Daily Mashriq


الوداع افتخار قیصر

الوداع افتخار قیصر

پروفیسر صبیح احمد نے ایک عرصہ سے قلم قبیلہ کے کسی بھی رحلت کرجانے والے فرد کی اطلاع کو بذریعہ ایس ایم ایس عام کرنے کا فریضہ سنبھال رکھا تھا۔ لیکن اس بار افتخار احمد تشنہ بھی ان کا ساتھ دینے لگے اور یوں ہمیں سترہ ستمبر 2017کی صبح یکے بعد دیگرے ان دونوں احباب کی جانب سے یہ افسوس ناک ایس ایم ایس پڑھنے کو ملا کہ افتخارقیصر رحلت کر گئے ہیں۔ ہم تک ان کی فوتگی کی خبر ایک دم یا اچانک نہیں پہنچی وہ ایک عرصہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلاتھے۔ اور افتخار تشنہ ہر لمحے ہر آن ان کی بیماری اور کسمپرسی کی حالت کی خبروں کے ایس ایم ایس بھیجنے کے علاوہ زبانی کلامی بھی سناتا رہا۔ بقول تشنہ وہ اکتوبر 2016ء کے دوران شوگرجیسے موذی مرض کے علاج کے لئے ہسپتال پہنچے ۔ انہیں کچھ افاقہ ہوا تو وہ اپنے گھر لوٹے ، لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق وہ کبھی اپنے گھر میں زیر علاج رہے اور کبھی ہسپتال میں داخل ہوکر علاج معالجے کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے ۔ وہ شوگر کے علاوہ گردوں کی بیماری میں بھی مبتلا تھے اور ان کو لاحق یہ جان لیوا بیماریاں ان کے اس جہان فانی سے رحلت کا باعث بنیں ۔ اب میں بولوں کہ نہ بولوں ' کا طنز آمیز جملہ افتخار قیصر کی ملک گیرپہچان کا باعث بن گیا تھا جس کو عام لوگوں کے علاوہ ملک کے بڑے بڑے ڈیموکریٹ اور بیورو کریٹ بھی از راہ تفنن طبع اپنی گفتگو میں استعمال کرنے لگے تھے۔ صدر پاکستان نے افتخار قیصر کو تمغہ حسن کار کردگی سے نوازاتھا ۔ اس حوالہ سے بیمار قیصر ہسپتال میں داخل کوئی عام مریض نہیں تھے۔ ان کا علاج لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بولٹن بلاک میں ہونا چاہئے تھا ۔ لیکن بیماری کے آخری ایام میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے عام سے وارڈ میں بھی ان کو لٹانے کے لئے بیڈ تک میسر نہ ہوسکا اور وہ ہسپتال کے بر آمدے یا چمن میں لٹائے گئے اور وہیں لیٹے لیٹے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔اس بات کو بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ افتخار قیصرایک اداکار اور پر گو شاعر ہونے کے علاوہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بلدیہ پشاور میں بلڈنگ انسپکٹر کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ جب کہ ان ہی دنوں راقم السطور کو بلدیہ پشاورکی نشتر میونسپل پبلک لائبریری میں کتاب دار یا پبلک لائبریرین کی حیثیت سے اپنے فرائض نبھانے کا اعزاز حاصل رہا تھا۔نشتر میونسپل پبلک لائبریری ہشتنگری دروازہ کے باہر جی ٹی روڈ پر کھڑی میونسپل کارپوریشن کی پر شکوہ عمارت میں قائم تھی۔ سال 1924ء کے دوران قائم ہونے والی یہ پبلک لائبریری اہلیان شہر پشاور کے علمی اور ادبی اثاثہ کے علاوہ اہل علم وادب کے لئے ان کے ذوق کی تواضع کے لئے ایک بیٹھک یا پلیٹ فارم کا کردار بھی ادا کرتی تھی۔ یہاں جسٹس کریم اللہ درانی سے لیکرڈاکٹر ظہور احمد اعوان تک جیسی علمی اور ادبی شخصیتیں کتب بینی کی پیاس بجھانے آتیں اور راقم السطو ر کو شرف ملاقات بخشنے کے علاوہ اپنی پر مغز اور یاد رہ جانے والی گفتگو کی شیرینی سے نوازتی رہتیں ۔

افتخار قیصر نے اپنے مشہور زمانہ اور رطب اللسان جملے ' اب میں بولوں کہ نہ بولوں ' کے کہنے کا آغاز پی ٹی وی پشاور سے نشر ہونے والے ہندکو کے مشہور مزاحیہ پروگرام ' دیکھدا جاندا رہ ' سے کیا تھا۔ جس میں وہ ہندکو کے چند بزرگ شعراء کی پیروڈی کرتے ہوئے کہتے '' ہونڑ میں بولاں کہ نہ بولاں'' جس کے جواب میں پس منظر سے آواز ابھر تی کہ '' بولو بولو'' اور یوں وہ اپنی لکھی ہوئی طنز اور مزاح بھری ہندکو حرفیوں کی چاشنیاں بکھیرنے لگتے۔ حرفی مکمل کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر اپنے سامعین سے پوچھتے '' ہونڑ میں سٹاں کہ نہ سٹاں '' جس کے جواب میں پس منظر سے آواز ابھرتی '' سٹو ، سٹو'' اور وہ کہتے '' سٹی سٹی'' یا '' آئی آئی'' اور یوں وہ ایک خاص انداز میں حرفیاں پڑھنے کاسلسلہ جاری رکھتے اور اپنے سننے اور دیکھنے والوں کو بے اختیار ہوکر قہقہے بکھیرنے پر مائل کردیتے ۔ افتخار اپنی حرفیوں کو میٹھی برفیوں سے بھی تشبیہ دیتے اور ہرحرفی کو مختلف ناموں سے یاد کرتے۔ مثلاً چوندی چوندی حرفی، کڑاکے دار حرفی، ظالم ذات حرفی، لچھے دار حرفی، وغیرہ۔ کہا جاتا ہے کہ افتخار قیصر نے اپنے سے انداز میں شعر خوانی کی تربیت عاشورہ محرم الحرام میں برپا ہونے والی مجالس اور محافل عزا ء کے دوران اپنی گھن گرج والی آواز میں مظلوم کرب و بلا اور انکے جانثاروں کی شان میںرجزیہ رباعیاں پڑھنے کے دوران حاصل کی تھی۔افتخارقیصر کی والدہ ماجدہ کا انتقال آج سے کم وبیش ایک سال پہلے ہوا تھا ۔ وہ ان کی آغوش شفقت میں پل کر جواں ہوئے تھے وہ انہیں آپا کہہ کر پکارتے تھے ۔ آپاکی فوتگی کے بعد بقول تشنہ وہ ایسے گرے کہ گر کر اٹھ نہ پائے ۔ نت نئی بیماریوں نے ان کو نرغے میں لے لیا ۔ وہ سسکتے اور تڑپتے رہے۔ کوئی بھی نہ تھا جو پرسان حال ہوتا جب سب دوست ساتھ چھوڑ گئے ، حکومتی ادارے خاموش ہوگئے تو انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہہ کر موت کو گلے لگا لیا۔اور پھر ہم نے دیکھا ، جب ان کا جنازہ اٹھنے لگا توکتنے دوست احباب اور یار بیلی تھے جو آپہنچے ان کو سپر د خاک کرنے کے لئے ۔اور پھر ہم نے دل کے کانوں سے سنا احمد ندیم قاسمی کو جو ہمارے نہاں خانہ دل کے کسی گوشے سے پکار پکار کر کہہ رہے تھے

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن

یہ الگ بات کے دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

متعلقہ خبریں