Daily Mashriq

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مشتاق سکھیرا کو ٹیکس محتسب کے عہدے پر بحال کردیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مشتاق سکھیرا کو ٹیکس محتسب کے عہدے پر بحال کردیا

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے مشتاق احمد سکھیرا کو بطور وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وزارت قانون نے وزیراعظم عمران خان کو اس حوالے سے گمراہ کیا۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مشتاق سکھیرا کی جانب سے برطرفی کے خلاف دائر درخواست پر تفصیلی حکم جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ وزیراعظم اور صدر مملکت وزارت قانون کی رائے پر عمل کرنے سے قبل سپریم کورٹ سے بھی مشورہ کرلیتے۔

خیال رہے کہ مشتاق سکھیرا پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے 22 ویں گریڈ میں ریٹائر ہونے والے افسر ہیں جنہیں 31 اگست 2017 کو وفاقی ٹیکس محتسب کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے رواں برس فروری میں ایک حکم نامے کے ذریعے انہیں اس عہدے سے ’ہٹا‘ دیا تھا۔

جس پر مشتاق سکھیرا نے اپنی برطرفی پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں انہوں نے 12 جون کے اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا جس میں ان کی اگست 2017 میں ہونے والی تقرری کو واپس لیا گیا تھا۔

ان کی دائر درخواست کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب کا تقرر اور برطرفی، اسٹیبلشمنٹ آف دی آفس آف ایف ٹی او آرڈیننس 2000 اور وفاقی ادارہ محتسب اصلاحات 2013 کے تحت کی جاتی ہے جس کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب کو سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

اس سلسلے میں اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت میں موقف اپنایا کہ مشتاق سکھیرا کو غیر قانونی طور پر وفاقی ٹیکس محتسب تعینات کیا گیا تھا اور ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن ابتدا سے ہی غلط تھا۔

انہوں نے کہا کہ صدر نے وزیراعظم کی تجویز پر مشتاق سکھیرا کو تعینات کیا جو صدر کو قانونی طور پر حاصل تقرری کے اختیارات کی خلاف ورزی ہے اور ٹیکس محتسب کی تقرری صدر کا خصوصی اختیار ہے۔

اس حوالے سے عدالت کا کہنا تھا کہ وزارت قانون کی جانب سے 17 مئی 2019 کو مشتاق سکھیرا کی برطرفی کے لیے تیار کی گئی سمری گمراہ کن تھی۔

عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ ’سمری گمراہ کن تشریح پر مبنی تھی جو (مشتاق سکھیرا کی برطرفی کا ) حکم نامہ جاری کرنے کا سبب بنی۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے اعلیٰ حکام کو تجویز دی کہ ٹیکس محتسب کے عہدے کی سالمیت اور آزادی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وزارت قانون کی رائے پر اندھا دھند اعتماد کرنے کے بجائے دیگر آپشن پر غور کیا جاسکتا ہے جس میں آئین کی دفعہ 186 کے تحت اگست 2017 کا سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ اختیار طلب کرنا بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں