Daily Mashriq

نواز بیانیہ۔گھسیٹا اور زہر کا پیالہ

نواز بیانیہ۔گھسیٹا اور زہر کا پیالہ

زرداری صاحب کی بات سُن کر مجھے اُس توتلے شخص کا ''گھسیٹا'' یاد آ گیا جس سے کسی نے نام پوچھا تو اُس نے ہکلا کر اپنا نام گھس۔۔۔سی ۔۔سیٹا'' بتایا۔ اب توتلے شخص نے دوسرے کا نام پوچھا کہ ''آپ۔۔۔ کا کیا ۔۔۔یا۔۔۔نا۔۔م ہے'' اُس شخص نے کہا نام تو میرا بھی ''گھسیٹا'' ہے لیکن میں نے اتنا نہیں گھسیٹا۔ زرداری صاحب کے بقول وزیر اعظم تو پیپلز پارٹی کا بھی برطرف ہوا تھا لیکن انہوں نے وہ آہوکار نہیں مچائی تھی جس کا مظاہرہ آج جناب نواز شریف کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری کو وفاقی وزیر اور نواز شریف کے مقرب خاص خواجہ سعد رفیق نے دانشمند آدمی کا خطاب عنایت فرمایا ہے ۔ اب اس دانشمند انسان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی سوچ خطرناک ہے۔ یہ سوچ کہ میں نہیں تو جمہوری عمل بھی نہیں نہایت خطرناک سوچ ہے لیکن نواز شریف تسلسل سے فوج اور عدلیہ کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ ایک ایسے فوجی سربراہ کے ہوتے ہوئے جنہوں نے نواز شریف اور ان کی حکومت کو ڈان لیکس کے گرداب سے نکالا اور وقتی طور پر اپنے لیے رسوائی مول لی اور جن کے بارے میں نواز شریف کے قریبی حلقوں کی گواہی ہے کہ ان اور نواز شریف کے تعلقات انتہائی خوشگوار رہے ہیں ، نواز شریف اپنی فیملی اور اپنے آپ کو پانامہ اسکینڈل کے مضمرات سے بچانے کے لیے پاک فوج کو بحیثیت ادارہ جس طرح ملزم بنا کر پیش کر رہے ہیں وہ انتہائی تشویش ناک فعل ہے۔ پیپلز پارٹی کے بزر جمہوربھی اس اپروچ کو جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں تو یقینی طور پر اس کی کوئی وجہ ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ نواز شریف اور ان کے حواریوں کی جانب سے اس مذموم مہم کی وجہ سے نچلی سطح کے کارکنوں میں فوج کے خلاف نفرت پیدا ہو رہی ہے جب کہ سول بالادستی کی نفسیاتی گرہ کا شکار بعض نام نہاد دانشور حضرات ناسمجھی میں فوج کے خلاف پوزیشن لے رہے ہیں۔ اس مہم میں وہ طبقہ ویسے ہی پیش پیش ہے جو ہمیشہ فوج کے خلاف رہا ہے اور جس کا ''روٹی ٹکڑ'' پاک فوج کی برائیاں کرنے سے چلتا ہے۔ عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ نواز شریف کی نااہلی تو ایک عدالتی فیصلے کا نتیجہ ہے تو اس میںفوج کا کردار کہا ںسے آ گیا۔ فوج بحیثیت ادارہ اعلیٰ عدلیہ پر کیسے اثرانداز ہوئی اور فوجی قیادت اور عدلیہ کے درمیان گٹھ جوڑ کی اصل کہانی کیا ہے کے متعلق اگر حکومت کچھ ثبوت پیش کرنے میں کامیاب رہتی تو اس کی بات میں وزن ہوتا لیکن نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی زمینی حقائق کو دیکھ کر حکومتی اراکین اور نواز شریف کا بیانیہ درست معلوم ہورہا ہے۔ کس قدر افسوس ناک صورت حال ہے کہ اپنی ذات کو بچانے کی خاطر اداروں کے وقار کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ کل تک عدلیہ کے احترام کی باتیں کرنے والے آج ایک جانب عدلیہ کو رگید رہے ہیں تو دوسری جانب پاک فوج بحیثیت ادارہ ان کے نشانے پر ہے۔ جن رہنماؤں کو ملک و قوم عزیز ہوتے ہیں کیا وہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں جیسی نواز شریف کر رہے ہیں۔ ایک نئے قومی ڈائیلاگ کی بات کرنے والے وضاحت کریں کہ آئین پاکستان کے ہوتے ہوئے نیا قومی ڈائیلاگ اداروں کے مابین کیونکر ہو گا۔ یہ طے ہو چکا ہے کہ فوج سویلین بالادستی میں کام کرے گی اور کابینہ کی دفاعی کمیٹی میں فوجی افسران وزیر اعظم کو کارکردگی رپورٹ پیش کریں گے، کیا اس دستوری اتفاق سے ہٹ کر کوئی اور منصوبہ نواز شریف کے ذہن میں ہے۔ نیشنل سیکورٹی کونسل ایک نیا ارینجمنٹ تھا لیکن نواز شریف نے جہانگیر کرامت سے اس جرأت پر استعفیٰ مانگ لیا تھا۔ اصل کام جو نواز شریف اور ان کے رفقاء کرنا چاہتے ہیں وہ آزاد اور خودمختار عدلیہ کے اختیارات پر قدغن ہے۔ نواز شریف درحقیقت اُس تاریخ ساز کام کو ریورس کرنا چاہتے ہیں جو اٹھارویں آئینی ترمیم میں اعلیٰ عدلیہ کے اختیارات اور ججوں کی بھرتی کے میکنزم کے حوالے سے پیپلز پارٹی دور میں ہوا۔ پیپلز پارٹی کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اُس نے 1973ء کے آئین کی اصل حالت میں بحالی کے لیے سنجیدہ کوشش کی اور میثاق جمہوریت کی روشنی میں بعض نئے آئینی ''ارینجمنٹس '' پر اتفاق کیا۔ یہ ایک قومی ڈائیلاگ تھا جو پارلیمان کے اندر ہوا۔ اس مکالمے کی اہمیت یہ تھی کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کی نمائندگی اُس 26رکنی کمیٹی میں تھی جو آئین کی اوورہالنگ کا مشن سرانجام دے رہی تھی۔ اگرچہ یہ ایک وسیع مکالمہ تھا لیکن اس مکالمے کی حیثیت اس قومی مکالمے کے عشر عشیر قرار نہیں دی جا سکتی ہے جو 70ء کی اول دہائی میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے مابین ہوا اور جس کے نتیجے میں 1973ء کا آئین وجود میں آیا۔ 1973ء کے آئین پاکستان کی اہمیت یہ ہے کہ یہ دو مارشل لاؤں کا بوجھ سہار گیا ہے۔ اس وسیع تر قومی اتفاق رائے کو دوبارہ پیدا کرنا کیا آسان کام ہے؟ آج نواز شریف نئے آئین کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے اپنے اتحادی مولانا فضل الرحمان کا بیان سامنے آ چکا ہے کہ وہ آئین کی دفعہ 62اور 63کی تبدیلی پر رضامند نہیں ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62،63کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کا بازو مروڑ دیں گے۔ دریں حالات کیا یہ آسان کام ہے کہ آئین کو اس انداز سے ڈھال دیا جائے کہ کرپٹ سیاسی خانوادوں کا راستہ روکنے والا کوئی ریاستی ادارہ نہ ہو۔ دنیا میں کئی بادشاہ آئے اور چلے گئے، جمہور حکمرانوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی تاریخ فراموش کر بیٹھی ہے، یہاں امر وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر سوچے اور فیصلے کرے۔ جیوری غلط ہو سکتی ہے، جیوری کا فیصلہ غلط ہو سکتا ہے لیکن سقراط زہر کا پیالہ پی لیتا ہے اور تاریخ میں امر ہو جاتا ہے۔ ملک و قوم کی رہنمائی اقتدار سے ہٹ کر بھی ہو سکتی ہے ، ماؤزے تنگ اور نیلسن منڈیلا جیسے رہنما خود سے ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ انہیں تاریخ عظیم رہنماؤں کا خطاب دیتی ہے لیکن جو اپنی ذات کو ناگزیر سمجھ بیٹھتے ہیں ان کے لیے تاریخ کا پیغام ہے کہ قبرستان اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنے والوں سے بھرے پڑے ہیں۔ 

اداریہ