Daily Mashriq

یکساں نظام تعلیم اور مدارس کا قضیہ

یکساں نظام تعلیم اور مدارس کا قضیہ

مسلمانوں کے ہاں ایک زمانہ ضرور ایسا گزرا ہے جب اُن کا نظام تعلیم نہ یکساں تھا بلکہ بامقصد اور عصری تقاضوں کے مطابق تھا۔ خاتم النبیینؐکے دور مبارک سے لیکر خلفائے راشدین اور تابعین کے ادوار تک ایک ہی نظام تعلیم تھا جوقرآن وحدیث کی بنیادوں پر قائم تھا ۔ عباسیوں کے دور میں یونانی فلاسفہ کے فلسفے ، منطق اور میتھالوجی وغیرہ کی در آمد نے پہلی دفعہ مسلمانوں کے نظام تعلیم میں نہ صرف تبدیلیاں پیدا کیں بلکہ مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کے اذہان وافکار میں ایک طوفانی اور ہیجانی انقلاب بھی پیدا کیا لیکن اس کے باوجود مدارس کا نصاب اور نظام ایک طویل زمانے تک غالب رہا۔ نظام الملک طوسی سے لیکر عثمانیوں تک مدارس کا نظام تعلیم تقریباً اس لحاظ سے ایک ہی رہا ہے کہ اس کی بنیادیں قرآن و سنت ہی پر مبنی تھیں۔ عثمانی خلافت جب زوال پذیر ہونے لگی اور وہاں یورپی تہذیب وفکر کے اثرات غالب آنے لگے تو وہاں کے مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کو ایک سطح پر اور عصری ضروریات کے مطابق لانے کے مراحل میں قدیم روایات اور جدید ضروریات کے درمیان بڑی کشمکش رہی۔ جدید علوم وفنون سے استفادہ کی بہترین اور متوازن دعوت اور جدید و قدیم کو موزوں انداز میں ملانے کا فارمولا ترکی کے نامور مفکر نامق کمال نے اپنے مضامین میں پیش کیا۔ نامق کمال نے مغرب سے ترقی کے حصول کیلئے ضروری علوم کے حصول کیساتھ اسلامی اور قومی عناصر پر بھی زور دیا۔ نامق کمال نے معاشرہ کی اخلاقی اور قانونی بنیادوں کو اسلام کے لوازمات میں شمار کیا اور ریاستی امور میں عثمانی روایات، متعدد قومیتوں اور متعدد مذاہب کے درمیان رواداری کی آفاقی پالیسی کو سیاسی ڈھانچہ کی بنیاد بتایا اور مغربی تہذیب کے وہ مادی اور علمی طریقے اور اسلوب سیکھنے پر زور دیا جس سے اس نظام کی طاقت اور معاشی ترقی وابستہ ہے۔ ترکی میں تنظیمات کے نظام تعلیم کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ان تینوں عناصر کے بارے میں ذہنی انتشار تھا۔ مثلاً شریعت یعنی اسلامی قانون کو تو فرانس سے ضابطہ، قانون مستعار لینے کی خاطر ترک کر دیا گیا جبکہ تعلیم، حکومت، سائنس، معاشیات اور زراعت کے سلسلے میں مغربی طریقوں اور اسلوبوں کو جاری نہیں کیا گیا ۔

بر صغیر پاک وہند میں انگریز کی آمد سے پہلے نظام تعلیم کو یہ مسائل درپیش نہ تھے لیکن فورٹ ویلیم کالج کے قیام اور علی گڑھ یونیورسٹی کے علاوہ 1857ء میں شکست کے بعد مسلمانان ہند واضح حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ سرسید سکول آف تھاٹ، کہ اُن کے نزدیک جدید مغربی زبانوں اور علوم وفنون کا سیکھنا مسلمانوں کی بقاء کیلئے لازمی امر ہے۔ جبکہ دیوبند کا قیام انگریز سے استخلاص وطن اور انگریزی تہذیب سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے ایک مورچے کی حیثیت سے ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد علی گڑھ اور دیوبند کے بیٹے بیٹیاں ملک کے ہر حصے میں پھلنے پھولنے لگے اور قومی معاملات میں کئی بار ان دونوں دھاروں کے درمیان وسیع خلیج اور بعض غلط فہمیوں کے سبب اختلافات سنگین ہوتے رہے اور بعض اوقات تصادم بھی رہا، مسئلہ ختم نبوتؐ، پاکستان میں شریعت کے نفاذ، ناموس رسالت اور بعض دیگر مذہبی معاملات پر حکومت اور مدارس کے علماء کے درمیان شدید اختلافات کے سبب پارلیمنٹ سے سڑکوں پر جلسے جلوسوں تک مظاہرے ہوتے رہے ہیں ۔ جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں بیرونی دبائو کے تحت مدارس کے نصابات اور نظام تعلیم کو جدیدیت اور روشن خیالی سے ہم کنار کرنے کیلئے بھرپور کوششیں ہوئیں اور مولوی صاحبان اور علماء میں سے کئی ایک نے جنرل مشرف کی آرزو پر لبیک کہہ کر مال بھی کمایا لیکن بہرحال یہ بیل منڈ ے نہ چڑھ سکی۔ اب ایک دفعہ پھر یہ آواز سنائی دے رہی ہے، اس بات پر تواہل مدارس کے سارے سنجیدہ علماء اور طبقات متفق ہیں کہ درس نظامی جس زمانے میں جس مقصد کیلئے وضع کیا گیا تھا ، اس میں شک نہیں اُس نے کمال کردار ادا کیا لیکن اب شاید کچھ ضروریات اور تقاضے ایسے ہیں جو خود مدارس کے اندر ہی سے سامنے آرہے ہیں۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ مدارس کے نوے فیصد طلباء غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اُن کی بھی خواہش ہے کہ وہ درس نظامی کیساتھ ساتھ وہ علوم بھی حاصل کر سکیں جس کے ذریعے وہ بھی پاکستان کی بیورو کریسی کا حصہ بن کر اپنے شب وروز بدل سکیں لیکن حکومت جس طرح یکساں نظام تعلیم کا نعرہ لگا کر اعلان کرکے مدارس کے نصاب کو بدلنا چاہتی ہے ایسا ممکن نہیں ہے اور اس وقت تو علماء کے مذہبی سیاسی جماعت کے موجودہ حکومت کیساتھ شدید اختلافات کے سبب بہت مشکل لگ رہا ہے لیکن بہت سارے مدارس ایسے بھی ہیں جن کے مہتممین کی شدید خواہش ہے کہ وہاں قدیم کیساتھ ساتھ جدید نظام تعلیم میں حکومت کی معاونت کا ساتھ ہو۔ لہٰذا حکومت اُس کام کیلئے ایک ٹاسک فورس بنائے اور وہ پاکستان بھر میں وہ مدارس الگ کرلیں جو اپنے ہاں جدید نظام تعلیم کو لاگو کرنے کے خواہشمندہیں ۔ حکومت اس کو سکول اور کالجوں کے معیار کے برابر لا کر کامیاب کرکے دکھا دے تو دیگر مدارس ایک دن خود درخواست پیش کریں گے لیکن یہ بہت سنجیدہ نوعیت کا کام ہے۔ اس کے ٹاسک فورس میں معتدل اور غیر سیاسی علماء ، ماہرین تعلیم اور دانشور شامل ہوں۔ جو تحقیقی بنیادوں پر ٹھوس معروضی انداز میں اس قدیم مسئلہ پر کام کرے اور تفصیلی و قابل عمل رپورٹ پیش کرے۔

متعلقہ خبریں