Daily Mashriq

پنڈورہ باکس اور خانہ انوری

پنڈورہ باکس اور خانہ انوری

تاریخ کا ایک لمبا سفر درپیش ہے، اسے اگر تہ در تہ کہانی سے تعبیر کیا جائے تو شاید غلط نہ ہو، صدیوں پر محیط طویل داستان کے سرے تلاش کرنے کیلئے ہندوستان پر حملہ آوروں کے گھوڑوں کی ٹاپ سے اُڑنے والی دھول میں جھانکنا پڑے گا، بقول نفیس

ٹاپ ماری تو دھمک پائے سمک تک پہنچی

پتلیاں جھاڑیں تو گرد اُڑ کے فلک تک پہنچی

جب یہ دھول بیٹھ گئی تو چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوچکی تھی، اور ہندو راجے مہاراجے یا تو اپنی شکست کی دھول چاٹ رہے تھے یا پھر ہندوستان کے کسی کونے کھدرے میں چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر ہی اکتفا کرنے پر مجبور ہو کر باجگزار بن چکے تھے، فاتحین کے قافلے ایک کے بعد ایک کی صورت چلے آرہے تھے، ان میں افغان بھی تھے، ترکمن بھی، سمرقندی، بخاری، آذر بائیجان، مغل بھی، پختون بھی اور پھر صدیوں تک وسط ایشیائی ریاستوں کیساتھ تجارت نے ایک نئے معاشرے کو جنم دیا۔ مختلف زبانوں کے اختلاط سے ایک نئی زبان بھی ایجاد ہوئی، ثقافتی رشتوں میں نئی جہتیں دریافت ہوئیں۔ نئے اقدار نے جنم لیا، تب نہ سفر پر کوئی پابندی تھی، نہ سفری دستاویزات لازمی قرار پاتے تھے کہ اچانک ولندیزیوں، فرانسیسیوں اور انگریزوں نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا قرار دے کر تجارت کی آڑ میں اپنی ریشہ دوانیوں کا آغاز کیا۔ آخری فتح انگریزوں کو ہوئی جس کے بعد وسط ایشیاء کی ریاستوں کیساتھ صدیوں پر محیط تعلقات پر روک لگ گئی، امیر افغانستان کیساتھ سرحدی معاہدہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس نے قوموں کے درمیان دیوار حائل کردی، مگر انقلاب روس نے ایک اور صورتحال کو جنم دیا اور ایک بار پھر سمر قندو بخارا کی تہذیب کو جھنجوڑ کر رکھ دیا، وہاں سے مسلمانوں کے قافلے امن وسکون اور مذہبی آزادی کی تلاش میں سرگرداں ہو کر ایک بار پھر ہندوستان کا رخ کرنے لگے، تاہم ہندوستان کے انگریز حکمرانوں نے انہیں یہاں پناہ دینے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا اور تب کے ہجرت کرنے والے آج بھی پاکستان کے مختلف حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا میں اقامت پذیر ہیں اور ان کی نسلیں اس معاشرے کا حصہ ہیں۔

تاریخ کے اوراق میں مختصر طور پر جھانکنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ چار پانچ روز پہلے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ کراچی میں ایک ایسا مسئلہ چھیڑ دیا ہے جس پر بڑی لے دے ہو رہی ہے، اگرچہ اب اس پر حکومتی ایوانوں نے ایک بار پھر یوٹرن لیکر کہا ہے کہ یہ ایک تجویز ہے۔ کوئی فیصلہ نہیں ہے لیکن اس قسم کے بیانات کی اصل غرض وغایت سے قطع نظر، جس پر آگے چل کر بات کی جائے گی، یہ دیکھنا ہے کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس کے متوقع نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے تو صرف کراچی میں رہنے والے بنگالیوں اور پختون مہاجرین کو پاکستان کی شہریت دینے کی بات کی ہے تاہم یہ ایک ایسا پنڈورہ باکس کھولنے کے مترادف ہے جس سے کئی قسم کے دیگر مسائل بھی جھانکنا شروع کر دیں گے، یہ ایک ایسی بلا ہے جو آسمان سے اُترتے ہی خانہ انوری کی تلاش شروع کر دے گی۔ اس پنڈورہ باکس کے اندر جھانکنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ جو ایم کیو ایم والے ایک عرصے سے بنگلہ دیش میں رکے ہوئے بہاریوں کو پاکستان واپس لاکر انہیں آباد کرنے کی بات کر رہے ہیں لگتا ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کیساتھ جن شرائط پر اتحاد کیا گیا ہے ان میں یہ نکتہ بھی شامل ہے۔ تاہم اس کے نتائج سے پورے سندھ میں جو بے چینی پھیل سکتی ہے اور سندھی قیادت بلا تخصیص وتفریق سیاسی وابستگی اس پر جو ردعمل دے گی اس کو مدنظر رکھا ہی نہیں گیا۔ دوسرا رُخ اس مسئلے کا یہ ہے کہ صرف کراچی میںرہنے والے افغان مہاجرین کے بچوں کو پاکستانی شہریت دینے سے کیا ملک کے دوسرے علاقوں میں آباد مہاجرین کے حوالے سے سوالیہ نشان کھڑا نہیںہوگا؟ اس پر گزشتہ روز بلوچستان سے حکومت کی ایک اور اتحادی جماعت نے بھی اعتراضات جڑ دیئے ہیں اور کہا ہے کہ تیس چالیس لاکھ مہاجرین کا معاملہ ہے، ادھر ملک کے طول وعرض سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں کیوں نہیں لایا گیا؟ جس کے بعد اگرچہ اب کہا جارہا ہے کہ یہ صرف ایک تجویز ہے حالانکہ اگر شہریت دینے کی بات ہے تو سب سے زیادہ افغان مہاجرین خیبر پختونخوا میں آباد ہیں، اسی طرح لاہور، ملتان، کوئٹہ، ژوب، قلعہ سیف اللہ وغیرہ وغیرہ میں بھی جو افغان مہاجرین بستے ہیں وہ کیا ماضی کی طرح جلوس نکال کر احتجاج نہیں کریں گے جبکہ جہاں تک خیبر پختونخوا کا تعلق ہے یہاں گزشتہ چالیس سال سے ان مہاجرین نے پورے معاشرے کو جن مسائل سے دوچار کر رکھا ہے اس پر کوئی دو آراء نہیں ہو سکتیں۔

اس بارے میں تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں، بس اتنا اشارہ ہی کافی ہے کہ خاص مواقع پر خود قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی شہر کے اندر داخلے پر پابندی لگا دیتے ہیں اور اگر زیادہ معلومات درکار ہوں تو بڑے شہروں میں جا کر عوام کی نبض ٹٹولیئے تو وہ اپنی مشکلات بلا کم وکاست بیان کرنا شروع کر دیں گے یعنی

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے

والی کیفیت ہوگی اور عوام تو اس انتظار میں ہیں کہ کب ان لوگوں کو اپنے وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ ہوتا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان انہیں مستقل طور پر ہمارے سروں پر مسلط کر نے کی بات کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں