Daily Mashriq

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

وزیراعظم عمران خان سے خیبرپختونخوا کے عوام کی توقعات کی وابستگی اس لئے فطری امر ہے کہ یہاں کے عوام ہی نے دوسری مرتبہ تحریک انصاف پر اعتماد کر کے ان کو فرنٹیئر ہائوس سے وزیراعظم کے دفتر تک کامیابی دلائی۔ صوبے کے عوام اگر مروت میں حکومت سے اضافی مراعات اور صوبے کو اضافی وسائل کی فراہمی کی امید نہ بھی لگائیں تو کم از کم بجلی کے خالص منافع کی رقم اور بقایا جات کی وصولی کے خالص حق کی امید ضرور لگائے بیٹھے تھے بجلی کے خالص منافع کے حصول اور وصولی کے معاملے پر صوبے میں پوری طرح اتفاق رائے فطری امر ہے جس کا مظاہرہ گزشتہ ادوار میں وقتاً فوقتاً ہوتارہا ہے خود سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور وزیرخزانہ مظفر سید کی جدوجہد گزشتہ دور حکومت ہی کا قصہ ہے پاکستان تحرک انصاف کو مرکز میں اقتدار ملنے اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعدصوبے کے عوام کو بجا طور پر یہ توقع تھی کہ میرٹ اور انصاف کے فارمولے پر عمل در آمد یقینی ہوگا اور خیبر پختونخوا کے عوام کو اے جی این قاضی متفقہ اور طے شدہ فارمولے کے تحت صوبے کے حصے کی رقم بقایا جات کے ساتھ ادائیگی ہوگی لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے ایک سال گزرنے کے باوجود صورتحال پہلی حکومتوں سے اگر بد ترنہیں تو اچھی بھی نہیں رہی ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ صوبے کو اس کے حق کی ادائیگی ہوچکی ہوتی اور ساتھ ہی قبائلی اضلاع کے حصے کی این ایف سی ایوارڈ کی رقم بھی طے ہوتی اور اس کو باقاعدہ طور پر صوبے کے حصے میں ڈال دیا جاتا صوبے میں حکومتی سیاسی اور عوامی سطح پر اس ضمن میں محرومیاں پائی جاتی ہیں جس کا اظہار اگر حکومتی اور پارٹی قائدین بوجوہ نہیں کر پاتے اس سے قطع نظر اس اصولی موقف میں صوبے میں کسی سطح پر کوئی تضاد نہیں بلکہ سخت سے سخت مخالفین سے بھی اتفاق کی کیفیت ہے بجائے اس کے کہ مرکزی حکومت صوبے کی حکومت اور عوام کی توقعات پر پورا اترتی اگرچہ طور خم میں میڈیا سے بات چیت میں وزیراعظم نے پختونخوا کو بجلی کے منافع کی رقم کے حق سے انکار نہیں کیا لیکن بجائے اس کے کہ ٹھوس یقین دہانی کرائی جاتی وزیراعظم نے حالات کو عدم موافق گردان کر صوبے کے عوام کو مبہوت کردیا جس کے بعد اس حوالے سے خدشات کااظہار بے جا نہ ہوگا وزیراعظم کے بیان کے بعد فطری طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان وفاق کے بعض حلقوں کے اس خیال سے اتفاق رکھتے ہیں کہ اے جی این قاضی فارمولہ حقیقت پسندانہ نہیں۔وزیراعظم نے پن بجلی کے خالص منافع بارے غیر محتاط اور مبہم بیان دے کر جو پنڈورا باکس کھول دیا ہے اس سے عوامی سطح پر بالعموم سیاسی اور خاص طور پر قوم پرست عناصر کی جانب سے بالخصوص سخت ردعمل آنا عجب نہ ہوگا۔ وزیراعظم نے جس تناظر میں بھی یہ بیان دیا اس کا تعین مشکل ہے آیااسے ان سارے بیانات کی فہرست میںشامل کیا جائے جن میں واپسی کی راہ لی جاتی ہے یا ان کو سنجیدگی کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا تا اس سے قطع نظر قانونی اصولی اور آئینی طور پر وزیراعظم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی صوبے کے حصے کی واجب الادا رقم اور اس کے حق سے انکار کرے یا اس حوالے سے ایسا بیان دے جو منفی ہو دہشت گردی سے متاثر ہونے والے اس صوبے کی معیشت وکاروبار کی تباہی سرمائے کی منتقلی دور کا روباری مواقع کا مسدور ہونا کوئی راز کی بات نہیں ان حالات میں بجائے اس کے کہ صوبے کی دست گیری کی جائے یہاں کی معیشت کی بحالی کے اقدامات کئے جائیں اگر الٹا حق ہی دینے سے انکار کیا جائے تو پھر اعتدال کا نظریہ رکھنے والوں کے خیالات میں سختی نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں۔بجلی مہنگی ہوتی ہے یا گیس اس کا صوبے کے حق سے کوئی تعلق نہیں صوبے کی واجب الادا رقم اور ماہانہ یا سہ ماہی وششماہی بنیادوں پر جو صورت ممکن ہو صوبے کو بجلی کے خالص منافع کی رقم کی ادائیگی مرکزی حکومت اور اس کے اداروں کی ذمہ داری ہے جس سے صوبے کے عوام کسی قیمت پر دستبردار نہیں ہوں گے اور اگر اس کیلئے احتجاج اور قربانی کی نوبت آئے تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا جا ئے گا۔بہتر ہوگا کہ معاملے کو الجھانے خواہ مخواہ کی احساس محرومی پیدا کرنے اور فضا کو مکدر کرنے کی بجائے وزیراعظم کے بیان کی وضاحت کی جائے اور صوبے کو بجلی کے خالص منافع کی رقم وبقایا جات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

متعلقہ خبریں