Daily Mashriq


ایک نئی جہت

ایک نئی جہت

ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے کئی دفعہ بات ہوئی اور ہر بار ہی تشنگی محسوس ہوئی۔ہر بار یہ محسوس ہوا کہ اس میں ابھی کوئی کسر باقی رہ گئی ہے۔ میں نے اس حوالے سے گزشتہ کچھ عرصے سے تحقیق بھی شروع کر رکھی ہے۔ بے شمار باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں شاید اب ہم ویسی واقفیت نہیں رکھتے جو کہ ان کا حق ہے۔ ایک اہم بات جو اکثر ذہن کے دریچے پر دستک دیتی ہے وہ یہ ہے کہ اس سارے قصے میں ہم پاکستان اور افغانستان کا نقطہ نظر تو دیکھتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اس وقت جب یہ معاملہ جنم لے رہا تھا اس وقت اس خطے میں انگریز بھی موجود تھے۔ انگریزوں کی اس خطے میں موجودگی ایک علیحدہ اہمیت کی حامل تھی۔ وہ اس خطے کے مختلف معاملات میں فیصلہ کن طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ تبھی تو روس اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازعے کا فیصلہ کروانے کے لئے افغانستان کے امیر عبدالرحمن نے بر صغیر میں تاج برطانیہ کو خط لکھا کہ اس تنازعے کے تصفیے میں ان کی مدد کی جائے۔ بات صرف اسی حد تک محدود نہ رکھی گئی بلکہ افغانستان کے امیر نے افغانستان اور بر صغیر کے درمیان سرحد کی نشاندہی کی بھی درخواست بھیجی۔ دونوں جانب کی سرحدیں انگریزوں کی معاونت سے ہی طے ہوئیں۔ اگرچہ دونوں سرحدوں کے تعین کے حالات میں بہت فرق تھا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس ساری صورتحال میں انگریز حکمران شامل رہے۔

وہ سرحد جو آج کل ڈیورنڈ لائن کہلاتی ہے کیونکہ تاج برطانیہ کی جانب سے افغانستان کے ساتھ باہمی سرحدی معاہدے پر دستخط کرنے والے افسر کا نام موٹیمرڈیورنڈ (Mortimer durand) تھا جو کہ اس وقت تاج برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ 1893ء میں ایک بار معاہدے پر دستخط ہو جانے کے بعد بھی بار بار اس معاہدے کی تجدید کی جاتی رہی اور یہ لائن تیسری انگریز افغان جنگ کے بعد 1919ء میں راولپنڈی معاہدے کے نتیجے میں باقاعدہ سرحد تسلیم کی گئی۔ اس وقت نہ صرف اس سرحد کی نشاندہی کی گئی بلکہ چھوٹے ستون بنا کر علاقے کی تقسیم واضح بھی کردی گئی۔ اگرچہ یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ یہ تقسیم اس وقت جن حالات میں ہوئی وہ کچھ ایسے موافق حالات نہ تھے۔ افغانی انگریزوں سے جنگ ہار چکے تھے۔ یہ تقسیم اور اس کی نشاندہی خاصے دبائو میں کی گئی تھی۔ اس بات کو اگر پس منظر میں رکھا جائے تو یقینا ڈیورنڈ لائن کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر جنم لیتا ہے مگر اس حوالے سے کچھ باتیں قابل ذکر ہیں۔ اس زمانے میں جب یہ فیصلہ ہوئے کچھ عرصہ ہوچکا تھا اور انگریز حکمرانوں کے زیر اثر بے شمار دیگر فیصلے بھی کئے جارہے تھے۔ کئی باتیں ایسی ہوئیں جن سے ڈیورنڈ لائن کی موجودہ حیثیت ثابت ہو جاتی ہے۔ ویانا کنونشن اور اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں سے زیادہ اہم اصول یا دستاویز "UTIPossidius jusis" سمجھی جاتی ہے جوکہ انگریز ولندیزی فرانسیسی اور دیگر اقوام کی کالونی کے طور پر رہنے والے ملکوں کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔ اس اصول کو اس وقت طے کیا گیا جب یہ حکمران قومیں مختلف ملکوں کو آزاد حیثیت بخشنے لگیں۔ یورپ میں دونوں جنگ عظیم نے ایک ایسی معیشتی کیفیت کو جنم دیا کہ پھر ان ملکوں کے لئے اور ملکوں کو اپنی کالونی برقرار رکھنا مشکل ہوتا چلا جا رہا تھا۔ اس اصول کے تحت اس بات کا فیصلہ کیاگیا کہ جب بھی کوئی ملک جو کسی دوسرے ملک کو اپنی کالونی کے طور پر استعمال کر رہا ہو گا اور اس حیثیت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرے گا تو اس ملک کی سرحدی کیفیت کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جائے گا کہ جس وقت حاکم ملک نے اس ملک کو چھوڑا اس وقت ان کی سرحدیں کیا تھیں۔ یعنی اس علاقے کی اس وقت کی تصویر (Snap shot) کیا تھی اور اس میں کسی قسم کا کوئی رد و بدل نہ کیا جائے۔ وہ سرحدیں مستقل تصور کی جائیں۔ اس دستاویز اور قانون کے باعث بہت سے علاقوں کے مسائل سلجھائے گئے۔ اسی قانون کا اطلاق ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے بھی ہونا تھا۔ افغانستان براہ راست انگریزوں کے تسلط میں نہ تھا جبکہ بر صغیر کا وہ حصہ جو پاکستان کے حصے میں آیا انگریز حکومت کا حصہ تھا۔ انگریزوں کا بر صغیر سے رخصت ہونا' اس قانون کو اس علاقے کی سرحدوں کے لئے متوجہ کرتا تھا۔ جب انگریز اس علاقے سے رخصت ہو رہے تھے پاکستان اور بھارت اس رخصتی کے نتیجے میں جنم لے رہے تھے۔ اس اصول کے اطلاق سے ڈیورنڈ لائن اس علاقے کے اس وقت کے تصویری خاکے (Snap shot) میں اسی طرح موجود تھی اور اسے بطور سرحد تسلیم کیاجانا ناگریز تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اگر ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے معاملات کو دیکھا جائے تو محض اس ایک اصول پر دستاویز کی مدد سے ہی اس کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اگر افغانستان کی جانب سے بھی ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر کوئی بہت مسئلہ پیدا نہیں کیا گیا۔ بات چیت تو ہوتی رہتی ہے لیکن تمام تر معاملات کے باوجود کبھی بھارت کے زیر اثر اس صورتحال کو بگاڑ کے شکل دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ افغان حکومت بھی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ بگاڑ اور دشمنی ان کے بھی مفاد میں نہیں۔ ایسے میں ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ بے وجہ ہی جھنجوڑ کر جگا دینا خود افغانستان کے لئے بھی اچھا نہیں اور بات صرف یہیں تک محدود نہیں۔ اس وقت کے برطانوی سفارت کاروں نے جو بھارت پاکستان اور افغانستان میں موجود تھے اس معاملے کا فیصلہ اسی وقت پاکستان کی حمایت میں دے دیا تھا۔ اگر کبھی ضرورت محسوس ہوئی تو اس وقت ان سفارت کاروں کی خط و کتابت کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔ بہر حال فی الوقت پاکستان اورافغانستان کو اس بے وجہ بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔

متعلقہ خبریں