Daily Mashriq

سیاستدان کی دانش وحکمت

سیاستدان کی دانش وحکمت

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت دنیا میں جمہوری طرز حکمرانی کو جو دقعت ، اہمیت اور مقام حاصل ہے وہ کسی دوسرے طرز اور قسم کو حاصل نہیں ۔ اگرچہ یہ بات اپنی جگہ پر آج بھی مسلمہ اور ناقابل تردید ہے کہ اسلامی طرز حکمرانی یعنی خلافت جو خلافت راشدہ سے شروع ہوئی اور عثمانی خلافت پر ختم ہوئی ، مسلمانوں کے لئے بہترین طرز حکمرانی و حکومت رہی رہے اور رہے گی ، لیکن اس دوران چونکہ پلوں کے نیچے سے بہت زیادہ پانی گزر چکا ہے لہٰذا خلافت یا اسلامی فلاحی حکومت کی بات ہمارے سیکولر ، لبرل اور قوم پرست رہنمائوں اور سیاست دانوں کو نہ اچھی لگتی ہے اور نہ ہی قرین قیاس اور زمانہ کے تقاضوں کے مطابق ۔ اس لئے آج بھی ایک گرما گرم موضوع ہے اور رہا ہے کہ مذہب اور ریاست یا حکومت کا کوئی تعلق بنتا ہے کہ نہیں ۔ دونوں طرف بڑے مضبوط دلائل ہیں ، لیکن بہر حال آج اسلام پسندوں اور لبرل ، سیکولر سیاستدانوں ، دانشوروں اور مختلف طبقات کے اہل نظر کا اس بات پر اتفاق سا بن گیا ہے کہ زمانہ فیہہ جمہوریت ایک پسندیدہ اورمقبول نظام حکمرانی ہے ۔

قیام پاکستان کے بعد محمد علی جناح اور لیاقت علی خان دو ایسی شخصیات تھیں جن کے اخلاص ، دور اندیشی اور حب وطن کی قسم کھائی جا سکتی ہے ، لیکن ان کے بعد جو خلا پیدا ہوا اُس کا اندازہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ 1950ء سے لیکر 1956ء تک آئین کا بنیادی ڈھانچہ تو بمشکل وجود میں آیا لیکن اس کے نفاذسے پہلے ہی 1958ء میں مارشل لا نے سمت سفر ہی تبدیل کر لی ۔ 1958سے1973کی طویل مدت ہمارا وطن عزیز سر زمین بے آئین رہا ۔ خدا خدا کر کے ذوالفقار علی بھٹو سیاسی افق پر بہت دھوم دھام سے نمودار ہوئے ۔ کئی لوگوں اور سیاسی جماعتوں کی اُن کی سیاست اور فطرت کے ساتھ اختلافات کے باوجود اس بات میں دوسری رائے نہیں کہ اُنہوں نے ایٹم بم کے حصول ، بھارت سے جنگی قیدیوں کی رہائی اور 1973ء کے متفقہ آئین ، اسلامی سربراہ کانفرنس اور چین کے ساتھ دوستی کی مضبوط بنیادیں قائم کر کے دانشور سیاستدان و حکمران ہونے کا ثبوت پیش کیا ۔ لیکن بد قسمتی کہ اُن کو سردار پر پہنچا یا گیا ۔ و ہ دن اور یہ دن پھر ہمارے ہاں سیاسی میدان میں دانش و حکمت کی وہ کال پڑی کہ لوگ اور عوام تکتے ہی رہ گئے ۔مجھے یقین ہے کہ بھٹو زندہ رہتے تو مسئلہ کشمیر کب کا حل ہو چکا ہوتا ۔ اس وقت پاکستان جن حالات سے دوچار ہے ، بھٹو جیسے دانشور اور صاحب حکمت سیاستدان کی یاد ستانے لگتی ہے ۔ آج کل ہمارے ہاں لے دے کر اعتزاز احسن ، رضا ربانی اور محمود خان اچکزئی کی صورت میں چند ایک لوگ ایسے ضرورموجود ہیں جو بہر حال ایک فکر ، فلسفہ اور دانش رکھتے ہیں لیکن ہماری بد قسمتی ہے کہ اعتزاز احسن کی دانش احتجاجی تحریک کے دوران عروج پر آتی ہے اور باقی دنوںمیں اس کی حدود پیپلز پارٹی تک ہی محدود ہوتی ہیں ۔ رضا ربانی کو زرداری جیسے آزاد منش سیاستدان نے آزاد دانشور کہا ہے لہٰذاان کی دانشور انہ آزادی بعض اوقات اتنی و سعت کی حامل ہوتی ہے کہ پیپلز پارٹی جیسی لبرل سیاسی جماعت بھی اُسے سنبھالنے کی متحمل نہیں ہوتی ۔ محمود خان اچکزئی ، جمہوریت ، پارلیمنٹ اور بعض دیگر سیاسی حوالوں سے بہت نادر و نابغہ نکات کے حامل ہیں لیکن کشمیر کے حوالے سے اُنہوں نے جو تازہ دانش پیش کی ہے کہ ''پاکستان پہل کرتے ہوئے اپنے کشمیر کو آزاد کرے ''۔ ایک ایسی بات ہے جو کشمیر یوں کی صد سالہ جدوجہد پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے ۔ اُن سے پوچھا گیا کہ اگر بھارت مقبوضہ جموں کشمیر کو تب بھی آزادنہ کرے تو ؟ تو آپ نے فرمایا کہ دنیا کو معلوم تو ہو جائے گا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتا ہے ۔ واہ رے واہ کیا نکتہ لایا ہے ! اس کے ساتھ ہی اُنہوں نے افغانستان میں روس کی آمد ، بھارت ، ایران اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لئے جس انداز میں یکطرفہ طور پر پاکستان کی ذمہ داری قرار دیا ہے اور پاکستان کے افغانستان کے حوالے سے اُن کی دانش کے مطابق عمل کرنے سے افغانستان کے ساٹھ فیصد مسائل حل ہونے کی جو پیش گوئی فرمائی ہے اُس پر بھی سرد ھننے کو جی چاہتا ہے ۔ اگر پاکستان اس قسم کے انتظامات کرے اور وہاں سے باقی چالیس فیصد معاملات حل نہ ہوئے اور اُن کا وبال پاکستان پر گرا تو ! بھارت کے بارے میں ہمارے بہت سے دانشوروں اور بعض سیاستدانوں کے جو خیالات ہیں ، کاش وہ تاریخ کا اور ہندو سائیکی اور فلسفہ کا بھی تھوڑا سامطالعہ کریں ۔ لیکن مسئلہ تو یہی ہے نا کہ ہم مطالعہ کے بغیر ہی حکمت و دانش کے بھاشن دیتے رہتے ہیں اور پس منظر و پیش منظر کا خیال نہیں رکھتے ۔ چین نے ہانگ کانگ کے حصول کے لئے ایک صدی صبر کیا اور ہم کشمیر کے لئے ایک صدی بھی انتظار نہیں کر سکتے ۔ اچکزئی مشرقی تیمور ، جنوبی سوڈان وغیرہ کے تازہ واقعات کو مد نظر رکھیں اور کشمیر یوں سے پوچھیں کہ کیا اُن کو حق خود ارادیت کے علاوہ بھی کشمیر کا کوئی تیسرا چوتھا حل قبول ہے ؟۔

اداریہ