Daily Mashriq


مشن ورلڈکپ کیلیے پاکسانی کرکٹرز نے کمر کس لی

مشن ورلڈکپ کیلیے پاکسانی کرکٹرز نے کمر کس لی

 آئندہ ماہ انگلینڈ میں شیڈول آئی سی سی ورلڈکپ کے لیے پاکستانی ٹیم نے کمر کس لی جب کہ ورلڈ کپ میں شریک کھلاڑی میگا ایونٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

آئندہ ماہ انگلینڈ میں شیڈول ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم نے باقاعدہ طور پر اپنی تیاریوں کا آغاز کر دیا۔ہفتہ کو کھلاڑیوں نے قذافی اسٹیڈیم بھرپور پریکٹس کی، ابتدا میں پلیئرز کی فٹنس کو مثالی بنانے کے لیے مخصوص ٹریننگ کروائی گئی، بعد ازاں کھلاڑیوں کواونچے کیچز تھامنے کی بھر پور پریکٹس کروائی گئی، مشقوں کا یہ سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہے گا۔

ادھر ورلڈکپ کے لیے پاکستانی ٹیم میں منتخب ہونے والے سات کھلاڑیوں فخر زمان، عماد وسیم، شاہین شاہ آفریدی، امام الحق، محمد حسنین اور شاداب خان نے میگا ایونٹ میں شاندار پرفارمنس دینے کا عزم کیا ہے۔

قذافی اسٹیڈیم میں ون ٹو ون میڈیا سیشن میں فخر زمان کا کہنا تھا کہ بھرپور تیاری کے ساتھ جارہے ہیں۔ پہلا ورلڈکپ کھیلنے کا کوئی پریشر نہیں، انگلش کنڈیشنز میں اس سے پہلے کھیلنے کا تجربہ ہے، آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے ذریعے ایک نئی پہچان ملی تھی۔ اس بار بھی کوشش ہوگی کہ پاکستانی ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کرکے اس کی فتوحات میں اہم کردار ادا کروں۔ بھارت کے ساتھ میچ کا انتظار ہے۔ کوشش کروں گا کہ ایک اور سنچری بناکر پاکستانی ٹیم کو جیت دلاؤں۔ اور عوام کو خوشیاں منانے کا موقع دوں۔

امام الحق نے اس موقع پر بات کرتے ہوے کہا کہ ورلڈکپ کھیلنے کا خواب پورا ہونے کی خوشی الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی باتوں سے حوصلہ افزائی ہوئی ہے،وزیر اعظم نے بتایا ہے کہ ذہنی طور پر جتنا پرسکون ہوں گے اتنی اچھی کارکردگی ہوگی۔

کرکٹر امام الحق نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ بطور اوپنر ان کی کوشش ہوگی کہ کسی کو تنقید کرنے کا موقع نہ دوں۔ چیف سلیکٹر کا بھتیجا ہونے کا پریشر صرف پرفارمنس سے اتارسکتا ہوں۔ پہلے بھی بیٹ سے جواب دیا ہے اب بھی ایسا ہی کروں گا۔

فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ویرات کوہلی سمیت سب لوگ میرے نشانے پر ہوں گے، خواہش ہے کہ ہر میچ کو اپنی عمدہ کارکردگی کے ذریعے یادگار بناکر نام کماؤں۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی کم عمری میں ورلڈکپ میں ملک کی نمائندگی کا موقع ملے گا۔کوشش ہو گی ویرات کوہلی،ڈیوڈ وارنر اور سمتھ کو آوٹ کرکے اپنے ملک کی عزت میں اضافہ کروں۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات سے قبل وہ تھوڑا نروس تھے تاہم اس ملاقات کے بعد ان کا مورال بلند ہوا ہے۔انھوں نے خود کو وسیم اکرم سے موازنہ کرنے سے متعلق کہا کہ ’یہ کرنا ٹھیک نہیں، تاہم کوشش ہوگی کہ 1992 کے ورلڈ کپ میں سوئنگ کے سلطان کی طرح پرفارمنس دے کر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کروں۔

اسپنر شاداب خان نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ میں اس ایونٹ میں بہترین آل راؤنڈر بن کر سامنے آؤں، اپنی منزل کے حصول کے لیے بولنگ کے ساتھ بیٹنگ پر بھی بھر پور توجہ دے رہا ہوں۔ٹیم کی صلاحیت کے بارے میں شاداب نے کہا کہ ہماری ٹیم دنیائے کرکٹ کی کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔

نوجوان فاسٹ بولر محمد حسنین نے کہا کہ پاکستان کے لیے کھیلنے کی خواہش تھی ، اللہ نے جلد پوری کر دی جب کہ اپنی اسپیڈ برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا۔

متعلقہ خبریں