نے جشن ِ فتح کی تقریر میں کہا کہ عوام نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر فیصلہ دے دیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بھی وہ کہتی رہی ہیں کہ وہ نواز شریف کی نااہلی پر نظرِثانی کی درخواست لے کر تاجروں کے اجتماع کے پاس آئی ہیں۔ لیکن کلثوم نواز کی جیت سے نہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی اثر پڑا ہے اور نہ نواز شریف کی ناہلی کے فیصلہ پر۔ یہ فیصلہ تسلیم کیاگیاتب ہی ضمنی انتخاب ہوا۔ دوسری بات مریم نواز نے یہ کی ہے کہ مسلم لیگ ن کے ووٹروں نے نادیدہ قوتوں کو شکست دے دی ہے ۔ اس کے ثبوت کے طور پر انہوں نے کہا کہ ہمارے تین کارکنوں کو انتخاب سے ایک دن پہلے نامعلوم لوگوں نے اغوا کیا۔ اس میں دو تین باتیں ہیں، صوبائی ، وفاقی امن وامان کے ذمہ دار اداروں، فوج اور رینجرز کی موجودگی کے باوجود یہ کیسے ممکن ہوا؟ اگر اغواکاروں کا مقصد ان تین کارکنوں کو انتخابی مہم سے الگ کرنا تھا تو انہیں انتخابی مہم کے آغاز میں اٹھایا جاتا۔ یا پھر یہ کوئی ایسے جادوگر تھے جن کے چھڑی گھمانے سے بیلٹ بکس اپنی مرضی کے امیدوار کے ووٹوں سے بھر سکتے تھے۔ ایک معاصر کی خبر ہے کہ مریم نواز نے جس ن لیگی کارکن کا نام اغواء ہونے والوں میں لیا تھا وہ گھر ہی میں موجود تھا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

اداریہ