Daily Mashriq

ٹیکسوں اور مہنگائی کا سیلاب

ٹیکسوں اور مہنگائی کا سیلاب

آئندہ 9 ماہ کیلئے پیش کئے گئے ضمنی بجٹ میں مجموعی طور پر 183 ارب روپے کے ٹیکس شامل ہیں۔ 5 ہزار سے زیادہ اشیاء پر ایک فیصد ٹیکس ڈیوٹی نافذ کی گئی ہے۔ سگریٹ‘ موبائل فونز‘ مشروبات‘ زیتون‘ منرل واٹر‘ پرفیوم یہاں تک کہ ماچس بھی مہنگی ہوگی۔ نان فائلر کے بنک سے یومیہ 50 ہزار روپے نکلوانے پر 600 روپے ٹیکس لگے گا۔ نان فائلر 50 لاکھ روپے تک کی جائیداد خرید سکیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کہتے ہیں بڑے فیصلے نہ کرتے تو حالات بے قابو ہوتے۔ ضمنی بجٹ پیش کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں انہوں نے کہا برآمدی شعبہ کو 5ارب کا ریلیف دیا گیا ہے۔ وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ گورنرز‘ وفاقی وزراء کا ٹیکس استثنیٰ ختم کر دیا گیا۔ بجٹ خسارے کی حد 52فیصد مقرر کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سابق حکومت کا بجٹ حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔ ادھر سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ گیس سیکٹر میں 100ارب کے خسارے کا دعویٰ غلط ہے۔ ضمنی بجٹ میں ترقیاتی بجٹ میں 305ارب روپے کی کٹوتی کی تجویز رکھی گئی ہے۔ وزیرخزانہ کہتے ہیں سی پیک منصوبے جاری رہیں گے۔ ای او بی آئی پنشن کی حد 10ہزار روپے مقرر کر دی‘ ایوان بالا سینیٹ میں گیس کی قیمتوں میں اضافے اور ضمنی بجٹ پر اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

ضمنی بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ اس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا۔ حکومت نے مراعات یافتہ طبقے پر مزید ٹیکس عائد کئے ہیں۔ ’’اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا‘‘۔

ضمنی بجٹ دو جمع دو کا نسخہ کیمیا ہرگز نہیں نئے ٹیکسوں کا سیلاب ہے اور ماہر معاشیات جناب اسد عمر اس قدر فہم کے حامل تو ہوں گے ہی کہ انہیں یہ بات سمجھ میں آسکے کہ سیلاب اپنے راستے کی ہر چیز کو متاثر کرتا ہے اس لئے یہ کہنا کہ عام آدمی متاثر نہیں ہوگا درست نہیں۔ جن 5ہزار اشیاء پر ایک فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ان کی طبقاتی تقسیم کیسے ہوگی کیونکر علم ہوگا فلاں چیز ثاقب حجام استعمال کرتا ہے اور فلاں چیز سردار قمند؟ ایک انقلابی اصلاحات کا ایجنڈا لئے ایوان اقتدار میں داخل ہونیوالی جماعت نے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور معیار زندگی بہتر بنانے کے بلند وبانگ دعوے کئے تھے۔ ضمنی بجٹ نے ان دعوؤں کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے۔ اس ملک کا بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ پالیسی ساز اور معیشت دان عام آدمی کی ضرورت کو سمجھتے ہیں نہ ان مسائل کو کہ جن سے نچلے طبقات کا صبح شام واسطہ پڑتا ہے۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ارکان پارلیمان، صدر، وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، وفاقی وصوبائی کابیناؤں کی تنخواہوں اور مراعات میں کمی کی جاتی۔ سرمایہ دار طبقے اور ٹیکس حکام کی ملی بھگت سے ٹیکس چوری کرنے کے سلسلے کو روکنے کیلئے اقدامات کئے جاتے۔ غیر ترقیاتی اخراجات اور دیگر مدوں میں کٹوتیاں ہوتیں لیکن یہاں الٹ کام ہوا۔ ترقیاتی بجٹ پر چھری چلی اور 305ارب روپے کم کر دئیے گئے۔ سی پیک منصوبے جاری رہنے کی نوید تو سنا دی گئی لیکن اپنے وعدوں کے مؤجب عوام کو یہ نہیں بتایا کہ سی پیک منصوبوں کیلئے چین سے لئے گئے قرضوں پر شرح سود کیا ہے؟ کیا وزیرخزانہ اس امر سے لاعلم ہیں کہ سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافے اور 183ارب روپے کے نئے ٹیکسوں سے مہنگائی کا نیا طوفان نچلے‘ کچلے ہوئے طبقات اور تنخواہ داروں کے دروازوں پر دستک دے گا؟۔ بلاشبہ بہت ساری اشیاء ایسی ہیں جن پر ٹیکس لگنے چاہئے تھے مگر زیادہ تر اشیاء وہ ہیں جو روزمرہ ضرورت کی اشیاء میں شامل ہیں۔ تنخواہ دار طبقے کی آمدنی کی سالانہ حد کے مختلف درجوں پر فکس ٹیکس بجا ہے لیکن یہ بھی تو بتایا جائے کہ وہ جو ماچس سے پٹرول اور اشیائے خوردنی سے بجلی تک کے نرخوں پر اضافی ٹیکس ہیں وہ کیا ہیں۔

ضمنی بجٹ پر نظرثانی ہونی چاہئے۔ مثلاً پنشن کی کم سے کم شرح 10ہزار سے بڑھا کر 20ہزار کی جانی چاہئے اس طرح کم سے کم تنخواہ کی شرح 25ہزار روپے مقرر ہونی چاہئے۔ امید ہے کہ ضمنی بجٹ کی پارلیمان سے منظوری سے قبل اس پر نظرثانی کرکے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن نہ ہو۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جناب اسد عمر پچھلے دور حکومت میں تقریباً روزانہ کسی ٹی وی چینل پر ہمیں یہ سمجھاتے تھے کہ نون لیگ کی حکومت کے معیشت دان نااہل ہیں۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ مالیاتی نظم وضبط کیا ہوتا ہے اور کیسے ترقی کی شاہراہ پر 140میل کی رفتار سے بھاگا جا سکتا ہے مگر آج جب وہ خود وزیرخزانہ ہیں تو ان کے پیش کردہ ضمنی بجٹ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ترقی کی شاہراہ والی باتیں خواب فروشی کے سوا کچھ نہیں تھیں۔ ٹیکسوں کی بھرمار سے پیدا ہونے والے مسائل پر کون اور کیسے قابو پائے گا؟ اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ محض لتے لینے کی بجائے ٹھوس تجاویز دے اور حکومت کو قائل کرے کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق عوام کو سہولتیں دے۔ اشرافیہ سے وصولی کرے۔ حب الوطنی بھرشٹ ہونے کا فتویٰ جاری نہ ہو تو عرض کروں کہ سابقہ حکومت کا دفاعی بجٹ درست اور دیگر مدوں کے مالیاتی فیصلے نامناسب کیسے ہوں گے؟ اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور اس کیساتھ ساتھ اس بات پر بھی کہ مہنگائی اور مسائل کے بوجھ تلے سسکتے شہریوں کی فریاد کون سنے گا۔ تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے ابھی ایک ماہ ہوا ہے کیا جناب عمران خان اس امر پر غور کرنے کی زحمت کریں گے کہ جن مالیاتی ماہرین نے ضمنی بجٹ تیار کیا وہ چاہتے کیا تھے۔ حکومت کی ساکھ کو بہتر بنانا یا پھر عوام اور حکومت میں دوریاں پیداکرنا؟ گو اس امر پر غور کی امید تو نہیں پھر بھی متوجہ کرنا ضروری تھا۔ آخری بات یہ ہے کہ وہ ٹیکس اصلاحات کا پروگرام کیا ہوا کہ سب کچھ ون ونڈو ہوگا۔ مکرر عرض ہے غیر ترقیاتی مدوں سے کٹوتی کی جائے‘ سرکاری اخراجات میں کمی۔ وہ کیسے ہوگی یہ بالائی سطور میں عرض کرچکا۔

متعلقہ خبریں