کیا مسلم لیگ(ن) تصادم پر تلی بیٹھی ہے؟

کیا مسلم لیگ(ن) تصادم پر تلی بیٹھی ہے؟

مکرر عرض کئے دیتا ہوں این اے 120 لاہور کے ضمنی انتخابات میں نون لیگ کے پاس پوری ریاستی طاقت تھی۔ مرکز اور پنجاب میں اس کی حکومت ہے مریم نواز ہی ڈیفکٹیو وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔ شاہد خاقان عباسی میں مجال نہیں ''دم مارنے کی''۔ چچا شہباز شریف اپنی بھتیجی کی ہٹ دھرمی اور ٹکرائو کی پالیسی سے ناراض ہو کر انتخابی عمل کے دوران علاج کے بہانے لندن چلئے گئے تھے۔ دو تین دن ادھر جب غیور انعام بٹ نے مجھ سے کہا '' مرشد جی' مریم نوازمستقبل میں ہماری حسینہ واجد ہوگی'' تو مجھے کوئی حیرانی ہوئی نہ ملال۔ سیاسیات اور صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ان (مریم) کی تقاریر' انداز تکلم' طنز اور تحقیر بھرے جملوں کو سن رہا ہوں پچھلے کم از کم دو مہینوں سے۔ غصے اور نفرت سے بھری نواز شریف کی صاحبزادی کا بس نہیں چلتا کہ وہ پل بھر میں سب کچھ جلا کر راکھ کردے۔ پانامہ کیس کا فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے ایک معزز جج صاحب کے قریبی عزیز چند دن قبل کہہ رہے تھے '' دھمکیاں' گالیاں' الزامات اور کیا کیا نہیں سننے کو مل رہا ہمیں۔ خاندان کے بڑے سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ کسی اور دیس میںجا بسا جائے'' لاریب یہ جملے انہی کے ہیں ان کے درست ہونے پر مجھے کوئی شک نہیں۔ سال 1992ء میںجناب نواز شریف کی ماتحت ایک ایجنسی کی چند گھنٹوں کی مہمان نوازی یاد دلاتی رہتی ہے کہ در گزر شریف خاندان کی لغت میں نہیں ہے۔ وہ مخالف اور دشمن کو معاف نہیں کرتے۔ گھیرا تنگ کرتے ہیں۔ خریدنے کی کوشش' پھر کردار کشی اور دیگر ہتھکنڈے۔ 32 برسوں کی سیاسی حکمرانی انہی ہتھکنڈوں سے عبارت ہے۔ لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے پورے عمل میں نون لیگ نے سارے ہتھکنڈے آزمائے۔ملازمتیں' نقدی' دل جوئی' دھمکیاں' دو حکومتیں پشت پر کھڑی تھیں۔ الزام یہ اڑایا جا رہا تھا کہ پوری ریاست ان کے خلاف ہے۔ پھر جیت کیسے گئے؟ فقیر راحموں نے عشروں پہلے ایک رجعت پسندانہ منطق یاد دلائی۔ 1970'1977 اور 1988ء میں ہمارے کچھ رجعت پسند دوست انتخابی نتائج لے کر بیٹھ جاتے اور کہتے پیپلز پارٹی نے 37 سے 40فیصد ووٹ لئے اس کے مخالفین کے 60 سے 63 فیصد ووٹ بنتے ہیں۔ یوں پیپلز پارٹی اقلیت کی نمائندگی کرتی ہے۔ این اے 120کے نتائج کے حساب سے نون لیگ کے 61ہزار ووٹ ہیں مخالفوں کے مجموعی طور پر63 ہزار اور گھر سے نہ آنے والے ووٹروں کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے۔ یوں پرانے اسلامی صحافت کے درخشاں اصولوں کی روشنی میں آج نون لیگ بھی این اے 120 میں اقلیتی پارٹی ہے۔ کچھ الزامات بھی ہیں بندے غائب کرنے کے۔ ووٹروں کو ہراساں کرنے اور کچھ وہ جو لکھنے سے پرہیز کر رہا ہوں سادہ سا سوال مگر یہ ہے کہ اگر واقعتا پوری ریاست نون لیگ کی مخالف ہوتی تو وہ 15ہزار ووٹوں سے جیت پاتی؟ انتخابی نتائج میں کچھ خامیاں ہیں انہیں لے کر پی ٹی آئی عدالتوں کا رخ کرے گی۔ میلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ پچھلا کالم انتخابی نتائج کے چند گھنٹے بعد لکھا تھا کچھ غلطیاں سرزد ہوگئیں۔ مثلاً مولوی خادم کی پارٹی تیسری بڑی پارٹی کے طورپر ابھری اس حلقے میں۔ ملی لیگ والے چوتھے اور پیپلز پارٹی پانچویں نمبر پر ہے۔ بیگم کلثوم نواز اور محترمہ یاسمین راشد کے علاوہ سارے ہی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ انقلابی اب تیل فروخت کریں گے اور جیالے آرام۔ سیاست لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہے۔ 35 سال سے حکمران خاندان قومی اسمبلی کے آبائی حلقے میں کتنی مشکل سے جیتا یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خدا لگتی بات یہ ہے کہ اس ضمنی انتخاب سے عوامی جمہوریت کی کھڑکی کہیں نہیں کھلنے والی۔ ایک دوست دریافت کر رہے تھے۔ ہماری پارٹی (نون لیگ) اسٹیبلشمنٹ سے لڑ پائے گی؟ جواباً عرض کیا کتنی قید اور کوڑے آپ سہ سکتے ہیں۔ انہوں نے غصے سے دیکھا اور کہنے لگے تم جیسوں کا مسئلہ یہ کیا ہے کیوں ڈراتے رہتے ہو۔ معاف کیجئے گا سچ یہی ہے کہ عوامی جمہوریت قربانی مانگتی ہے۔ وہ سیاسی کلچر ہی نہیں اس ملک میں جو تحریک اٹھائے اسے فکری غذا فراہم کرے۔ این اے 120 میں دو حکومتوں نے تو جو انوسٹ کیا سو کیا نجی طور پر جن لوگوں نے نون لیگ کے کھاتے میں حصہ ڈالا ان کی پریشانی یہ ہے کہ میاں شہباز شریف اپنی بھتیجی سے ناراض ہیں اب ان کے کام کون کرے گا۔ آئندہ عام انتخابات سے قبل پنجاب میں چند معرکے اور ہونے ہیں۔ مریم نواز حکمت عملی بنا چکیں۔ کیا حکمت عملی ہے تفصیل سے کسی اور کالم میں عرض کروں گا۔ فی الوقت تو یہ کہ این اے120 کا انتخابی نتیجہ الیکشن کمیشن کے گلے پڑنے والا ہے۔ دو بنیادی وجوہات ہیں اولاً غیر تصدیق شدہ 29ہزار ووٹروں کامعاملہ ہے اور ثانیاً بائیو میٹرک سسٹم سے 100فیصد کی بجائے 88 فیصد رزلٹ ملنے کا پورا 12فیصد رزلٹ مشینوں نے نگل لیا۔ ذمہ دار کون ہے۔ فیصلہ کون کرے گا اور یہ کہ اگر بایو میٹرک سسٹم کا نتیجہ درست انداز میں 100فیصد مرتب نہیں ہو سکا تو اسے حتمی نتیجے میں شامل کرتے وقت محترمہ یاسمین راشد' فیصل میر اور شیخ یعقوب کی شکایات کو نظر انداز کیوں کیاگیا؟ بار دیگر عرض کروں گا کہ مسلم لیگ(ن) جس راستے پر چلنے کی خواہش مند ہے وہ راستہ لیگی سیاست اور مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مریم نواز کو ابھی سڑکوں کی سیاست کا تجربہ نہیں۔ بیچ سڑک پر استقامت کے ساتھ ڈٹ جانے والے کارکن وہ کہاں سے لائیں گی؟

اداریہ