Daily Mashriq

میں کچھ نہیں جانتا

میں کچھ نہیں جانتا

ایک مشہور فلسفی نے کہا تھا کہ میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ میں بھی جانتا ہوں یا نہیں۔ اناطول لیوین نے اپنی کتاب ''پاکستان ایک مشکل ملک'' (Pakistan "a hard country") میں یہ لکھا ہے کہ وہ پاکستان کے حوالے سے کچھ ایسا ہی محسوس کرتے ہیں جو اس فلسفی نے زندگی کے حوالے سے محسوس کیا۔ پاکستان میں کسی بات کا کیا ردعمل دیکھنے میں آسکتا ہے اور اس بات کے نتیجے میں لوگ کیا مؤقف اختیار کر سکتے ہیں اس حوالے سے کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اناطول لیوین کی کئی باتوں سے میں متفق ہوں۔

پاکستان کو سمجھنا شاید کسی بھی باہر کے آدمی کیلئے اس لئے بھی مشکل ہے کیونکہ پاکستان کے مزاج کو مکمل طور پر نہ تو وہ سمجھ سکتے ہیں اور پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ وہ اپنے پیمانوں پر پاکستان کو پرکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ ان لوگوں کیلئے قانون کا مطلب کچھ اور ہے اور پاکستان میں اس کا حقیقی مطلب کچھ اور دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح کئی اور معاملات ہیں، سیاستدانوں کے کردار تو پوری دنیا میں ایک ہی جیسے دکھائی دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ان کے کرداروں کے مختلف ایسے رنگ دکھائی دیتے ہیں جن کا تناسب دیگر ملکوں میں شاید مختلف ہو۔ پاکستان میں کم پڑھے لکھے اور محض اپنے مزاج کے دباؤ پر کام کرنے والے لوگوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ وہ اپنی فطرت کو کسی علم یا تحقیق سے کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیتے۔ ان کا اکثر یہ خیال ہوتا ہے کہ جو انہوں نے سوچا وہی اس ملک کیلئے بہترین ہے اسی لئے جب وہ مسنداقتدار سے اُتر کر کسی بھی محتسب کو جوابدہ ہوتے ہیں تو ان کے پاس جواز نہیں ہوتا، بس انہیں اپنی کیفیت یاد ہوتی ہے۔ انہیں یہ بھول جاتا ہے کہ جب انہوں نے کوئی بھی بات کی تھی اس وقت ان کی ہاں سے ہاں ملانے والی بیوروکریسی نے انہیں کس طرح یقین دلایا تھا کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہ کیسا کمال ہے اور اس سے کیا کمال ہو جائے گا۔ وہ سیاستدان جنہیں اپنی جیبیں بھرنے سے غرض تھی، انہیں راستے دکھانے والے کون تھے۔ ان سیاستدانوں کا کمال یہ ہے کہ یہ اپنے عہدے سے اور اپنی طاقت سے گھبراتے نہیں۔ انہیں اس غرور میں یہ بھی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ وقت لد جانے والا ہے جیسے ان سے پہلے اور لوگوں کا لد گیا ہے۔

اس حکومت سے پہلے ایسے لوگ حکومت میں رہے جن میں سے اکثر کی خواہش ذاتی مفاد کی جھولی بھر لینے کی تھی۔ اس لئے ان کے احتساب کی جہت ہی اور تھی۔ افسوس اس حکومت کے حوالے سے ہوگا کیونکہ ذاتی مفادات ان لوگوں کے مدنظر نہیں۔ یہ واقعی ملک کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں، کچھ عمران خان کا خوف بھی ہے لیکن کئی پرانے پاپی ہیں اور کئی محض باتوں کے سکندر۔ صرف تجربے یا نیت کی بنیاد پر گنجلک مسائل کے درست فیصلے نہیں کئے جاسکتے۔ ان کیلئے عملی قابلیت اور تحقیق سے آگہی کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ یہ بات اکثر پاکستان میں کسی کا بھی مطمع نظر نہیں ہوتی۔ اسی لئے غیر ملکیوں کو پاکستان کی سمجھ نہیں آتی اور یہ بات بھی طے ہے کہ اس حکومت کا احتساب بھی جلد ہی شروع ہو جائے گا کیونکہ یہ وہ فیصلے کریں گے جو کل انہی کی گردنوں کا طوق بن جائیں گے اور انہیں یہ سمجھ نہیں آئے گی کہ ان کی اس میں غلطی کیا ہے لیکن یہ سب جانتے بوجھتے میں خود بھی اناطول لیوین کی طرح یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اتنا تو میں جان گئی ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتی لیکن کیا معاملہ اس سے آگے بھی ہے یا بس اتنی ہی کہانی ہے۔

پاکستان اک عجب گھناؤنے بھنور کا شکار تھا۔ بدعنوان سیاستدانوں کی باریاں لگی ہوئی تھیں اور ان کے علاوہ کوئی اور دکھائی نہ دیتا تھا۔ دینی جماعتوں سے خوف محسوس ہوتا تھا اور ان کے کردار پر شک بھی تھا۔ وقت نے جہاں بہت کچھ سکھایا، وہیں یہ بھی سمجھا دیا کہ اس سب کا حل متبادل قیادت کی تلاش میں ہے۔ ان لوگوں کی تلاش میں جو اس ملک کے وفادار ہوں، کہیں کہیں اس خیال نے بھی جنم لینا شروع کیا کہ اس تبدیلی کیساتھ خود کو بدلنے کی بھی ضرورت ہوگی۔ سو ایک نئے عمل کا آغاز ہوا۔ لوگوں نے اس تبدیلی کو کھلے دل سے قبول کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اپنے دل ودماغ کو پرانے سیاستدانوں کی جانب سے بدل کر نئے ملک سے وفادار سیاستدانوں کی طرف مائل کرنا ہی سب سے بڑا کمال ہے، سو اس حکومت کے عنان اقتدار سنبھالتے ہی لوگوں نے ان سے یہ اُمید کرنا شروع کردی کہ ان کے قبضے میں جادو کی چھڑی تو ہوگی لیکن وہ جادو کی چھڑی کہیں بھی موجود نہ تھی۔ یہ ایک ایسی حکومت تھی جو منتظرین کی حکومت تھی۔ پرانے پاپی اپنے اندر کی تبدیلی پر خوش تھے کہ وہ بدل گئے ہیں حالانکہ بار بار ان کا اصلی رنگ بھی جھلکتا ہے لیکن نہ کسی بات کا علم ہے اور نہ ہی تحقیق کی گنجائش۔ ہر ایک بے چارہ وزیر خواہ عمر کے کسی حصے میں بھی ہے، وزیراعظم کو کارکردگی دکھانا چاہتا ہے اور فیل ہونے سے ڈرتا ہے۔

اسد عمر کے جانے سے یہ دباؤ اور بھی بڑھ گیا ہے لیکن یہ معاملات تب تک حل نہ ہوں گے جب تک حکومت کے مزاج میں واضح تبدیلی پیدا نہ ہوگی۔ جس کرسی پر وہ براجمان ہیں وہ جب تک اس کے قد کے نہ ہوں گے، معاملات درستگی کی جانب گامزن نہ ہوں گے۔ اس حکومت کو اپوزیشن کیفیت سے بھی نکلنا ہوگا۔ ٹیم بنانے کی صلاحیت مجتمع کر کے، بیوروکریسی میں سے اچھے لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنا ہوگا اور کسی اور کی عقل استعمال کرنے کے بجائے اپنی عقل پر انحصار کرنا ہوگا۔ اگر یہ نہ ہوسکا تو پھر ملک کی حالت تو دگرگوں ہے، نیب کا کام بڑھتا چلا جائے گا۔

متعلقہ خبریں