Daily Mashriq


صدارتی نظام اور پارلیمانی نظام کی بحث

صدارتی نظام اور پارلیمانی نظام کی بحث

ایسا لگتا ہے کہ جیسے پاکستان میں آبادی کا ایک حصہ ہمیشہ صدارتی طرز حکومت سے کافی متاثر رہتا ہے۔ حالانکہ 64برس قبل متفقہ رائے سے منظور ہونے والے1973 کے آئین نے پارلیمانی نظام کے حق میں اس سوال کو حل کردیا تھا مگر یہ سوال ہر کچھ عرصے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھار تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے کو یہ جائزہ لینے کے لیے منظر عام پر لایا جاتا ہے کہ آیا صدارتی نظام کی حمایت میں ٹھوس رائے عامہ موجود ہے یا نہیں۔ ان دنوں ایک بار پھر اس سوال کی بازگشت سوشل میڈیا اور چند الیکٹرانک میڈیا اداروں میں سنائی دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود چند افراد کی جانب سے صدارتی طرز حکومت کی جوش و ولولے کے ساتھ تعریف کرنے کے باوجود زمینی طور پر موجودہ نظام کو صدارتی نظام سے بدلنے کے حوالے سے کوئی حقیقی حمایت نظر نہیں آتی۔ وفاقی یا صوبائی قانون ساز ایوانوں میں سے کسی ایک نے بھی اس سوال پر کبھی مباحثہ تک نہیں کیا، صدارتی نظام کی حمایت میں قرارداد منظور کرنا تو دور کی بات ہے۔اگر صدارتی نظام کے لیے تھوڑی بہت حمایت موجود بھی ہے تب بھی اس کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کرنے یا اس کی حمایت میں دلائل دینے میں کچھ غلط نہیں۔ صدارتی نظام کے حمایتیوں کی جانب سے ہر شخص کو دستیاب جمہوری طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے نکتہ نظر کے حق میں قائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ بھی ایک قابلِ قبول فعل ہے۔منطق، حقائق اور اعداد پر مبنی ایک صحتمندانہ مباحثہ جمہوری کلچر کا حصہ ہوتا ہے اور اگر کبھی ایسا موقع آئے کہ جب رائے عامہ کی اکثریت صدارتی نظام کے حق میں چلی جائے جو ریفرنڈم سے واضح ہوتی ہو اور دونوں ایوان پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کریں تو نظام کی تبدیلی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سری لنکا نے بھی چند برس قبل جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے یہ تبدیلی کی جبکہ ترکی نے تو محض ایک برس قبل ہی ایسا کیا ہے۔تاہم یہ بڑی ہی حیرت کی بات ہے کہ جہاں پاکستان میں جمہوریت کو متعدد اہم مسائل کا سامنا ہے وہیں رائے عامہ کا ایک حلقہ صدارتی نظام کے فائدوں اور نقصانات پر بحث کرنا اہم سمجھتا ہے۔ اگر مقامی حکومت کے موضوع کی مثال لیجیے، جو جمہوریت کو گہرائی تک لے جانے اور جمہوریت کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچانے میں اہم کردار کرتی ہے۔ مقامی حکومت کا نظام کس قسم کا ہونا چاہیے؟ موجودہ وقت میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بہت اہم ہے کیونکہ اگلے مقامی انتخابات سے پہلے پہلے صوبائی حکومتیں اپنے اپنے صوبے میں مستقبل کے مقامی حکومت کے نظام کو حتمی شکل دینے میں جٹی ہیں۔ 1973کے آئین کے تحت اب تک10انتخابات کا انعقاد ہوچکا ہے مگر ان انتخابات میں سے کسی ایک میں بھی نظام حکومت کی تبدیلی کے معاملے کو اٹھایا نہیں گیا۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کی مزید تصدیق ہوجاتی ہے کہ مرکزی دھارے کی کسی ایک سیاسی جماعت نے کبھی بھی صدارتی طرز حکومت کی تجویز پیش نہیں کی ہے۔ یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پارلیمانی نظام حکومت کو صدارتی طرز حکومت سے بدلنا کبھی بھی ایک عوامی مسئلہ نہیں رہا اور نہ ہی یہ سیاسی جماعتوں اور قانون ساز ایوانوں کے نزدیک اہم معاملہ رہا ہے۔عام طور پر صدارتی نظام کو اس لیے ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ یہ دیگر نظام کی نسبت مستحکم تصور کیا جاتا ہے جبکہ وزرا اعظم کو سادہ اکثریت کے ساتھ عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہٹانا کافی حد تک آسان ہوجاتا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ جیسے آئین میں کافی بدلا آتا رہا ہے ویسے ہی پارلیمانی نظام حکومت بھی تبدیل ہوا ہے جس کے باعث اس نظام سے وابستہ زیادہ تر خامیوں پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کے ابتدائی 11برسوں کے دوران بار بار حکومتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث 1973کے آئین کے اندر سیاسی عدم استحکام سے بچا کے لیے کئی ساری دفعات شامل کی گئیں۔جس کے بعد سے آئین مزید بہتر ہوا ہے اور وزیر اعظم کا عہدہ کم از کم سیاسی طور پر تو کافی مستحکم ہوا ہے۔ 1973کے آئین کی منظوری کے بعد عدالتی، فوجی اور صدارتی مداخلتوں کے سوائے کسی بھی وزیراعظم کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے عہدے سے سبکدوش نہیں کیا گیا۔ فوجی حکمرانوں کی جانب سے آئین میں بار بار متعارف کروائے جانے والے قومی اسمبلی کی تحلیل اور وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے صدارتی اختیارات کا خاتمہ کیا جاچکا ہے۔ آئینی دفعات کے ذریعے اراکین قومی اسمبلی کے لیے سیاسی حمایت بدلنا بہت ہی کٹھن بنا دیا گیا ہے۔ ان نئی دفعات کی مدد سے پاکستان میں پارلیمانی نظام تقریبا صدارتی نظام جتنا ہی مستحکم بن چکا ہے۔حتیٰ کہ صدارتی نظام مثلاً جو امریکا میں رائج ہے، اس میں بھی قانون ساز ایوان اور صدر کے درمیان تعطل کے معاملے کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی کے برسوں میں بھی متعدد بار خرابیاں دیکھنے کو مل چکی ہیں، جس میں سے ایک حال ہی میں امریکی وفاقی حکومت کے اندر بجٹ کے معاملے پر صدر اور کانگزیس کے درمیان اختلافات کی صورت میں نظر آئی۔ چنانچہ عدم استحکام کی دلیل صدارتی طرز حکومت پر بھی اتنی ہی صادق آتی ہے۔پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے پارلیمانی نظام پر کامیابی کے ساتھ عمل پیرا ہے اور اس نظام کو من گھڑت عدم استحکام کا بہانہ بنا کر مصنوعی طور پر صدارتی نظام سے بدلنے کا بظاہر ایسا کوئی ایک بھی درست جواز موجود نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں