Daily Mashriq

میرے گھر کو مکان کردے

میرے گھر کو مکان کردے

پرانے زمانے کی بات ہے جب شادی کے کارڈ ز اردو میں لکھے جاتے تھے تو ان میں شادی خانہ آبادی ضرور لکھا جاتا تھا جب سے شادی کے کارڈز انگریزی میں لکھنے کا رواج پروان چڑھا ہے تو اس قسم کے دعائیہ جملے ناپید ہوچکے ہیں یہ کارڈایسی جناتی انگریزی میں لکھے ہوتے ہیں کہ ہماری طرح معمولی پڑھا لکھا بندہ تو کارڈ دیکھ کر ہی پریشان ہوجاتا ہے خیر کارڈ انگریزی میں ہو یا اردو میں سب کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ شادی کے بعد ایک پرسکون زندگی نصیب ہو ! فی زمانہ نئی روشنی کے عام ہوجانے کی وجہ سے شادی کے بعد گڑ بڑ کے امکانات کچھ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں ۔ افتخار عارف نے کہا تھا: میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے

میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے مکان تو اینٹوں ریت سیمنٹ سے تعمیر کیے جاتے ہیں اور گھر میں امید اور محبتیں پروان چڑھتی ہیں گھر وہ ہوتا ہے جہاں محبت ہمیشہ ڈیرا ڈالے رکھتی ہے جہاں یاد یں پروان چڑھتی ہیںہنسی اور قہقہے کبھی ختم نہیں ہوتے دراصل گھر کوئی جگہ نہیں ہوتی بلکہ یہ تو احساسات کا نام ہے شادی وہی ہوتی ہے جس کے بعد مکان گھر میں تبدیل ہوجائے بصورت دیگر زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی !میاں بیوی کا رشتہ بڑا نازک ہوتا ہے اس حوالے سے بنجمن فرینکلن نے کہا تھا کہ شادی سے پہلے اپنی دونوں آنکھیں کھلی رکھیں لیکن شادی کے بعد ایک آنکھ بند کر دیں ! یہ جملہ ہمارے ایک نئے نئے شادی شدہ دوست نے پڑھا تو حضرت الجھن میں پڑ گئے۔ہماری طرف آئے تو ہم سے پوچھنے لگے کہ اس بات کا کیا مطلب ہے یار اس نے تو مجھے پریشان کردیا ہے ۔ میں تو سوچ رہا تھا کہ شادی کے بعد ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ اب تو کھلی آنکھوں کے ساتھ زندگی گزارنا پڑے گی لیکن یہ مفکر صاحب تو کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں آپ ہی اس پر کچھ روشنی ڈالیے ہمارے پلے تو یہ بات نہیں پڑ رہی۔ہم نے اپنے نوجوان دوست کے صحت مند و ترو تازہ چہرے پر نظر ڈالی تو سوچ میں پڑ گئے کہ اب بات کا آغاز کہاں سے کریں۔ہم نے کہا میاں کیوں پڑھتے ہو ایسی چیزیں ! تمہاری شادی کو تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے اور تم نے اتنی مشکل کتابیں پڑھنا شروع کردی ہیں ۔تمہیں تو ڈیل کارنیگی کی کتاب ہنسی خوشی جینا سیکھیئے پڑھنی چاہیے۔ اب تم خود سوچو کہ ایک آنکھ بند کر لینے کا کیا مطلب ہے ؟ ارے میرے بھائی بیوی پر نکتہ چینی نہیں کرنی اس کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا ہے۔ وہ کوئی کوتاہی کرے تو تم ایسے بن جائو کہ گویا تم نے اسے دیکھا ہی نہیں۔ کسی سیانے کا کہنا ہے کہ بیوی کی ہاں میں ہاں ملائو تو تمہارا گھر جنت بن جائے گا۔ابھی تو آغاز ہے : ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا۔ آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا۔ جناب جب عشق کا بھوت اتر جاتا ہے اور عملی زندگی کے حقائق سے واسطہ پڑتا ہے تو پھر پتہ چلتا ہے کہ زندگی کا گھوڑا کتنا سرکش ہے۔اب بیوی نے ناشتہ بھی تیار کرنا ہے تمہارے کپڑے بھی استری کرنے ہیں ہنڈیا بھی پکانی ہے۔ تم نے وقت پر دفتر بھی جانا ہے ۔ لوڈ شیڈنگ بھی ہورہی ہے۔ کپڑے وقت پر تیار نہیں ہیں ۔ دفتر وقت پر نہ پہنچا تو باس کیا کہے گا۔ یہ کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں اب اگر فریاد کرتے ہو تو اچھا بھلا گھر پانی پت کے میدان میں تبدیل ہو جائے گا۔ تم اپنی فریاد کرو گے بیوی اپنے دکھڑے سنانا شروع کردے گی۔صبح سویرے اٹھتی ہوں کیا کروں سب سے پہلے چائے کا پانی رکھا کہ ناشتہ آپ کے لیے وقت پر تیار ہو جائے لیکن اب اس کا کیا علاج کہ استری کرنے کا وقت آیا تو بجلی داغ مفارقت دے گئی۔ آپ مرد بھی کتنے کٹھور ہوتے ہو دل میں صنف نازک کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے۔ اگر ایک دن زرا دیر سے دفتر چلے جائیں گے تو کونسی قیامت آجائے گی۔ہمارے نوجوان دوست نے جب ہماری باتیں سنیں تو اس کی آنکھوں میں چھائی ہوئی دھند صاف ہوگئی۔ ہنستے ہوئے کہنے لگا اب پتہ چلا کہ شادی کے بعد پوری آنکھیں نہ کھولنے کا کیا مطلب ہے! ہمیں ایک دوسرے کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرنا ہوگا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگاہمارا نوجوان دوست اب پوری طرح ہماری باتوں کے سحر میں کھو چکا تھا۔ ہم نے لوہا گرم دیکھتے ہوئے ایک اور ضرب لگائی۔ ہم تمہیں چند ہدایات دیتے ہیں اگر تم نے ان پر عمل کیا تو ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزارو گے۔ایک بات کا خاص طور پر خیال رکھنا کہ اپنی بیوی پر کبھی بھی دوسروں کے سامنے نکتہ چینی نہ کرنا۔گھریلو اخراجات کے علاوہ بھی اسے کچھ نہ کچھ دیتے رہا کرو اس سے بھی محبت بڑھتی ہے اور بیوی کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں اس کا خیال رکھتے ہیں۔اپنی بیوی کے کام کاج کا تقابل کبھی بھی اپنی ماں بہن یا کسی رشتہ دار کے ساتھ نہ کرنا۔ اسے یہ کبھی بھی نہ کہنا کہ میری امی تو بڑے زبردست چاول پکاتی ہیں یہ آپ نے کیسے چاول پکائے ہیں۔کچھ ناعاقبت اندیش مہمانوں کے سامنے بیوی پر رعب جما کر دوسروں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم بڑے جوانمرد ہیں اور بیوی کو اچھی طرح قابو کر رکھا ہے ۔تم اس طرح کبھی نہ کرنا۔اسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھڑکنے سے پرہیز کرونکتہ چینی نہ کرواس کی ضروریات کا خیال رکھواس کی دل سے قدر دانی کرو۔

متعلقہ خبریں