Daily Mashriq


محکمہ تعلیم میں نیب کی تحقیقات

محکمہ تعلیم میں نیب کی تحقیقات

قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا کی جانب سے محکمہ تعلیم میں مبینہ طور پر غیرقانونی بھرتیوں کی تحقیقات اور محکمۂ تعلیم کے افسران کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے طلبی سے اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیںکہ محکمہ تعلیم میں ایسے معاملات تھے جن کا قانونی طور پر نوٹس لینے کی ضرورت تھی جبکہ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم ضیاء اللہ بنگش نے واضح کیا ہے کہ محکمہ تعلیم میں کرپٹ عناصر کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ افسران پر کرپشن ثابت ہو جائے تو ان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے محکمے کے حوالے سے تحقیقاتی اقدامات کا خیرمقدم کر کے مشیر تعلیم نے اصولی مؤقف اختیار کیا ہے اور یہی موجودہ حکومت کی پالیسی اور گائیڈلائن بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگرچہ کسی وزیر ومشیر کے محکمے میں بدعنوانی کا ارتکاب اور الزام یا پھر تحقیقات کی نوبت آنا اور ممکنہ گرفتاریاں کوئی نیک شگون نہیں، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس قسم کے معاملات کی ذمہ داری بالواسطہ یا بلاواسطہ متعلقہ وزیر ومشیر پر عائد ہوتی ہے خواہ ان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو ان کا ملوث نہ ہونا معنی نہیں رکھتا کیونکہ اپنے محکمے میں بدعنوانی وبے ضابطگی کی روک تھام متعلقہ وزیر کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن بہرحال تحقیقات میں تعاون اور اس قسم کے عناصر پر کیس ثابت ہونے کی صورت میں ان کیخلاف کارروائی ہی وہ موزوں راستہ رہ جاتا ہے جو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مشیر تعلیم نے یہ راستہ اختیار کر کے ثابت کیا ہے کہ ان کو ان معاملات کا علم نہ تھا اور نہ ہی وہ ان معاملات میں کسی طرح ملوث تھے۔ محکمۂ تعلیم میں بدعنوانی، ناجائز تقرریاں وتبادلے، سکولوں میں اساتذہ کی ناقص کارکردگی اور ان جیسے معاملات خاصے سنجیدہ مسائل ہیں جن کی روک تھام کیلئے جن اقدامات کی ضرورت ہے اس کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔ امتحانات میں نقل کی روک تھام نہ ہونا اور پرچے آؤٹ ہونے کی شکایات بھی قابل غور ہیں جو محکمۂ تعلیم کے حوالے سے منفی تاثرات کا باعث بن رہے ہیں۔ مشیر تعلیم کو نیب کیساتھ ساتھ خود بھی ان الزامات کا محکمہ جاتی تحقیقات کرانا چاہئے تاکہ درست صورتحال سامنے آئے اور قصوروار عناصر کیخلاف محکمانہ کارروائی کی ضرورت ہو اور قانون کا تقاضا ہو تو اسے پورا کیا جا سکے۔

کرایہ داروں کا ڈیٹابیس مرتب کرنے کی ضرورت

حیات آباد میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے کرایہ داری ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنانے اور خالی عمارتوں کی سیکورٹی کلیئرنس کے اقدامات پر توجہ کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حیات آباد سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں حالات کی بہتری کیساتھ ہی پولیس نے کرایہ داری ایکٹ کے تحت کرایہ داروں کو این او سی کے اجراء میں بری طرح غفلت کا مظاہرہ شروع کر دیا تھا۔ حیات آباد میں پانچ چھ ہزار روپے دے کر بغیر تصدیق کئے این او سی کے اجراء کی بازگشت ہے جس کا نتیجہ سامنے آچکا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پشاور پولیس کو کرایہ داروں کا ایک ڈیٹابیس قائم کر کے اسے روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کرنا چاہئے، ایک مرتبہ جملہ کوائف کی تفصیلی چھان بین کے بعد اطمینان کی صورت میں اگر کرایہ داروں کے کوائف ڈیٹابیس میں درج کر کے کارڈ جاری کیا جائے تو نہ صرف پولیس کا کام آسان ہوگا بلکہ کرایہ دار اس کارڈ کے ذریعے دوسری جگہ شفٹ ہو کر صرف تھانے میں رسمی اندراج کر کے مزید زحمت سے بچ سکیں گے۔ کرایہ داروں کے اندراج کے موجودہ طریقۂ کار میں نقائص اور خامیوں کو ختم کر کے ایک مربوط نظام رائج کیا جائے جس میں نادرا کی طرز پر کسی بھی کرایہ دار کے کوائف اور تفصیلات پولیس ڈیٹابیس سے بوقت ضرورت حاصل کئے جاسکیں۔

نجی سکولز اتھارٹی عملی اقدامات کب اُٹھائے گی

پرائیویٹ سکولز اتھارٹی خیبر پختونخوا کی جانب سے نجی سکولوں کو عدالتی احکامات کی تعمیل میں سالانہ فیس، ایڈمیشن فیس، پروموشن فیس اور لیبارٹری فیس کی وصولی سے احتراز کرنے کی ہدایت تو جاری کر دی ہے جس پر عملدرآمد سے احتراز پر شک نہیں بلکہ یقینی ہے۔ خیبر پختونخوا کے نجی سکولوں میں وہ تمام فیسیں مارچ میں ایڈوانس میں وصول کی جا چکی ہیں جبکہ گرمیوں کی چھٹیوں کی فیسیں گزشتہ سال وصول کی گئیں اور مئی میں والدین کو دو دوماہ اور اگلے مہینے ہی جولائی اگست کے فیسیوں کی ایڈوانس وصولی کے نوٹس جاری ہونے والے ہیں۔ اس تمام صورتحال سے پوری طرح باخبر ہونے کے باوجود نجی سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کا ہدایت نامہ ملی بھگت ہی قرار دیا جائے گا الا یہ کہ اتھارٹی گزشتہ سال وصول شدہ گرمیوں کی چھٹیوں اور اس سال نئی کلاسوں میں جانے کی بھاری فیسوں کی واپسی کیلئے عملی اقدامات کر کے والدین اور طلبہ کو ان کا حق دلائے۔

متعلقہ خبریں