مشرقیات

مشرقیات

امام تر مذی کے شیخ حجاز کا سفر کر رہے تھے' اس زمانے میں بادبانی جہاز ہوتے تھے' ہوا موافق ہوئی تو چل پڑے' مخالف ہوئی تو لنگر ڈال دیا' تو چھ چھ مہینے میں جا کر جدہ کے ساحل پر اترتے تھے۔ برس اور دو برس حج کرنے میں لگتے تھے تو امام ترمذی کے شیخ جہاز پر سوار ہوئے۔ ترمذی اور بہت سے تلامذہ بھی ساتھ سوار ہوگئے۔ جہاز میں مدت کافی لگتی تھی اس لئے یہ ارادہ کیا کہ شیخ سے عرض کریں کہ آپ احادیث کا املاء کرائیں' ہمارا یہ وقت حدیثوں کے سننے اور لکھنے میںکٹے۔ امام ترمذی کے استاذ نے اس کو مان لیا اور کہا کہ کل سے ایک وقت مقرر کر لو تاکہ میں حدیثیں املاء کرائوں۔
امام ترمذی کے پاس نہ کاغذ تھا نہ قلم و دوات۔ اب انہوں نے سوچا کہ اگر میں مجلس میں بلا کاغذ اور قلم دوات کے گیا تو مجھے اٹھا دیاجائے گا۔ یہ بات حدیث اور املاء کے خلاف ہے۔ اس لئے سب سے پیچھے بیٹھ گئے اور اپنا ایک گھٹنا کھڑا کرکے اپنا ہاتھ سامنے رکھتے اور دوسرے ہاتھ کو حرکت دیتے رہے تاکہ شیخ یوں سمجھیں کہ لکھ رہے ہیں اور مجلس سے نہ اٹھائے جائیں۔ تیس چالیس روز اسی طرح گزر گئے اور ہر دن میں دس دس بیس بیس حدیثیں ہوتی تھیں۔
ایک روز شیخ نے گردن اٹھائی اور دیکھا کہ امام ترمذی کے پاس نہ کاغذ نہ قلم۔ فرمایا یہ کیا حرکت ہے؟ کاغذ ہے؟ عرض کیا نہیں ہے' فرمایا قلم ہے؟ عرض کیا نہیں' پھر یہ کیاحرکت ہے؟ عرض کیا:میں اس لئے ایسا کرتا تھا تاکہ آپ یہ سمجھیں گے کہ اس کے پاس کاغذ قلم نہیں ہے اس لئے مجلس سے اٹھا دیں گے تو میں اپنے کو بصورت کاتب نمایاںکرتا تھا کہ میں بھی لکھ رہا ہوں۔
شیخ کو غصہ آیا' فرمایا تم نے میری محنت اکارت کردی تم درس میںمت بیٹھو۔ انہوں نے عرض کیا' حضرت! محنت اکارت نہیں ہوئی' مجھے خدا کاشکر ہے کہ وہ ساری روایتیں حفظ یاد ہیں'اب ان کو ترتیب وار پڑھنا شروع کیا کہ پہلی تاریخ میں آپ نے یہ حدیثیں مع اس سند کے بیان کیں۔ دوسری تاریخ میں یہ بیان کیں اور ان کی سند یہ ہے۔ تیسرے دن آپ نے یہ حدیثیں بیان کیں اور ان کی سند یہ ہے۔ اتنے روز میں جتنی روایتیں املا کرائی تھیں وہ ساری امام ترمذی نے سنا دیں تو شیخ نے ان کے حافظے پر اعتماد فرمایا اور اجازت دے دی کہ تم میرے درس میں بیٹھ سکتے ہو۔ تو یہ محیر العقول حافظہ نہیں تھا تو اور کیا تھا؟ (وعظ عناصر سیرت جلد پنجم)
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم میں زیادہ عورتوں کو دیکھا ہے۔
لوگوں نے کہا یہ کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شوہر کی ناشکری کی وجہ سے۔ ان کے احسان کی نا شکری کرتی ہیں کہ تم پوری زندگی احسان کرتے رہو' پھر تم سے کوئی (ناراضگی والی) بات ہو جائے تو کہہ دیںگے میں نے ان سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔

متعلقہ خبریں