Daily Mashriq


سیاسی گرم بازاری میں کمی

سیاسی گرم بازاری میں کمی

سیاست کی اس گرم بازاری میں جہاں یہ تاثر عام ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے کچھ سابق اور حاضر سروس وزیر اداروں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں اور عدلیہ سے محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہے ہیں وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی کایہ بیان حوصلہ افزاء ہے کہ اداروں میں کوئی محاذ آرائی نہیں اور آئندہ عام انتخابات شیڈول کے مطابق 4جون ہی کو ہوں گے۔ انہوں نے سیاسی بیانات کی تندی کو عام انتخابات کے قریب آنے کے حوالے سے انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ حکومت ہی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی کے اس بیان کے ساتھ اگر پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کی پارٹی عہدیداروں کے لیے اس ہدایت پر بھی غور کیا جائے کہ وہ اداروں کے خلاف بیان بازی نہ کریںتو لگتا ہے کہ حکمران مسلم لیگ ن سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتجاجی مہم کے زیر اثر اداروں کے ٹکراؤ کی پالیسی کو نہیں اپنا رہی۔ اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی قابلِ غور ہے کہ سابق وزیر اعظم کے لالہ موسیٰ اور وزیرآباد کے جلسے بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔اس التواء کی وجہ جو کچھ بھی ہو اس کے باعث میاں صاحب کی وہ پراپیگنڈہ مہم جس کے تحت وہ عوام کے مینڈیٹ کی ''پامالی''پر احتجاج کر رہے تھے اور عدلیہ کے فیصلے پر سوال اُٹھا رہے تھے کہ انہیں کیوں نکالا گیااب ملتوی کر دی گئی ہے یا اس پر نظرثانی کی جا رہی ہے اور یہ حقیقت تسلیم کی جانے لگی ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہے ۔ بھاری مینڈیٹ لینے والی پارٹی کے ایک وزیراعظم کے بعد دوسرا وزیراعظم منتخب ہو چکا ہے، پارلیمنٹ اور صوبائی حکومتیں بھی کام کر رہی ہیں، سب ادارے اپنی جگہ کام کر رہے ہیں۔

ڈینگی وائرس اور حکومت خیبرپختونخوا

یہ خبر کہ پنجاب سے ڈینگی کنٹرول پروگرام کی ٹیم اور گاڑیاں پشاور پہنچ گئی ہیں اورانہوں نے شہر میں ڈینگی کے بارے میںآگاہی اور اس کے تدارک کے لیے اور دو ا کا سپرے کرنے کا پروگرام بھی مرتب کر لیا ہے، خیبر پختونخواہ حکومت اور خاص طور پر محکمہ صحت سے یہ سوال کرتی ہے کہ یہ آگاہی مہم صوبے میں ایک ماہ پہلے جب پری مون بارشیں ہورہی تھیں کیوں شروع نہ کی جا سکی۔کیا خیبر پختونخوا کی حکومت کے پاس ڈینگی کے خلاف آگاہی کی مہم اور ڈینگی کے تدارک کے لیے سپرے کے وسائل نہ تھے۔ پنجاب سے اس ٹیم کے ساتھ ڈاکٹروں کی بھی ایک ٹیم آئی ہے۔ کیا خیبرپختونخوا میں ایسے ڈاکٹر نہ تھے جو ڈینگی کے مریضوں کا علاج کر سکتے۔پتہ نہیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں کوئی حکومت سے یہ سوال پوچھ سکتا ہے یا نہیں۔ پشاور شہر میں تو پنجاب کی انسداد ڈینگی ٹیم نے کام شروع کر دیا جہاں کے ڈینگی کے مریضوں کی اطلاعات میڈیا کے توسل سے عام معلومات کاحصہ بنتی رہیں لیکن صوبے کے دوردراز علاقوں میںجہاںمیڈیا متوجہ نہیں ہے ڈینگی کے پھیلاؤ کا کیا حال ہے۔ یہ صورت حال صوبائی حکومت کو معلوم کرنی چاہیے تھی تاکہ ان علاقوں میں ڈینگی سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی مقامی وسائل اور ذرائع سے پھیلائی جاتی۔ اب بھی جب پشاور شہر میں پنجاب کی انسدادڈینگی کی ٹیموں کی مدد سے کام ہورہا ہے، دور دراز دیہی علاقوں میںفوری طور پر مقامی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کے توسل سے ڈینگی سے بچاؤ کے سپرے اور مچھربھگانے والی ادویہ بھجوانے کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ عید الالضحیٰ کے نزدیک آنے کی وجہ سے اب مختلف شہروں میں مویشی منڈیاں لگیں گی۔ بعض مویشی خانوں میں اور بدن کے مختلف حصوں میں پائے جانے والے چیچڑوں کے ذریعے کانگو وائرس پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان منڈیوں میںمویشیوں کے معائنے کے لیے حیوانات کے ڈاکٹر تعینات کیے جانے چاہئیں اور منڈیوں کی صفائی ستھرائی کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔ لیکن کیا یہ سب کچھ صوبائی حکومت کو بتانے کی ضرورت ہے ۔ یہ ایسی باتیں نہیں جو ارباب اختیار کو معلوم نہ ہوں' فرائض کی بجاآوری کا ارادہ ضروری ہے جو یاد ہی دلایا جا سکتا ہے ، پیدا نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں