Daily Mashriq

راکھ اڑتی ہے کیوں شرارے سے

راکھ اڑتی ہے کیوں شرارے سے

جب آپ کسی کے راستے میں روشنی کرتے ہیں تو آپ کا راستہ بھی روشن ہوجاتا ہے اورجب کسی کو اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ روشنی پھیلانے والے آپ ہیں تو لوگ آپ کو مینارہ نوراور مشعل راہ ماننے لگتے ہیں اور آپ کی تقلید میں وہ بھی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے چہار سو روشنیاں پھیلادیں۔ ایسی روشنیاں جو رشدو ہدایت کا باعث بنیں جو ہمیں راہ مستقیم پر گامزن کر سکیں۔ ہمیں منزل مراد پر پہنچاسکیں۔ ایسے لوگ یقینا ایک ہالہ نور بن کر آتے ہیں یا کسی روشنی سراپا سے روشنی مستعار لیکر سارے ماحول کو جگمگاتے رہتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ نئی تہذیب کو بھی روشنی کا نام دیتے ہیں۔ نت نئے فیشن کو اپنانے والے لوگ یا مغرب کی اندھی تقلید میں ڈوب جانے والے لوگ اپنے آپ کو ترقی یافتہ اور روشن خیال سمجھنے لگتے ہیں یا دنیا والوں پر یہ باور کرانے لگتے ہیں کہ ان جیسا ماڈرن یا روشن خیال کہیں نہیں ملتا۔ نت نئے فیشن کو اپنانا ، منفرد ہیئر سٹائل بنانا ، مہنگے سے مہنگا پرفیوم استعمال کرنا ، اور اپنے آپ کو ہجوم یاراں میں منفرد بناکر پیش کرنا اور دنیا والوں کے سامنے اپنی ان حرکات و سکنات کو اپنی لائف سٹائل کہہ کر متعارف کرانا اس روشنی کی عکاسی کرتی ہے جس کے متعلق شاعر نے بڑے دھڑلے سے یا دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ

روشنی پھیلی تو ہم سب کا رنگ کالا ہو گیا

کچھ دئیے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہوگیا

یہ رنگ کالا کرنے والی کالی روشنیاں ، روشنی کہلانے کی حقدار نہیں ٹھہرتیں۔ لیکن انہیں پھر بھی لوگ نئی روشنی اور نئی تہذیب کہہ کر پکارتے ہیں۔ جو لوگ نئی روشنی کے سراب میں اس ڈگر پر چل نکلتے ہیں جو انہیں زندگی کے ان راستوں پر گامزن کر دیتی ہے جس پر چل کر وہ اپنی اقدار سے دور بہت دور نکل جاتا ہیں۔ وہ اپنوں سے ہی نہیں اپنے آپ سے بھی بچھڑ جاتے ہیں۔ وہ جو کسی نے کہا کہ' کو ا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا'۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی مجبوری یا ضرورت کے تحت یورپ گئے اور یورپ کے ہی ہوکر رہ گئے لیکن سچ پوچھیں تو ان میں سے اکثر وطن سے دور رہ کر اس ہنستے بستے آنگن اور محل مناروں کو نہیں بھول سکے جنہیں وہ اپنے گھر اپنی گلیوں اپنے بازاروں کا نام دے کر اپنی من بگیا میں سجائے اور بسائے رکھتے ہیں۔ اشفاق احمد بابا نے اپنی کسی تحریر میں کہا تھا کہ تم دنیا کے کسی بھی کونے میں کہیں بھی چلے جاؤ۔ اور وہاں پہنچ کر تم دنیا کے گلوب یا اٹلس پر نظر ڈالو ، جس میں دنیا بھر کے ممالک کے نقشے نظر آئیں گے ان نقشوں میں بہتے دریاؤں کا پتہ چلے گا ، آبادی کے اعداد شمار ملیں گے ، ہر ملک یا مقام کے موسم اور آب و ہوا کے متعلق جان کاری حاصل ہوگی۔ آپ کو اپنے سامنے رکھے اٹلس میں تمام براعظموں جہاں بھرکے ممالک یوں رکھے دکھائی دیںگے ، جیسے ہاتھ کی ہتھیلی پر کھنچی لکیریں نظر آتی ہیں ۔ تم قدرتی طور پر اٹلس کے ان نقشوں میں ایک ایسے ملک کی تلاش کرو گے جو دیگر ممالک سے اس حوالہ سے مختلف یا منفرد ہوگا کہ وہ دیگر ممالک کی طرح کا کوئی سا ملک کہلانے کی بجائے تمہارا وطن تمہارا پیارا وطن پاکستان کہلانے کا حقدار ہوگا۔ تمہاری پہچان ہوگا کہ تم اس ہی کے حوالہ سے دنیا کے ہر کونے میں پاکستانی کے نام سے جانے جاتے ہونگے، جسے دیکھ کر آپ بے اختیار ہوکر ' جیوے جیوے پاکستا ن' پکار اٹھیں گے ۔ہم نے اپنے بچپن لڑکپن اور جوانی تک جتنی بھی روشنی حاصل کی ہے اس کا منبع و مبدا ہمارا یہی پیارا وطن پاکستان رہا ہے۔ ہم نے جینے کے تمام تر سلیقے اپنی ماں کی گود سے سیکھے۔ کھلنڈرے پن کی عادتیں اور شرارتیں اپنی گلی کوچہ کے سنگی ساتھیوں سے جانے۔ اسکول یا مدرسہ پہنچے تو ہماری روشنیوں کے معیار بھی بدلنے لگے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے لیکن قومی زبان کے علاوہ ہمیں بدیسی زبانیں بھی سکھائی جانے لگیں۔ جس نے غیر محسوس طریقہ سے ہمیں اپنی اوقات یا مادری پدری اقدار سے دور کرنا شروع کردیا اور یوں

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

کے مصداق ہم آدھے تیتر آدھے بٹیر بن کر اپنی ناکامیوں کی داستان رقم کرنے لگے۔ درخت جتنا بھی قد آور ہوجائے اس کی شاخیں جتنی بھی پھیل جائیں وہ اس وقت تک پلتا بڑھتا اور مضبوط ہوتا رہتا ہے جب تک اس کی جڑیں اس مٹی میں رہتی ہیں جس میں اس کی تخم ریزی کی گئی تھی ۔ہمیں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہے ، لیکن اس کا کیا جائے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے نین گنوا کر در در بھیک مانگتے پھرتے ہیں ، ذرا سی دھن دولت کے مالک بنتے ہیں ملک سے باہر کی بینکوں میں جمع کرا آتے ہیں ، بیمار پڑتے ہیں تو غیر ملکی ہسپتالوں میں علاج کروانے دوڑ پرتے ہیں ، وہ پاکستان آتے ہیں اقتدار عزت شہرت اور دولت کمانے کے لئے اور باہر جاتے ہیں یہاں سے کشید کی ہوئی عزت دولت اور شہرت کو ٹھکانے لگانے کے لئے ، کتنے برے ہیں وہ لوگ اور کتنے روشنی سراپا ہیں وہ لوگ جو کشمیر جنت نظیر کی چنار وادی میں پل بڑھ کر جواں ہوئے مگرمملکت خداداد پاکستان کی آزادی پراپنی آزادی کی آس طمع اور ارمان کو نچھاور کرتے ہوئے چیخ چیخ کر پکار نے لگے کہ '' کشمیر بنے گا پاکستان '' وہ یہ نعرہ سالہا سال سے روشنی کی علامت بن کر بلند کررہے ہیں ، جل کر خاکستر ہوررہے ہیں شمع آزادی کے یہ پروانے ، راکھ بن کر اڑ رہے ہیں اور ہم اپنے دل کی دھڑکنوں کو دبا ئے سوچ رہے ہیں کہ

روشنی کی اگر علامت ہے

راکھ اڑتی ہے کیوں شرارے سے

متعلقہ خبریں