Daily Mashriq


قبائلی عوام کو وزیر اعظم کی یقین دہانی

قبائلی عوام کو وزیر اعظم کی یقین دہانی

وزیراعظم عمران خان نے اورکزئی ایجنسی میں اپنے خطاب میں قبائلی عوام کو یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جنگ کے دوران جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، گھر اور کاروبار تباہ ہوئے اس پر عوام کی مدد کی جائے گی اور یہاں کے عوام کی قربانیوں کو نہیں بھولا جائے گا۔ انہوں نے کہا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ایک نئی تنظیم ہے جو پشتونوں اور قبائلی علاقوں کی تکلیف کی بات کرتی ہے، وہ ٹھیک بات کرتی ہے کہ لوگوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا اور نقل مکانی کرنی پڑی اور جنگ میں بے قصور لوگ مارے جاتے ہیں لیکن جس طرح کا لہجہ وہ اختیار کر رہے ہیں وہ ہمارے ملک کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت تکلیف سے گزرنے والے لوگوں کو اپنی فوج کیخلاف کرنا، اس طرح کے نعرے لگانا، لوگوں کے دکھ ودرد پر نمک چھڑک کر بھڑکانا اور کوئی حل پیش نہ کرنا، اس سے پاکستان اور قبائلی علاقے کو کیا فائدہ ہوگا؟ برے وقت میں سب سے زیادہ میں نے آواز اُٹھائی لیکن آج یہ سوچنا ہے کہ ہم نے آگے کیسے بڑھنا ہے، یہاں کے حالات کیسے بہتر کرنے ہیں، بچوں کو تعلیم دینی ہے، اصل چیلنجز یہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کیلئے حل یہ ہے کہ ان کی مدد کریں، ان سے ہونے والے ظلم کا معاوضہ دیں، آئی ڈی پیز کو گھر ٹھیک کرنے کیلئے پیسہ ادا کریں اور اس کیلئے خیبر پختونخوا حکومت آپ کی مدد کرے گی۔دریں اثناء حکومت نے پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے چار مطالبات تسلیم کر لئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق معاون خصوصی وزیراعظم افتخار درانی کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ بحال کر دیا گیا ہے جبکہ پشتونوں کے بلاک شناختی کارڈ بحال کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع میں بیشتر چیک پوسٹس ختم کر دی گئی ہیں جبکہ لاپتہ افراد کے معاملے پر پہلے ہی کام ہو رہا ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے پشتون تحفظ موومنٹ کے نمائندوں کو اپنی معروضات سے آگاہ کرنے کا موقع دیا، خیبر پختونخوا کی حکومت بھی ان سے مذاکرات کی خواہاں ہے۔ ان سارے حالات کو محولہ تنظیم کیلئے اطمینان کا باعث ہونا چاہئے لیکن شاید ہی پی ٹی ایم کو اس پر اطمینان ہو۔ پی ٹی ایم اگر معاملات کا حل نکالنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو پھر اسے اپنے بیانیہ کے بعض حصوں سے رجوع کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ خود وزیراعظم نے تسلیم کیا ہے کہ پی ٹی ایم کا سارا بیانیہ غلط نہیں، اس کے موقف کا ایک حصہ درست نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کی میز پر سنجیدگی سے بیٹھا جائے اور ایک دوسرے کے مؤقف کو سنا اور سمجھنے کی کوشش کی جائے تو نہ صرف ایک دوسرے کے تحفظات کا خاتمہ ہوسکتا ہے بلکہ محرومیوں اور مسائل کا حل بھی نکل سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی اضلاع کے عوام جس ابتلاء کے دور سے گزر چکے ہیں ان کے لب ولہجے میں تلخی، محرومیاں اور شکایات فطری امر ہیں لیکن اس کی آڑ میں ایسا لب ولہجہ اختیار کرنا اور ملکی اداروں کو مطعون کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ کوئی بھی نقطۂ نظر حقیقت پسندانہ اور ثبوتوں اور دلائل کیساتھ پیش ہو تو اس کی گنجائش ہوتی بھی ہے اور پر مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور تحفظات دور نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں مگر جہاں پر عوام کے مسائل اور محرومیوں کی آڑ میں منافرت اور ملکی سلامتی کے تقاضوں سے کھیلنے کی سعی ہو وہ کسی بھی حکومت اور ریاست کیلئے قابل برداشت نہیں ہوتا۔ وزیراعظم عمران خان نے قبائلی عوام کے حوالے سے اپنے جس مؤقف کا تذکرہ کیا ہے اصولی اور بنیادی طور پر یہی قبائلی عوام کا مؤقف ہے جس میں آمیزش کی گنجائش نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تحفظات رکھنے والے عناصر کیلئے اس سے زیادہ سازگار ماحول کیا ہوگا جب خود وزیراعظم جلسۂ عام سے خطاب میں مؤقف کی مماثلت کا اعادہ کرتے ہیں جس کے بعد سوائے مذاکرات اور مفاہمت کیساتھ معاملات طے کرنے کے اور کوئی گنجائش نہیں۔ جہاں تک قبائلی اضلاع کا تعلق ہے قبائلی اضلاع کے عوام جس دور سے گزر کر آئے ہیں اور جن مشکلات کا انہوں نے سامنا کیا ہے حب الوطنی اور قبائل دوستی کا تقاضا یہ ہے کہ قبائلی عوام کو نہ تو ان کے نمائندے کسی نئی کشمکش اور محاذ آرائی سے دوچار کریں اور نہ ہی حکومت قبائلی اضلاع کے عوام کو مزید محرومیوں کا شکار بنائے رکھے۔ جہاں تک پی ٹی ایم کے مطالبات کا تعلق ہے ان کے مطالبات خواہ وہ جس سے بھی متعلق ہوں ان پر پیشرفت ہو رہی ہے۔ بہت سے معاملات حکومت نے حل بھی کر لئے ہیں اور مزید پیشرفت ہونی ہے۔ مسائل کے حل کیلئے مفاہمت اور صلح جوئی کا راستہ ہی مناسب راستہ ہے جسے اختیار کئے بغیر محرومیوں کا رونا رونا اور تحفظات کا اظہار مناسب نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ جہاں پی ٹی ایم کی قیادت اپنے کردار وعمل اور مؤقف پر نظرثانی کرے گی اور لچکدار رویہ اپنائے گی وہاں وزیراعظم عمران خان نے جس دردمندانہ انداز میں قبائلی عوام کے مسائل کے حل کے حوالے سے اُن سے وعدہ کیا ہے اُسے ایفا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں