Daily Mashriq

سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

زمانہ تو قیامت کی چال چل چکا ہے اور ہم ابھی تک لاحاصل مباحث میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ ہمارا آغاز کتنا شاندار تھا، دنیا کو ہم نے کیا کچھ نہیں دیا لیکن ہم لوگ تو ہمیشہ سے دشمن کے پروپیگنڈے سے مرعوب ہوتے رہے ہیں، ہمیں جو کچھ غیروں نے بتا دیا ہم نے دل کی گہرائیوں سے اس پر یقین کر لیا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی خامیوں پر نظر نہ رکھیں، اگر ہم اپنے کردار کے کمزور گوشے نہیں دیکھیں گے تو ہماری اصلاح کیسے ہوگی؟ ہمیں غیرجانبداری سے ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے، اسی میں ہماری بہتری ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ یورپ وامریکہ سے جو کچھ ہمارے بارے میں پچھلی کئی صدیوں سے کہا جا رہا ہے ہم اس پر اندھادھند ایمان لے آئیں۔ ہماری نوجوان نسل کو مغرب کی تاریخ سے بھی باخبر ہونا چاہئے۔ انہیں یہ معلوم ہو کہ مغرب نے اپنی ترقی کا سفر کب شروع کیا اور اس سے پہلے ان کے کیا حالات تھے؟ ان کے سوچنے کا کیا انداز تھا؟ ان کی ترقی سے ہمارے نوجوانوں کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں، یہ ان کی ہر اُلٹی سیدھی بات پر یقین کر لیتے ہیں، ان کا مکروفریب انہیں نظر نہیں آتا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پچھلی کئی صدیوں سے ہمارے نقائص ہی نکال رہے ہیں۔ اس بے پناہ پروپیگنڈے کا اثر یہ ہوا کہ ہماری نوجوان نسل احساس کمتری میں مبتلا ہوگئی، انہیں اب اپنی صلاحیتیں نظر ہی نہیں آتیں، میرا مطلب یہ ہے کہ انگریز پھٹی ہوئی پتلون پہنتا ہے تو ہمارا نوجوان بھی پھٹی ہوئی پتلون پہن لیتا ہے۔ اپنے دشمن کا کام ہم نے بہت آسان کر دیا ہے، وطن عزیز کا ہمیں کوئی خیال نہیں، ہم آپس میں دست وگریباں ہیں، دوسروں سے گلہ شکوہ کرنے کی بجائے یہ بہتر ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تاریخ میں اس سے بدتر دور سے انگریز گزرے ہیں لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنی تعریف ہی کی ہے اس کے برعکس انہوں نے ہمارے کارناموں کا ذکر تک کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ انہوں نے ہمیں ہمیشہ اپنے سے کمتر اور گھٹیا ہی سمجھا، ہماری چند خامیوں کو سامنے رکھ کر انہوں نے ہمارے خلاف اتنا پروپیگنڈا کیا ہے کہ ہمیں ذہنی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، ہم احساس کمتری کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر غلام جیلانی کی مشہور تصنیف ''یورپ پر اسلام کے احسان'' کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے! آپ لکھتے ہیں کہ ''آدمی آدمی سے ملے تو کچھ سیکھتا اور کچھ سکھاتا ہے۔ ہم سپین میں آٹھ سو، جنوبی فرانس میں دو سو، سسلی میں دو سو تریسٹھ اور جنوبی اٹلی میں ڈیڑھ سو برس تک حاکم رہے، محکوم پر حاکم کا اثر اتنا شدید ہوتا ہے کہ تہذیب وتمدن تو رہے ایک طرف بعض اوقات اس کا مذہب تک بدل جاتا ہے، ہندوستان پر انگریز نے صرف ڈیڑھ سو برس حکومت کی اور پچاس کروڑ انسانوں کا تمدن، لباس، طرز حیات اور نقطۂ نگاہ تک بدل گئے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کا جواب نہیں۔ مشہور مغربی مورخ رابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے کہ عربوں کے سپین اور سسلی کی تجارتی وصنعتی سرگرمیوں نے یورپ کی تجارت وصنعت کو جنم دیا، یورپ کے افلاس کی یہ حالت تھی کہ اٹلی کے تاجروں کے پاس عربوں کا مال خریدنے کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا تھا وہ عام طور پر اردگرد کے دیہات سے بچے چرا لاتے، انہیں غلام بنا کر بیچتے اور اس طرح رقم ادا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے ہند، چین، ملاکا اور ٹمبکٹو تک خشکی کے راستے کھول دئیے اور سوڈان وسقوطرہ سے مڈغاسکر تک تجارتی منڈیوں کا ایک سلسلہ قائم کر دیا۔ جہاز سازی کے فن کو ترقی دی، دنیا کو بحر پیمائی کا درس دیا، ہنڈیوں کا طریقہ رائج کیا اور بحری تجارت کیلئے انتظامی کونسلیں قائم کیں، آج ہماری نوجوان نسل کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جامعۂ قرطبہ عربوں کی قدیم ترین یونیورسٹی تھی جس کی بنیاد عبدالرحمن سوم (٩١٢۔٩٦١) نے رکھی تھی۔ اس میں یورپ، افریقہ اور ایشیا تک سے طلبہ آتے تھے! اس کی لائبریری میں چھ لاکھ کتابیں تھیں، اسکی فہرست چوالیس جلدوں میں تیار ہوئی تھی، جب مسلمانوں کو سپین سے نکالا گیا اور ان کی کتابیں جلا دی گئیں تو سپین کے بادشاہ فلپ دوم کو لائبریری بنانے کا خیال آیا، بہت تلاش کرنے کے بعد اسے صرف اٹھارہ سو کتابیں ملیں جن میں اسلامی کتب صرف نو سو تھیں'' آج ہمارے خلاف جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے دراصل یہ اسی سرد جنگ کا حصہ ہے جو صدیوں سے جاری ہے! فلمیں، کتابیں اور اخبارات ورسائل سب ہمارے خلاف ہی لکھ رہے ہیں حتی کہ ہماری تاریخ کو بھی بری طرح مسخ کر دیا گیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل اس مسخ شدہ تاریخ کو دیکھ کر اپنے اسلاف، اپنی تہذیب، اپنی تاریخ سے مایوس ہو جائے اور ہماری یہ حالت ہے کہ ہمارے انگلش میڈیم سکولوں میں نصاب بھی باہر سے آتا ہے۔ ہمیں اس بات پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ ہماری نئی نسل غیروں کا ترتیب دیا ہوا نصاب پڑھے, یہ صورتحال ہم سب کیلئے بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے، ہم شاہین بچوں کو خاکبازی کا درس دے رہے ہیں۔ یہ بچے اس بات سے بے خبر ہیں کہ قرون وسطی کے پہلے 500سالوں میں یورپ تاریکی اور وحشت میں ڈوبا ہوا تھا، 11ویں صدی میں اسلامی تہذیب وتمدن اور علوم وفنون مختلف راستوں سے یورپ پہنچے اور وہاں کی تاریکیوں کو روشنی میں بدل ڈالا۔

متعلقہ خبریں