الفاظ کی قدروقیمت کا علم

الفاظ کی قدروقیمت کا علم

آپ نے سرکس میں لوہے کے تار پر چلتے ہوئے بازی گر کو ضرور دیکھا ہوگااس کے ایک ہاتھ میں خوبصورت رنگوں والی چھتری ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ اپنا توازن برقرار رکھتا ہے اگر توازن تھوڑا سا بھی بگڑ جائے تو وہ نیچے گر پڑے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے اسے دن میں تین چار مرتبہ لوہے کے تار پر چلنا ہوتا ہے وہ اپنی مشق کی وجہ سے اس فن میں یکتا ہوتا ہے زندگی گزارنا بھی لوہے کے تار پر چلنے کے مترادف ہے اگر زرا سا توازن بگڑ جائے تو اچھی بھلی زندگی کانٹوں کا بستر بن جاتی ہے یہی حال کالم نگاری کا بھی ہے روز کا لکھنا ہے بندہ کہاں تک لکھے جب ہمارے ذہن میں کوئی ڈھنگ کا موضوع نہیں آتا تو ہم کہتے ہیںچلو پشاور پر کچھ لکھتے ہیں پشاور کا نام ذہن میں آتے ہی اس کے ٹریفک جام کے مسائل نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں عاشق نامراد کے دل کی طرح خستہ حال سڑکیں منہ چڑانے لگتی ہیں جن پر دن بھر ہلکی بھاری گاڑیاں دوڑتی پھرتی ہیں اورجہاں کسی ڈرائیور نے زرا سی غفلت کا مظا ہرہ کیا الہ دین کے چراغ والے جن کی طرح ٹریفک کا سپاہی نمودار ہوجاتا ہے اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ آپکا استقبال کرتا ہے اس کی مسکراہٹ سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ جیسے کہہ رہا ہو کہاں بھاگے جاتے ہو بچہ جی ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں! آپ بھی اپنے ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہتے ہیں جناب ٹریفک بہت زیا دہ ہے بس زرا سی چوک ہوگئی ہے آئندہ احتیاط کریں گے تو سپاہی صاحب فرماتے ہیں کہ جناب پھر کے ساتھ پھر دیکھیں گے آپ ہمیں کونسا روز روز ملتے ہیںآج نصیبوں سے ہاتھ لگے ہیں اور پھر بڑی پھرتی سے پرچہ کاٹ دیا جاتا ہے پشاور میں دیکھنے اور دکھانے کا بہت کچھ ہے لیکن ہماری نظر صرف ٹریفک جام پر ہی پڑتی ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ پشاور کی آبادی بڑی تیزرفتاری سے بڑھ رہی ہے جب اس قسم کے مسائل پر نظر پڑتی ہے تو دھیان اپنے منجھے ہوئے سیاستدانوں کی طرف چلا جاتا ہے جو ہر الیکشن سے پہلے ہمیں سبز باغ دکھاتے رہتے ہیںاور ہم آنکھیں بند کرکے ان کی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں۔جب آپ خود دھوکہ کھانے پر تلے ہوئے ہوں تو دھوکہ دینے والے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا!لیکن اس سب کچھ کے باوجود ہمارے آپ کے کہنے سے کیا ہوتا ہے جب ہم سیاستدانوں سیاسی کارکنوںاور اپنے آپ سے مایوس ہوجاتے ہیں تو پھر ہمارے پاس صرف ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ کوئی ایسا کالم لکھا جائے جسے پڑھنے سے کچھ لوگ ایک آدھ اچھی بات ہی سیکھ جائیں اور اگر ان اچھی باتوں پر تھوڑا بہت عمل بھی ہو جائے تو ہم سمجھیں گے کہ ہماری محنت ٹھکانے لگ گئی ہے دوسروں سے گلہ شکوہ کرنے سے بہتر ہے کہ کوئی اچھی بات ہی اپنے قارئین سے شیئر کر لی جائے اس وقت چین کے مشہور و معروف فلسفی کنفیوشس کی ایک بات ذہن میںآرہی ہے عظیم لوگوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ان کی محفلوں میں موجود ہیںاور ان کے بے بہا تجربات سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیںکتاب دوستی کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ آپ اپنے وقت کے بہترین دماغ کے ساتھ محو کلام ہونے کا شرف حاصل کر رہے ہوتے ہیںکنفیوشس نے ایک دن اپنے شاگردوں سے سوال کیا کہ مجھے بتائو کہ تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ اس کے ایک شاگرد نے جواب دیا کہ میں شاندار گاڑیوں گھوڑوں اور شاندار ملبوسات کی خواہش رکھتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ یہ میرے پاس اتنی زیادہ ہوں کہ انہیں اپنے دوستوں میں تقسیم کر سکوں اور اگر وہ ان کو ضائع بھی کردیں تو مجھے اپنے دوستوں پر غصہ نہیں آئے گا اس کے دوسرے شاگرد نے کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں اپنی قابلیت کے حوالے سے بڑی بڑی باتیں نہ کروں مجھے ڈھینگیں مارنے والے شیخی خورے ایک آنکھ نہیں بھاتے جوں جوں میرے علم میں اضافہ ہوتا جائے میں مزید عاجزی اختیار کرتا چلا جائوں اور میرے اچھے اعمال کبھی بھی لوگوں پر ظاہر نہ ہوں! کنفیوشس نے اپنے شاگردوں کی باتیں بڑے غور سے سننے کے بعد کہا کہ میری خواہش کوئی پوچھے تو یہ ہے کہ میں بوڑھوں کو ہمیشہ تحفظ دے سکوں اپنے دوستوں کا ہمیشہ وفادار رہوں اور اپنے چھوٹوں سے ہمیشہ شفقت برتوںاس عظیم دانشور کے اقوال پڑھ کر ان سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے جب اس کے دوست اور شاگرد یو آن شیسن کو ایک بڑا عہدہ سونپا گیا تو اس کے معاوضے میں ملنے والے اناج کو اس نے لینے سے انکار کردیا وہ اپنے فرائض کو تنخواہ لیے بغیر ادا کرنا چاہتا تھا کنفیوشس نے اسے اس موقع پر مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تمہار ا یہ عذر بھی غلط ہے تم اپنی تنخواہ ضرور وصول کرو اور اپنے غریب پڑوسی کو دے دوکنفیوشس کا کہنا ہے کہ جو شخص سچائی سے زندگی بسر نہیں کرتا اور اس کے باوجود بھی وہ تباہ نہیں ہوتا تو وہ غیر معمولی طور پر خوش قسمت واقع ہوا ہے اگر گوشت کے بغیر صرف سبزی کھانا پڑے پینے کے لیے صرف پانی ملے سونے کے لیے تکیہ نہ ہو بلکہ اپنے بازو کو ہی تکیہ بنانا پڑے تو یہ حالت بہتر ہے اس دولت سے جو بے انصافی سے حا صل کی گئی ہوبڑا آدمی ہمیشہ اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کی شکایت کرتا رہتا ہے اس کا مطالبہ اپنی ذات سے ہوتا ہے چھوٹا آدمی دوسروں سے مطالبہ کرتا ہے جو انسان کے مقدر کی پہچان نہیں رکھتا وہ بڑا آدمی نہیں ہوسکتا وہ جو اخلاقی روایات اور رسوم کا خیال نہیں کرتا وہ زندگی میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کر سکتا وہ جسے الفاظ کی قدروقیمت کا علم نہیں وہ انسانوں کو کبھی نہیں پہچان سکتا!

اداریہ