Daily Mashriq

جذباتی اعلان

جذباتی اعلان

تبدیلی کے نام پر قائم ہونے والی حکومت کچھ کام انتہائی عجلت میں سر انجام دینے کی کوشش کر رہی ہے، عجلت میں کئے گئے کئی دیگر فیصلوں کی طرح ایک فیصلہ افغان مہاجرین سے متعلق بھی ہے جو وزیر اعظم عمران خان نے دورہ کراچی کے دوران پاکستان میں پیدا ہونے والے افغان اور بنگلہ دیشی باشندوں کو پاکستان کی شہریت دینے کے اعلان سے کیا ہے۔ اس طرح ملک کے نو منتخب وزیر اعظم نے بد عنوانی، سادگی اور آبی بحران کے دیرینہ موضوعات پر سیاست سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایک جرات مندانہ اور انقلابی قدم اٹھانے کا اعلان کیا تاہم جس جلدی میں یہ اعلان کیا گیا ، بظاہر یہ اعلان انسانیت کے دکھ درد کو مدنظر رکھ کر گیا ہے، پاکستان سمیت پوری دنیا میں اس کی تحسین کی جائے گی۔لیکن اس سے یہ اندیشہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کے اس اعلان سے پہلے کیا حکومت نے مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے کوئی ٹھوس حکمت عملی بنا لی ہے یا وزیر اعظم نے لمحاتی جوش میں فوری طور پر ایک اعلان کر دیا لیکن عملی طور سے اس معاملہ کی پیچیدگیوں اور قانونی، سیاسی اور سماجی تقاضوں کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی گئی۔

افغان اور بنگلہ دیشی نژاد شہریوں کو پاکستان کی شہریت دینے کا اعلان بنیادی اہمیت اور انقلابی نوعیت کا حامل ہے۔ حکومت اگر اس معاملہ پر اصولی فیصلہ کرچکی ہے اور اسے قومی مفاد اور انسانی ہمدردی کی ضرورتوں کے تحت انجام تک پہنچانے کا تہیہ کیا گیا ہے تو صدر مملکت کی تقریر میں اس کا ذکر وزیر اعظم کے اعلان کو معتبر بنا دیتا اور ان پناہ گزینوں کے علاوہ اہل پاکستان کو بھی یہ یقین ہوجاتا کہ تحریک انصاف کی حکومت ایک اہم اور حساس معاملہ پر فیصلہ کن اقدام کرنے کا ارادہ کرچکی ہے۔ تاہم صدر نے بالواسطہ طور سے بھی اس معاملہ کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ جس سے اس معاملہ میں حکومت کی منصوبہ بندی اور خام خیالی کے بارے میں شبہات پیدا ہونا فطری ہے۔

افغان اور بنگلہ دیشی باشندوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان جذباتی اعلان ہے جس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لئے بغیر اور ٹھوس حکمت عملی کے بغیر وزیر اعظم کو یہ بات زبان سے نہیں نکالنا چاہئے تھی۔ عمران خان نے یہ اعلان کراچی میں جرائم کی صورت حال کا ذکرکرتے ہوئے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم میں اضافہ کی وجہ یہ ہے کہ افغان اور بنگلہ دیشی مہاجرین کے پاس شناختی کاغذات نہیں ہوتے۔اور وہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں پیدا ہونے والے لوگوں کو پاکستان کی شہریت لینے کا حق دینا مستحسن اور اہم فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن اس کی بنیاد اگر کسی معاشرہ میں جرائم کو قرار دیا جائے گا تو اس نیک کام سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جا سکے گی۔ اس مقصد کے لئے معاملہ کے سماجی، سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے کر مناسب قانون سازی کی ضرورت ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے یہ اعلان صرف کراچی کے مہاجرین کیلئے کیا ہے اگر ایسا ہے تو پھر پشاور اور دیگر شہروں میں مقیم افغان مہاجرین کا کیا سٹیس ہو گا؟دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ پاکستان آبادی کی درجہ بندی میں ترقی پاتے ہوئے ہندوستان، چین، امریکا اور انڈونیشیا کے بعد دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا ہے۔ملک میں موجود غربت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ہر سال 2.4 فیصد کی زبردست شرحِ اضافہ کے ساتھ ملک کی آبادی 20 کروڑ 80 لاکھ سے متجاوز ہے۔ یہ 1998 میں آخری مردم شماری سے 57 فیصد زیادہ ہے اور پہلے لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔انسانی ترقی کے مایوس کن اعشاریوں کے ساتھ آبادی میں یہ اضافہ ملک کے اقتصادی و معاشی تحفظ اور سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش اور ایران جیسے دیگر مسلم ممالک نے اپنی آبادیوں پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، اس کا ثبوت ان کے پاس انسانی ترقی کے بہتر اعشاریوں کی صورت میں ہے۔ جب تک خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کی کوششیں نہیں کی جائیں گی، تب تک شرح آبادی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اور اگر یہی صورتحال رہی، تو 2030 تک پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہوجائے گا، اور انڈونیشیا کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔اس وقت پاکستان انسانی ترقی کے لحاظ سے 147 ویں درجے پر ہے، جبکہ اس کی تیس فیصد کے قریب آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ شرحِ خواندگی اب تک صرف 58 فیصد ہے، جبکہ کئی کے نزدیک یہ بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ہر سال آبادی میں ہزاروں بچوں کا اضافہ ہوتا رہا تو پاکستان کے لیے 147 واں نمبر برقرار رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے مسائل کسی بھی ملک سے کم نہیں ہیں ہمیں اپنے شہریوں کی طرف توجہ دینی چاہئے ، موجودہ حکومت نے جو دروازہ کھولا ہے وہ صرف افغان مہاجرین تک مخصوص نہ رہے گا کیونکہ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں انتہائی تکلیف دہ زندگی گزارنے والے ان تین لاکھ بہاریوں کا کیا قصور ہے جنہیں بنگلہ دیش پاکستانی قرار دے کر دھتکارتا ہے اور پاکستان انہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں