Daily Mashriq

لاچار عوام

لاچار عوام

ایک دور تھا کہ جب پاکستان نے سال1963 میں ایوب خان کے دور حکومت میں جرمنی کو 120ملین یعنی 12کروڑ روپے قرضہ 20سال کیلئے دیا تھا۔ برطانیہ کے گارڈین اخبار کے مطابق پاکستان 1953 سے جرمنی کو قرضہ دیتا آرہا تھا اور اب جرمنی اقتصادی لحاظ سے دنیا کی چوتھی بڑی طاقت ہے۔ 2018 کے عام انتخابات کے جلسوں، جلوسوں، پبلک میٹنگ اور ٹی وی ٹاک شوز میں پی ٹی آئی کے چیئرمیں اور وزیراعظم عمران خان کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں بے تحاشا قدرتی وسائل ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کو اب تک کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جو ملک کو اقتصادی اور دوسرے بحرانوں سے نکال سکے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور دوسرے مالیاتی اداروں کو نہ صرف خیرباد کہیں گے بلکہ بجلی، گیس، تیل سستے داموں عوام کو میسر ہوگی۔ عوم کو ایک کروڑ نوکریاں، 50لاکھ مکانات، صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات بھی دی جائیں گی ۔ ایک طرف عوام پہلے سے مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے پریشان تھے اور ابھی وزیراعظم کی اس قسم کی باتیں سن کر مزید پریشان ہوگئے ہیں۔ عوام کو کوئی ریلیف دینے کے بجائے خان صاحب نے عوام سے مانگنا شروع کیا۔ کسی ملک کا حقیقی لیڈر وہی ہوتا ہے جو عوام کے مورال کو بلند کرے اور ایسے فیصلے کرے جو عوام پر بوجھ نہ ہوں بلکہ دوسرے ذرائع سے وسائل بڑھنے شروع کئے جائیں۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ ڈیمز کیلئے چندہ مانگنے کے بجائے پانامہ کیس میں ملوث 435افراد کا احتساب کریں اور ساتھ ساتھ نیب میں جو 177کرپشن کے میگا سکینڈل پڑے ہیں ان سے لوٹی ہوئی رقم نکلوا کر عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کریں۔ وطن عزیز کے نااہل اور بدعنوان حکمرانوں کی وجہ سے پاکستان کا بیرونی قرضہ 95ارب ڈالر تک اور ملکی مالیاتی اداروں سے لیا گیا قرضہ 28ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور اب عمران خان کے مطابق پاکستان روزانہ 6ارب روپے قرض کے سود کا ادا کرتا ہے۔ یہ پیسے عوام کے فلاح وبہبود کے بجائے حکمرانوں کی تجوریوں، سوئس بینک اور پانامہ کی آف شور کمپنیوں میں جمع ہو گئے۔ پاکستانیوں کی حالت اب بھی پتھر کے دور سے بدتر ہے۔ پاکستان صحت، تعلیم، متوقع زندگی، روزگار میں جنوبی ایشیاء کے غریب ممالک میں بھی سب سے نیچے ہے۔ پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 4فیصد ہے جبکہ بھارت 7.3فیصد، سری لنکا7.4 فیصد اور مالدیپ کی6.8 فیصد ہے۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستانیوں کی متوقع زندگی 65سال ہے جبکہ اس کے برعکس مالدیپ کی 77سال، سری لنکا 71سال، بنگلہ دیش 69سال، بھارت اور بھوٹان کی 68سال ہے۔پاکستان انسانی ترقی کی فہرست میں سب سے نیچے یعنی 146ویں نمبر پر، سری لنکا 73ویں، بھارت اور بھوٹان 135ویں نمبر پر ہیں۔ اگر ہم بیروزگاری پر نظر ڈالیں تو وہ بھی جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ پاکستان میں ہے یعنی 7فیصد جبکہ نیپال میں بیروزگاری 1.8فیصد، بھارت میں2.8 فیصد اور بنگلہ دیش میں4.3 فیصد ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان میں 2ڈالر کے حساب سے 77فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں پاکستان کی شرح خواندگی سب سے کم یعنی 55فیصد جبکہ اس کے برعکس مالدیپ میں شرح خواندگی 99فیصد، سری لنکا میں98فیصد اور بھارت میں 75فیصد ہے۔ پاکستان میں صحت اور تعلیم کا شعبہ زوال پذیر ہے۔ پاکستان میں 80فیصد عام لوگ اپنی جیب سے صحت پر اور 70فیصد لوگ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ پاکستان کی 21کروڑ آبادی کیلئے ڈھائی لاکھ ڈاکٹروں، 2لاکھ دندان ساز اور 14لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس ڈاکٹروں کی تعداد ایک لاکھ 46ہزار، ڈینٹسٹ کی تعداد 11ہزار اور رجسٹرڈ نرسوں کی تعداد 56ہزار ہے۔ پاکستان میں 80فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ پینے کے صاف پانی کی 72فیصد سکیمیں ہیں جن میں 82فیصد پانی زہریلا اور انتہائی آلودہ ہے۔ پاکستان انصاف کی فراہمی کی بین الاقوامی فہرست میں 113ممالک میں 105ویں نمبر پر ہے جبکہ جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک مثلاً سری لنکا 59ویں نمبر پر جبکہ نیپال 58ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں بلند وبانگ دعوؤں کے باوجود اکیسویں صدی میں 23ملین بچے سکول سے باہر ہیں۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں بجلی کا فی کس استعمال بھی 40واٹ ہے جو جنوبی ایشیاء سے کیا افریقہ کے غریب ممالک سے بھی کم ہے۔ اگر ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کی بات کریں تو بھارت میں سالانہ 90ہزار کتابیں چھپتی ہے اور بھارت دنیا کے 3ممالک میں ایک ملک ہے جہاں پر زیادہ کتابیں چھپتی ہیں اور لوگوں میں علم سیکھنے کا رجحان ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان ٹاپ 40ممالک میں بھی نہیں۔ بھارت میں لوگ 11گھنٹے پڑھائی پر جبکہ ہمارے ملک میں زیادہ تر وقت بے ہودہ فلموں کے دیکھنے اور فضول سرگرمیوں میں ضائع ہوتا ہے۔ ان تمام باتوں کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانیوں پر مزید بوجھ نہ ڈالیں جو پہلے سے انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ زیادہ تر لوگ، بجلی، سوئی گیس کی بلوں، صحت اور تعلیم پر بے تحاشا خرچ اور بیروزگاری سے پریشان ہیں ان پر مزید بوجھ ڈالنا ان 70فیصد غریبوں کیساتھ مزید زیادتی ہوگی۔

متعلقہ خبریں