Daily Mashriq

کرپشن اور جیب دار کفن

کرپشن اور جیب دار کفن

قومی احتساب بیورو(نیب) اس وقت احتساب کے حوالے سے ملک کا سب سے فعا ل ادارہ ہے۔ نیب کی اس فعالیت اور تحریک میں عیب تلاش کرنے اور بیان کرنے والے بھی کم نہیں مگر سو فیصد اچھا نہیں صحیح احتساب کے نام پر کچھ نہ کچھ تو ہو رہا ہے۔ ماضی میں اس طرح کے ادارے محض تفریح طبع، وقت گزاری اور منظورنظر افراد کو روزگار دینے کی خاطر بنائے جاتے تھے۔ بسا اوقات سیاسی مخالفین کو کسنے کیلئے اس طرح کے اداروں کو وجود بخشا جاتا تھا جس سے احتساب کے نام پر ایک رونق سی بھی لگی رہتی تھی اور حکمران طبقات کا وقت بھی گزرجاتا تھا۔ احتساب کیساتھ اسی غیرسنجیدہ روئیے نے پاکستان کو آج بدحال کرکے چھوڑا ہے۔ پاکستان بدحال ہوتا گیا تو حکمران کلاس امیر سے امیر تر ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک بدعنوانی کا ایک پرتقدس مقام عطا ہوگیا۔ احتساب کرنے میں چونکہ ریاست سنجیدہ تھی ہی نہیں اس لئے ہر قابل احتساب کیلئے جمہوریت، صوبائیت اور لسانیت سمیت کئی پردوں کے پیچھے چھپنا آسان ہوتا رہا۔ اس وقت بھی ملک میں احتساب کا غلغلہ بلند ہے۔ نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شارٹ کٹ سے امیر ہونے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی اور جو لوگ بھی اس دنیا سے گئے خالی ہاتھ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میگا کرپشن کے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانا اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے متاثرین کی رقوم کو واپس دلانا اولین ترجیح ہے۔ چیئرمین نیب کا کفن کی جیب نہ ہونے کی بات ایک ابدی سچائی اورحقیقت کا اظہار ہے۔ چیئرمین نیب کی حیثیت سے ان کے سامنے راتوں رات ارب پتی بننے، غریب محنت کشوں کی عمر بھر کی جمع پونچی لوٹنے اور بہت سے معززین اور شرفاء کی طرف سے کمیشن اور کرپشن کے کتنے ہی کیسزکی فائلیں ہوں گی۔ گزشتہ چند دہائیوں سے اس ملک اور معاشرے پر دو المئے گزر گئے۔ ایک تو کرپشن عام ہوئی۔ افراد سے اداروں تک کرپشن کی ایک لہر سی چل پڑی۔ ہمارا بہت کچھ اس لہر میں بہہ گیا، دوسرا یہ کہ قانون کی حکمرانی اور عمل داری محدود ہوتی چلی گئی اور کرپشن کی روک تھام کرنے والے سرکاری ادارے غیر مؤثر ہوتے چلے گئے۔ اس روئیے سے کرپشن کے مقابل بندھے ہوئے سارے بند ٹوٹ کر رہ گئے۔ سارے سپیڈ بریکر اُڑ گئے اور کرپشن معاشرے کا عمومی چلن اور رجحان بن کر رہ گیا۔ میگا پروجیکٹس کیساتھ کرپشن اور کمیشن لازم وملزوم ہو کر رہ گئی۔ معاشرے کا اجتماعی ضمیر جو پہلے کرپشن کے حوالے سے حساس ہوتا تھا اور غیرمعمولی اور ناجائز ذرائع سے ترقی کرنے والوں کو معاشرے میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا تھا اب قدریں کچھ اس انداز سے بدل گئیں کہ وہی شخص معاشرے میں محترم اور معتبر قرار پایا اور اس کی تیز رفتار ترقی اور شارٹ کٹ کو اس کی غیرمعمولی صلاحیت کا عکاس اور نمونہ سمجھا جانے گا جو معاشرہ چند ہی برس پہلے تک ایسے کرداروں سے کراہت محسوس کرتا تھا وقت بدلتے ہی ان کرداروں کو آئیڈیلائز کرنے لگا۔ یہ فکری اور اخلاقی بحران اور زوال کی انتہا تھی۔ اس دوڑ میں کسی کو یاد ہی نہیں رہا کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی۔ یوں لگتا ہے کہ یہ لوگ فراعین مصر کی طرح اہراموں میں دولت کے انبار ساتھ لیکر جانے پر یقین رکھنے لگے ہیں۔ ان کا بس چلے تو جیبوں والے کفن بھی سلوا لیں اور وصیت کر جائیں کہ انہیں جیب دار کفن میں دفن کیا جائے۔ اس میں کسی سیاسی اور غیرسیاسی، بیوروکریٹ یا چھوٹے ملازم کی قید نہیں جس کو یہ لت پڑ گئی اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ قومی اور ذاتی ملکیت کا فرق ہی معدوم ہو کر رہ گیا۔ کرپشن دنیا میں کہاں نہیں ہوتی مگر معاشرے کا عمومی چلن بہت کم جگہوں پر بنا کرتی ہے اور قانون کا خوف کرپشن کو رواج بننے سے روکے رکھتا ہے۔ یوں تو سرمائے اور کرپشن کا چولی دامن کا ساتھ ہے مگر کرپشن کی روک تھام کے ادارے بھی ساتھ ساتھ فعال رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں کرپشن کو فروغ تو ملا مگر اس کی روک تھام کیلئے قائم ادارے رفتہ رفتہ غیر مؤثر ہوتے چلے گئے۔ احتساب کی حقیقی روح قبض کی جاتی رہی اور اس نام پر انتقام کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس نے احتساب کی معنوی شناخت کو بھی گنوا دیا اور احتساب محض ایک بے نتیجہ عمل اور بے معنی اصطلاح ہو کر رہ گیا۔ اس وقت احتساب کا عمل جاری ہے مگر یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ کسی کو علم نہیں۔ بیوروکریسی جس کا کام حکمرانوں کو قاعدہ قانون سکھانا اور ایک متعین حد کے اندر رکھنا تھا خود حکمرانوں اور بااثر طبقات کو چور راستے بتاتی رہی۔ طاقت اور اختیار کے آگے قانون کی حکمرانی کا علم لہرانے والے بیوروکریٹ معاشرے اور سسٹم میں ناپید ہوگئے اور اس کی جگہ حکمران اور طاقت کو حرام کمائی کے چور راستے دکھانے والے غالب آگئے۔ یہی بیوروکریسی احتساب سے ناراض ہو کر کام چھوڑ ہڑتال کرتی ہے۔ کرپشن کو سو فیصد ختم تو نہیں کیا جا سکتا یہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے اور اس نظام میں فقر وقناعت کی جگہ کروفر کو اہمیت حاصل ہے مگرکرپشن کی روک تھام کیلئے قائم اداروں کو فعال بنا کر اس ناسور کی تباہ کاریوں کو کم ازکم سطح پر رکھا جا سکتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں سادہ طرززندگی اپنانے کے پیچھے یہی فلسفہ تھا کہ انسان دولت کی جائز وناجائز دوڑ میں شریک رہنے سے محفوظ رہتا تھا۔ اقبال نے ''خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر'' جیسی سوچ یہیں سے کشید کی تھی۔ شاید اسی طرززندگی کو ترک کرنے نے آج ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے۔

متعلقہ خبریں