Daily Mashriq

دن میں اگر چراغ جلائے تو کیا کیا

دن میں اگر چراغ جلائے تو کیا کیا

محاورہ تو گدھے کو باپ بنانے کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مقصد کے حصول کیلئے کسی پاجی یعنی برے شخص کی بھی خوشامد کرنا' مگر اس واقعے میں جس انسان اور وہ بھی پاکستانی کو باپ بنا کر اپنا مطلب نکالنے کی کوشش ناکام کا تذکرہ ہو رہا ہے اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خدا نخواستہ وہ کوئی برا آدمی ہوگا بلکہ اس واقعے میں تو ایسا لگتا ہے کہ باپ یعنی ''گدھا'' بننے والا کوئی سادہ سا آدمی ہے جسے کسی پاجی افغانی نے ضرورت کے وقت باپ کے درجے پر فائز کر دیا اور اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی مگر وہ جو کسی شاعر نے کہا تھا کہ لوگ یزداں کو بیچ دیتے ہیں، اپنا مطلب نکالنے کیلئے، تو خود کو باپ بنا کر بیچنے والے کو اُلٹا لینے کے دینے پڑ گئے۔ کہانی بس اتنی سی ہے کہ غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم ایک افغان مہاجر نے پاکستانی قومی شناختی کارڈ کے حصول کیلئے ایک پاکستانی کو باپ بنا لیا اور جب دونوں نادرا کے دفتر پہنچے تو شک گزرنے پر دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پاکستانی کا قصور بس اتنا تھا کہ اس نے افغانی سے کچھ رقم لیکر اس کا بناسپتی باپ بننا قبول کر لیا تھا مگر اسے پتہ نہیں تھا کہ بناسپتی باپ بنتے بنتے وہ محاورے والا گدھا بن رہا ہے اور صورتحال یہ ہوئی کہ چند روپوں کی خاطر موصوف نے مصیبت کو گلے لگا لیا ہے یعنی

کشتی ڈوبی ساحل پر

ہنسنے لگے گرداب اور میں

آپ نے بچوں کا مشہور کارٹون ٹام اینڈ جیری تو ضرور دیکھا ہوگا اس میں جیری یعنی چوہا اکثر ٹام یعنی بلے کو بے وقوف بنا دیتا ہے اور کسی خاص حوالے سے جب ٹام جیری کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے مگر تھوڑی دیر بعد اسے اپنی بے وقوفی کا احساس ہو جاتا ہے تو اس کے تصور میں گدھا آجاتا ہے اور اسے پتہ چل جاتا ہے کہ جیری نے اسے گدھا بنا دیا ہے۔

افغان مہاجرین کچھ عرصہ پہلے تک تو نادرا کے اندر ہی ایسے لوگ آسانی سے تلاش کر لیتے تھے جو چند روپوں کے عوض قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند کے مطابق جعلی شناختی کارڈز کے حصول میں مدد دے دیتے تھے اور بعد میں انہی جعلی شناختی کارڈوں کی مدد سے دوبارہ ملی بھگت سے پاکستانی پاسپورٹ کے حصول میں بھی کامیاب ہوجاتے تھے۔ اگرچہ پاسپورٹ کے متعلقہ عملے کو بھی پتہ چل جاتا تھا کہ یہ جس شناختی کارڈ کی بنیاد پر پاکستانی پاسپورٹ حاصل کیا جا رہا ہے یہ جعلی ہے مگر وہاں بھی جلب زر ہی بنیاد بن جاتا تھا اور اس کے بعد اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق مبینہ طور پر ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین جعلی شناختی کارڈوں اور پاسپورٹوں پر بیرون ملک پاکستان کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ مگر ہمارے اداروں کے اندر بیٹھے ہوئے مٹھی بھر لالچی افراد نے اس سوال پر سوچا ہی نہیں اور دھڑادھڑ جعلی شناخت کو اصلی میں تبدیل کرنے کے مکروہ دھندے میں ملوث رہے۔ البتہ جب صورتحال خراب ہوگئی اور دونوں اداروں کیخلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا تو تب ہوش آگیا۔ مگر تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی نہیں بلکہ کئی دریا گزر چکے تھے۔ یعنی

سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا

دن میں اگر چراغ جلائے تو کیا کیا

جعلی باپ بنانے کے حوالے سے ایک حقیقی واقعہ ریڈیو پاکستان میں بھی ایک بار رونما ہوا تھا' قاضی احمد سعید اس وقت ریڈیو پاکستان پشاور کے سٹیشن ڈائریکٹر تھے' بعد میں وہ سابق صدر ایوب خان کے پریس سیکریٹری بنے اور جب واپس ریڈیو آئے تو ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔ خیر جب وہ پشاور ریڈیو میں تعینات تھے تو ایک بار ایک رباب پلیئر نے تین دن کی چھٹی کی درخواست گزاری کہ اس کا باپ مر گیا ہے چھٹی دی جائے۔ درخواست آخری منظوری کیلئے قاضی صاحب کے پاس پہنچی تو انہوں نے شعبۂ موسیقی کے سربراہ کو بلوایا۔ تاج محمد خان مرحوم تھے تو مہمند پختون مگر موسیقی کے ماہرین میں ان کا شمار ہوتا تھا' قاضی صاحب نے تاج محمد خان کو کہا کہ جب یہ ربابی چھٹی سے واپس آئے تو اسے لیکر قاضی صاحب کے پاس آجائے۔ تین دن بعد جب چھٹی ختم ہونے کے بعد ربابی واپس آیا تو تاج محمد خان اسے لے کر سٹیشن ڈائریکٹر کے پاس لے گیا۔ قاضی صاحب نے پہلے تو اس کے ''مرحوم'' باپ کیلئے دعائے مغفرت کی اور پھر دراز کھول کر تین چار درخواستیں نکالیں اور ربابی سے پوچھا ''تمہاری ماں نے کتنی شادیاں کی تھیں؟'' ربابی اور تاج محمد خان دونوں حیرت سے قاضی صاحب کی طرف دیکھنے لگے' تو قاضی سعید نے کہا یہ دیکھو فلاں تاریخ کو تم نے باپ کے مرنے کی درخواست دی تھی' پھر یہ ایک اور درخواست بھی چند ماہ بعد اسی نوعیت کی' پھر یہ تیسری درخواست بھی تمہارے ہی باپ کے مرنے کے موقع پر چھٹی لینے کی ہے اور اب ایک بار پھر تم تین دن ایک اور باپ کو دفن کرنے کے بعد آئے ہو۔ تو اسی لئے پوچھا کہ بڑھاپے میں تمہاری ماں کتنی شادیاں مزید کرے گی؟ اس کے بعد محولہ رباب نواز کی طرف سے باپ کے مرنے کی درخواست نہیں آئی۔ اس لئے جس افغانی نے ایک پاکستانی کو باپ (گدھا) بنانے کی کوشش کی ہے اس سے پہلے وہ اپنی بے چاری ماں کی کتنی شادیاں کروا چکا ہے؟ بقول کلیم عاجز

بکنے بھی دو عاجز کو جو بولے ہے' بکے ہے

دیوانہ ہے دیوانے سے کیا بات کرو ہو

متعلقہ خبریں