Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

کسی شخص کی نیکی اور دینداری کا صحیح اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ لوگوں کیساتھ اس کا سلوک کیسا ہے؟ امیرالمومنین فی الحدیث حضرت ابن مبارکؒ ہر ایک کے کام آتے اور اپنے پرائے کا خیال کئے بغیر ہر ایک کیساتھ اچھا سلوک فرماتے۔ وہ غیروں پر اپنی دولت اس طرح لٹاتے کہ کوئی اپنوں پر بھی کیا لٹائے گا۔

حج کیلئے تو ہر سال جاتے ہی تھے بہت سے لوگ بھی آپ کی صحبت سے فیض اُٹھانے کی غرض سے آپ کیساتھ ہو لیتے۔ سفر پر جاتے ہوئے آپؒ صرف اپنے ہی کھانے کا انتظام نہ کرتے بلکہ اپنے ساتھیوں کیلئے بھی کھانے پینے کا انتظام کرکے چلتے۔ ایک سال تو لوگوں نے یہ دیکھا کہ ان کیساتھ دو اونٹوں پر صرف بھنی ہوئی مرغیاں لدی ہوئی تھیں۔ آپؒ شام کے سفر پر اکثر جایا کرتے تھے۔ راستہ میں رقہ کے مقام پر ایک سرائے پڑتی تھی۔ ہمیشہ وہاں ٹھہرتے۔ سرائے میں ایک نوجوان آدمی تھا۔ وہ جی جان سے آپؒ کی خدمت کرتا اور آپؒ سے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حدیثیں بڑے شوق سے سیکھتا۔ آپ بھی بڑی محبت سے اس کو سکھاتے اور خوش ہوتے۔

ایک بار ایسا ہوا کہ آپؒ سرائے میں پہنچے تو وہ نوجوان نظر نہیں آیا۔ آپؒ کو فکر ہوئی‘ پوچھا تو معلوم ہوا کہ گرفتار ہوگیا ہے۔ آپ کو بہت صدمہ ہوا۔ وجہ معلوم کی تو لوگوں نے بتایا کہ اس پر ایک آدمی کا قرضہ تھا۔ قرضہ بہت زیادہ تھا۔ قرض والا تقاضا کرتا اور اس کے پاس دینے کیلئے کچھ تھا نہیں۔ اس لئے اس آدمی نے اس کو پکڑوا دیا۔ آپؒ تلاش کرتے کرتے اس شخص کے پاس پہنچے جس کا قرضہ تھا۔ اس سے تنہائی میں فرمایا تمہارا کتنا قرضہ ہے؟ تم قرضہ کی ساری رقم مجھ سے لے لو اور اس نوجوان کو رہا کرادو۔ اس سے قسم لے لی کہ کسی کو یہ بات بتائے نہیں۔ وہ شخص خوشی خوشی راضی ہوگیا۔

آپؒ نے اس کو رقم دی اور اسی وقت وہاں سے روانہ ہوگئے۔ جب وہ نوجوان چھوٹ کر سرائے میں آیا تو اسے معلوم ہوا کہ حضرت ابن مبارکؒ آئے تھے اور اس کا پوچھ رہے تھے۔ نوجوان کو نہ ملنے کا بہت افسوس ہوا اور دل میں ٹھانی کہ جیسے بھی ہو حضرت سے ملنا چاہئے چنانچہ فوراً وہاں سے روانہ ہوا۔ تلاش کرتا کرتا کئی دن سفر کے بعد حضرت کی خدمت میں پہنچا۔ حضرت بہت خوش ہوئے اور حالات معلوم کئے۔ نوجوان نے اپنی ساری آپ بیتی سنائی اور یہ بھی بتایا کہ سرائے میں خدا کا کوئی بندہ آیا تھا اس نے چپکے سے میری طرف سے رقم ادا کر دی اور میں چھوٹ گیا۔ معلوم نہیں کون تھا؟ میرے دل سے ہر وقت اس کیلئے دعائیں نکلتی ہیں۔

حضرت نے فرمایا خدا کا شکر ہے کہ تم نے مصیبت سے نجات پائی۔ جب حضرت ابن مبارکؒ کا انتقال ہوا تو اس شخص کو یہی راز لوگوں نے بتایا کہ وہ رقم ادا کرنے والے حضرت ابن مبارکؒ تھے۔

(بحوالہ: سخی لوگ)

متعلقہ خبریں