Daily Mashriq

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے عوام کو ریلیف دینے کی زیادہ توقع اس لئے نہیں کی جاسکتی کہ معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے لیکن جو دعوے وزیر خزانہ حکومت ملنے سے قبل کرتے رہے تھے اس سے عوام کی طرف سے امیدیں وابستہ کرلینا عجب نہ تھا۔ معاشی حالات اور معاشی صورتحال کو دعوئوں سے نہیں عملی اقدامات سے بہتر کرنا ممکن ہوتاہے کسی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہوتی کہ وہ چھڑی گھمائے اور مسائل حل ہوں۔ گزشتہ حکومت کے منظور کردہ بجٹ کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے جو نیا منی بجٹ لایاگیا ہے اس کے حقیقت پسندانہ ہونے کا عقدہ تو بعد میں کھلے گا فی الوقت بعض رعایتیں ضرور دی گئی ہیں۔ منی بجٹ میں بعض ٹیکس رعایتیں دی گئی ہیں جبکہ بعض چیزوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد کردہ ٹیکس میں 100ارب روپے کی کمی کی جا رہی ہے۔اس طرح سے وزیر خزانہ نے حکومت میں آنے سے پہلے عوام سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کیا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس ٹیکس کی کمی سے پٹرول یا ڈیزل وغیرہ کی قیمت پر فوری طور پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔جبکہ اس کے ساتھ ہی یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے اضافہ کرسکتی ہے جو ناقابل یقین ہونے کے باوجود تشویشناک ہے۔ بہر حال یہ بات تو طے ہے کہ حکومت بالآخر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے گی۔ماہرین کے مطابق ٹیکس کی کمی اس وقت کارآمد ہو گی جب پٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمت میں ایک حد سے زیادہ اضافہ ہو جائے۔اس طرح سے یہ ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے والا معاملہ ٹھہرتا ہے۔کسی بھی حکومتی اقدامات کی حقیقت سامنے آنے میں وقت لگتا ہے بجٹ اعداد و شمار اور چالبازیوں کا ایسا گورکھ دھندہ ہوتا ہے کہ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ کے مصداق ٹھہرتا ہے۔ اس لئے جن مراعات کا اعلان کیاگیا ہے ان مراعات سے عوام کو کتنا ریلیف ملتا ہے اور حکومت نے آمدن بڑھانے کے جو اہداف مقرر کر رکھے ہیں وہ کیسے پورے ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت جلد ہی عوام پر منکشف ہوگی۔ وزیر خزانہ کا بغیر ٹیکس لگائے ایک سوتراسی ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل کرنے کے دعوے کا اگر نصف بھی پورا ہو تو ان کی معاشی پالیسیوں کا معترف ہونا پڑے گا۔

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم

ماہ محرم الحرام ہمیں جہاں ایک طرف حضرت امام حسینؓاور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے وہاں ہمیں یہ درس بھی دیتا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی سچ‘ جھوٹ‘ نیکی اور بدی‘ خیر و شر اور حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی ہوتی ہے وہاں بالآخر فتح حق و سچ‘ نیکی اور صداقت کی ہوتی ہے اور بظاہر کامیابی کے باوجود شکست ہمیشہ برائی اور طاغوتی قوتوں ہی کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ تاریخ کے اوراق ایسے ابواب سے بھرے پڑے ہیں جہاں برائی کی قوتیں اچھائی کی طاقت کے بالمقابل آکر اس سے نبرد آزما ہوجاتی ہیں۔ کبھی تیرگی روشنی کے سامنے‘ کبھی آمریت جمہوریت کے آگے اور کبھی بربریت انسانیت کے بالمقابل، اس طرح کے معرکوں میں کبھی کبھی یوں محسوس ہوتاہے کہ شاید برائی کی نمائندگی کرنے والی قوتیں وقتی طور پر غالب آگئی ہیں لیکن تاریخ کی گواہی یہی ہے کہ دنیا میں اگر کسی شے کو دوام اور ثبات حاصل ہے تو وہ نیکی اور اچھائی کی حامل قوتوں کو ہے۔ اسلامی تاریخ میں داستان حرم کی تمام تر دلکشی اور سادگی جس کی ابتداء حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہوئی اسے اپنی ممکنہ بلندیوں اور انتہائوں تک پہنچانے والے سید الشہداء حضرت امام حسینؓ ہی تھے۔ دنیا میں جہاں کبھی جبر و استبداد‘ استحصال اور مطلق العنانیت سے تنگ آئے ہوئے افتادگان خاک حریت کا علم بلند کرتے ہیں تو ان کے ڈگمگاتے قدموں کو امام حسینؓ کے پائے استقامت سے حوصلہ ملتا ہے۔ پسماندہ او رغریب ملکوں میں ابھرنے والی آزادی کی تحریکیں اگر انتشار کا شکار ہو کرٹوٹنے پھوٹنے لگیں تو کربلا کے شہیدوں کی دکھائی اور سکھائی ہوئی یکجہتی اور اتحاد ان تحریکوں کی شیرازہ بندی کرتاہے۔ واقعہ کربلا کا تقاضا ہے کہ ہر کلمہ گو ہاتھ سے روکنے‘ زبان سے مخالفت اور دل سے برا جاننے کے تین درجوں کے ایمان میں سے کسی ایک درجے کے ایمان کا مظاہرہ کرے۔ کربلا میں عظیم قربانی جس ہستی نے دی ہے اس کی تقلید کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ سطحی قسم کے کردار کی جگہ پر حق و باطل کی لڑائی میں پیروکاران حق کے ہاتھ مضبوط کریں۔ اسلامی تاریخ کامطالعہ کریں تو عاشورہ صرف غم حسینؓ اور یاد کربلا سے عبارت نہیں بلکہ اس دن کی اہمیت کی اور وجوہ بھی ہیں ان کی رعایت کا بھی پورا پورا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں