Daily Mashriq


امریکہ کی افغان پالیسی کے اعلان کا التوا

امریکہ کی افغان پالیسی کے اعلان کا التوا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہفتے کے روز وزیر خارجہ ، وزیر دفاع اور سینئر جرنیلوں کے اجلاس کے بعدجو افغان پالیسی کا اعلان کرنے والے تھے وہ ایک بار پھر ملتوی ہو گیا۔ اس سے پہلے توقع کی جا رہی تھی کہ افغان پالیسی پر نظرثانی(جو سارے خطے پر امریکہ کی پالیسی پر محیط ہوگئی تھی) کی رپورٹ کا اعلان جولائی میں کر دیا جائے گا۔ اس دوران امریکہ کی وزارت خارجہ کے سینئر عہدیداروں اور سنٹرل کمان کے سینئر جرنیلوں نے پاکستان کے دورے کیے اور پاک فوج اور پاکستانی حکام سے مشاورت کی۔ کئی ہفتے سے جاری نظرِثانی کی مشق امریکی میڈیا میںبھی جاری رہی اور کہاجارہاتھاکہ پاکستان افغانستان میںدہشت گردی روکنے اور اپنی سرزمین افغان طالبان اورحقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہیں ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ امریکی میڈیا میں اگرچہ یہ سوال بھی اُٹھائے گئے کہ افغانستان میں فوج بھیجنے اور وہاں اپنی فوج برقرار رکھنے سے امریکہ کا کیا مقصد ہے۔ تاہم میڈیا میں یہ بیانیہ صاف نظر آیا کہ امریکہ پاکستان سے توقع رکھتاہے کہ وہ امریکہ کا افغان مسئلہ حل کرے۔ اس دوران امریکہ نے پاکستان کی کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت امداد بھی روک دی۔ جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ امریکی دفترخارجہ اور امریکی فوج کے جرنیل پاکستان میںآتے رہے اور پاکستانی حکام اور فوجی قیادت سے مشاورت کرتے رہے۔ایسے ہی ایک دورے کے دوران پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاویدباجوہ نے کہا کہ امداد سے قطع نظر پاکستان چاہتا ہے کہ اس نے گزشتہ عشرے کے دوران دہشت گردی کے خلاف جو جنگ کی ہے اس جنگ میں پاکستانی فوج اورپاکستانی قوم نے جو قربانیاںدی ہیں انہیں تسلیم کیا جائے۔ یہ کولیشن سپورٹ فنڈ کو منجمد کرنے اور ایسے بیانات کاشائستہ جواب تھا کہ جن کا لب لباب یہ تھاکہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کی مبینہ کارروائیاں روکے ۔ واشنگٹن سے جاری ہونے والے فارن پالیسی رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ پاکستان کی فوجی امداد بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جنرل باجوہ کے بیان میں یہ بات صاف عیاں تھی کہ امریکہ کی امداد سے زیادہ پاکستان کی خواہش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں دنیا ان کا اعتراف کرے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے جنرل جوزف ووٹل پاکستان کے دو روزہ دورے کے بعدواپس گئے ہیں۔ پاک فوج نے انہیں شمالی وزیرستان کادورہ بھی کرایا۔وہ علاقے بھی دکھائے جن میں افغان طالبان' حقانی گروپ اور داعش ایسی تنظیموں کے عناصر کا راج تھا اور اب وہ علاقے پاک فوج نے ان سے خالی کروا لیے ہیں۔ اور یہ کہ پاکستان نے ہر رنگ اور نسل کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی ہے اور ان کا قلع قمع کیاہے۔ امریکہ کی افغان پالیسی جو درحقیقت جنوبی ایشیاء پالیسی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اس کے اعلان کے ملتوی کیے جانے کی ایک بڑی وجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کا کردار ہے جس سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ پاکستان کے نزدیک کوئی اچھے یا برے دہشت گرد نہیں ہوتے بلکہ دہشت گرد صرف دہشت گردہوتے ہیں۔ دوسرے پاکستان کا یہ موقف بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان افغانستان کے مسئلے کے فوجی حل کا حامی نہیں سیاسی حل کا حامی ہے اور اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔تیسرے یہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے یہ کسی کے لیے نہیں لڑی جارہی۔یہ جنگ اگرچہ پاکستان کے اپنے استحکام کے لیے لڑی جا رہی ہے تاہم اس جنگ کی وجہ سے دہشت گردی کا پھیلاؤ رکا ہے۔ اس اعتبار سے یہ جنگ پاکستان دہشت گردی کے خلاف پرامن دنیا کی جنگ لڑ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ان کامیابیوں کے لیے جو قربانیاں دی ہیں دنیا انہیں تسلیم کرے اور اس بات کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ افغانستان کے استحکام میں جتنی دلچسپی پاکستان کو ہو سکتی ہے وہ کسی اور کو نہیں ہو سکتی۔ امریکہ کے جو سینئر اہل کار اور جرنیل حال میں پاکستان کا دورہ کر کے گئے ہیں باور کیا جاناچاہیے کہ ان کے خیالات ' تاثرات اور نظریات بھی افغان پالیسی کی نظرثانی کی ملتوی شدہ مشق میں شامل کیے جائیں گے۔ پاکستان نے اپنا موقف واضح طور پر بیان کر دیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا صفایا کیا جا رہا ہے اور کوئی دہشت گردپاکستان سے افغانستان نہیں جا رہا اور یہ کہ پاکستان افغانستان میں استحکام چاہتا ہے اور افغان مسئلے کے پرامن حل میں اپنا کردار اداکرنے کو تیار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان میں مزید امریکی فوج بھیجنے یا افغانستان کو امریکہ کی غیر سرکاری گوریلا گروپوں کے سپرد کرنے کا مقصد کیا ہے۔ کیا امریکہ افغانستان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ کیا امریکہ افغانستان میں دست نگر حکومت چاہتا ہے جس کی راہ میں افغان طالبان حائل ہیں۔ امریکہ اگر افغانستان میں کوئی جنگی کارروائی شروع کرناچاہتا ہے تو اس میں پاکستان فریق نہیں بن سکتا۔ اگر وہاں کوئی جنگی کارروائی کی گئی تو امکان غالب ہے کہ ایک بار پھر افغانستان سے مہاجرین یا شکست خوردہ عناصر پاکستان کا رخ کریں گے۔ اس لیے پاکستان کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ پاک افغان سرحدی انتظام کو جتنا بہتر بناسکے بنا ئے۔ سرحدی انتظام فول پروف ہو گا توافغانستان کا یہ الزام بھی غلط ثابت ہو جائے گا کہ پاکستان سے جا کر دہشت گرد افغانستان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔سرحدی انتظام کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود افغان باشندوں کو واپس بھیجنے کی بھی سعی کی جانی چاہیے خواہ وہ رجسٹرڈ ہوں خواہ غیر رجسٹرڈ ، مہاجرین کے نام سے پاکستان میں نا آباد ہوں۔ پاکستان کا یہ موقف امریکی اور عالمی میڈیا میں آشکار ہوتو مغرب کے پالیسی سازوں کو امن کی حمایت میں مدد ملے گی اور ان لوگوں کو بھی جو یہ سوال کرتے ہیں کہ امریکہ کن اہداف کو مدِ نظر رکھ کر افغان پالیسی پر نظرِثانی کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں