Daily Mashriq

امریکہ اور بھارت کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

امریکہ اور بھارت کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

پچھلے ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افغانستان اور جنوبی ایشیاء پالیسی کا اعلان کیا جس میںپاکستان کے خلاف سخت زبان اختیار کرنے کے علاوہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو وارننگ بھی دی گئی کہ اگر پاکستان نے افغانستان میں حملے کرنے والے اور امریکیوں کو مارنے والے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں کو پناہ دینی کی اپنی پالیسی ترک نہ کی تو اسے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیوں کے علاوہ جنوبی ایشیاء اور افغانستان میں بھارت کے ساتھ امریکی شراکت داری بھی اس پالیسی کا حصہ تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر ہیں اور ان کی بات کو غور سے سناجانا چاہیے اور انتہائی احتیاط سے اس کا جواب دیا جانا چاہیے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتہائی نامعقول قسم کے انسان ہیں اور ان کے مضحکہ خیز بیانات اور حرکات پوری دنیاکے سامنے ہیں لیکن دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر ہونے کے ناطے ان کی نئی افغان پالیسی پاکستان کی آنکھوں سے پردہ ہٹانے کے لئے کافی ہونی چاہیے اور پاکستان کو اس بات کا اندازہ ہو جانا چاہیے کہ اگلے چار سالوں میں امریکہ کا پاکستان کے ساتھ رویہ کیسا ہوگا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے نظرچرانا ناممکن ہے اور جس کا جواب بھی انتہائی سوچ بچار کے بعد دیا جانا چاہیے۔ اپنی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے پاکستان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کئے ۔ ان کا کہنا تھا ''پاکستان میں دہشت گردتنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں کے بارے میں امریکہ مزیدخاموش نہیں رہے گا''۔ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران افغانستان سے امریکی انخلاء کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں اور اس حوالے سے بڑے بڑے دعوے بھی کرتے رہے ہیں لیکن صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد افغانستان کے بارے میں ان کے خیالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں جس میں سب سے بڑا ہاتھ امریکی اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔ اب پاکستان کو ٹرمپ کی اس پالیسی کا جواب روایتی اندا ز میں دینا ہوگا ۔ پاکستان کو امریکی سفارت کاروں کے نرم لہجے سے موم نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی امریکی جرنیلوں کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔پاکستان کو ایک خودمختیار ، آزاد اور ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے طور پران دھمکیوں اور الزامات کا جواب دینا ہوگا۔ یہاں پر ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ امریکہ سے اچھے تعلقات پاکستان کے لئے کیوں ضروری ہیں کیونکہ پاکستان میں ایسے کئی حلقے موجود ہیں جو جذبات میں آکر امریکہ سے تعلقات ختم کرنے کی بات کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کے بڑے تجارتی پارٹنرز میں سے ایک ہونے کے علاوہ بیرونی سرمائے کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈبنک اور دنیا کے دیگر بڑے مالیاتی ادارے امریکہ کے تابع دار ہیں جن سے پاکستان ہر وقت قرضے لیتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ پوری مغربی دنیا کا لیڈر بھی ہے۔ لیکن پاکستان کو امریکہ سے ڈرنا نہیں چاہیے اور نہ ہی وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جو کہ 9/11 کے بعداس وقت کے صدر پرویز مشرف نے اختیار کیا تھا۔ اگر پرویز مشرف اس وقت اپنے اعصاب پر قابو رکھتے تو شاید ہم آج دہشت گردی کے اس جہنم میں نہ ہوتے ۔دوسری جانب اگر امریکہ کے خلاف جارحانہ رویہ اپنانے کی بات کی جائے تو اس حوالے سے شمالی کوریا کے صدرکِم جونگ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ اکثر اوقات ہم یہ سوچتے ہیں کہ آخر شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان وجہِ تنازع کیا ہے؟ اگر یہ صرف ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا معاملہ ہے تو ایسے بہت سے ممالک ہیں جن کے ساتھ امریکہ ایسے موضوعات پر مذاکرات کرچکا ہے تو شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں کئے جاسکتے؟امریکہ کو چیلنج کرنے اور ہرانے کاصدرکم جونگ کا منصوبہ انتہائی بچگانہ اور غیر سنجیدہ ہے۔کیا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیلئے ایرانی صدر حسن روحانی کو رول ماڈل بنایا جاسکتا ہے ؟ اس حوالے سے صدر روحانی ایک اچھی مثال ہیں جو اپنے ملک کی طاقت اور کمزوریوں کو جانتے ہوئے مذاکرات کرتے ہیں اور اپنے ملک کا وقار بھی دائو پر نہیں لگاتے۔ بین الاقوامی مذاکرات کی بات کی جائے تو ایران کو تیل کے ساتھ ساتھ بہت سے حوالوں سے پاکستان پر فوقیت حاصل ہے لیکن پاکستان کے پاس بھی بہت سے ایسے ٹرمپ کارڈ موجود ہیں جنہیں موقع کی مناسبت سے استعمال کرنے سے ملکی وقار بچانے کے ساتھ ساتھ بہت سے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔سفارتی اور معاشی لحاظ سے آج ہم بھارت سے ہار چکے ہیں جس کا واضح ثبوت ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی ہے جس میں بھارت کو خطے میں امریکہ کا نیا اتحادی پیش کیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بنیادی طور پر ایک تاجر ہے جس کی آنکھ اس وقت بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت پر ہے۔ بھارت امریکہ سے اربوں ڈالر کی تجارت کرتا ہے اور افغانستان میں بھارت کو اہم کردار دینے کا مقصد اس تجارت کے منافع کا کچھ حصہ افغانستان کی تعمیر وترقی کے لئے خرچ کروانا ہے۔ پاکستان کو نہ صرف افغانستان میںبھارت کے کردار پر اعتراض کرنا چاہیے بلکہ پوری دنیا میں سفارتی سطح پر بھی بھارت کا ڈٹ کرمقابلہ کرنا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو امریکہ پر بھی یہ واضح کردینا چاہیے کہ اگر امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑتے ہوئے تھک چکا ہے تو پاکستان بھی امریکہ کااچھادوست یا بُرا دشمن بننے کے بدلتے ہوئے کرداروں سے اکتا چکا ہے۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ