Daily Mashriq


اوروں کو نصیحت ....

اوروں کو نصیحت ....

اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کا مقولہ ہمارے آج کی سیاست پر بالکل فٹ بیٹھتا دکھائی دے رہا ہے اور اس حوالے سے چند خبروں کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس دعوے کی تصدیق ہوجاتی ہے۔ سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عدالت نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے تو اس فیصلے کو مان کیوں نہیں لیتے۔ میں نے بھی تو ایک وزیراعظم کو ہٹا کر دوسرے کو منصب سونپ دیا تھا۔ سابق صدر کی اس بات میں کوئی شک تو نہیں کہ ان کی صدارت کے دور میں انہی کی جماعت کے ایک وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ہٹا دیا گیا تھا اور ان کی جگہ راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم کے عہدے پر اسمبلی سے منتخب کروا لیا گیا تھا مگر جو طعنہ آصف زرداری میاں نواز شریف کو دے رہے ہیں کہ وہ عدالت کا فیصلہ مان کیوں نہیں لیتے تو اپنے دور میں آصف زرداری نے بھی تو عدالت کا فیصلہ تسلیم نہ کرتے ہوئے ہی اپنے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ان کے خلاف سوئس حکومت کو خط لکھنے سے سختی سے منع کرکے عدالت کی توہین کا مجرم بنوا دیا تھا اور عدالت نے ان کو نااہلی کی سزا دے کر اپنے منصب سے ہٹا دیا تھا۔ اگر اس وقت زرداری بھی عدالت کے فیصلے کو مان کر اپنی حکومت کے وزیر اعظم کو سوئس حکومت سے خط کے ذریعے تفصیل فراہم کرنے سے منع نہ کرتے تو بے چارے یوسف رضا گیلانی کا بلیدان تو نہ دینا پڑتا، یعنی اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت!!

تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شریف خاندان کا نیب میں پیش نہ ہونا اعتراف جرم تصور ہوگا، سپریم کورٹ کے ججز نے جس طرح جے آئی ٹی کا پہرا دیا ان معاملات کا بھی پہرا دیں۔ اسحاق ڈار، احمد سعید اور ظفر مجازی جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا منی لانڈرنگ نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ اگرچہ نیب کے سامنے شریف خاندان کی جانب سے پیش نہ ہونے کا ان کا موقف ایک حد تک درست ضرور ہے اور اصولی طور پر سابق وزیراعظم اور ان کے بچوں کو ضرور پیش ہو جانا چاہئے، لیکن ہم سے زیادہ خود فواد چوہدری بحیثیت ایک وکیل بہتر جانتے ہیں کہ یہ قانونی معاملات ہیں اور قانونی طریقے سے ہی آگے بڑھائے جا سکتے ہیں اور اگر شریف فیملی کے قانونی مشیر نے نیب حکام کو خط لکھ کر پیش نہ ہونے کا جواز دیا ہے تو ایسی صورت میں کیس میں فریق نہ ہوتے ہوئے بھی یہ حق فواد چوہدری کو کس نے دے دیا ہے کہ وہ ''جسٹس'' بن کر پریس کانفرنس میں یہ فیصلہ صادر کرتے رہیں کہ نیب میں پیش نہ ہو کر شریف فیملی اعتراف جرم کے مرتکب ہو رہے ہیںاور اسی حوالے سے کیا چوہدری فواد ایڈوکیٹ یہ بتانے کی زحمت فرمائیں گے کہ جن خیالات کا اظہار وہ شریف فیملی کے ''غلط'' روئیے کے حوالے سے کر رہے ہیں، خود ان کے لیڈر گزشتہ کئی مہینوں سے اپنے خلاف قائم مختلف کیسوں میں عدالتوں میں پیش ہونے کے بجائے ان سے بھاگنے کی جو شعوری کوششیں کر رہے ہیں یا پھر اپنے وکیلوں کے ذریعے مختلف پینترے اختیار کر کے عدالتوں سے ''بھاگ'' رہے ہیں کیا یہ رویہ بھی ''اعتراف جرم'' ہی کے زمرے میں آتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو وہ اپنے پارٹی سربراہ کو عدالتوں میں حاضری پر آمادہ کیوں نہیں کرتے، یعنی اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت!!

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کوئٹہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بڑی گہری بات کی ہے کہ نواز شریف کو شیشہ توڑنے کے بجائے اپنا منہ دھونا چاہئے۔ اگر نواز شریف احتساب عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے تو پھر کوئی غریب بھی ان عدالتوں میں پیش نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 63/62 کو ختم کرنے والے چاہتے ہیں کہ کوئی دیانتدار اقتدار کے ایوانوں میں نہ پہنچے اور چور لٹیرے اکھٹے ہو کر پاکستان کو لوٹتے رہیں۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، اور وہ یوں کہ آج کل سوشل میڈیا پر خود سراج الحق کا وہ خط وائرل ہے جس میں موصوف نے، جب وہ خیبر پختونخوا میں سینئر منسٹر تھے، دیر کے ایک افسر کو ایک فہرست فراہم کرتے ہوئے انہیں ملازمتوں پر رکھنے کی ہدایات جاری فرمائی تھیں۔ یہ انصاف، عدل، دیانت اور امانت کا وہ کونسا درجہ ہے جس پر موصوف فائز دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ انہوں نے 63/62 کی جو بات کی ہے موجودہ صورت میں یہ آرٹیکل بندر کے ہاتھ میں استرا آجانے کے مترادف ہے کیونکہ بقول اسفندیار ولی خان اگر پارلیمان کے ممبران کا جائزہ لیا جائے تو شاید بڑی مشکل ہی سے دوچار دانے ہی ایسے ملیں گے جو اس آرٹیکل کی موجودہ تعریف پر پورے اتر سکیں اور ویسے بھی جو لوگ موجودہ صورت میں اس آرٹیکل کو برقرار رکھنے پر تلے ہوئے ہیں اور اس میں مناسب ترمیم کرنے والوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنے کی باتیں کررہے ہیں، ان کا مقصد صرف یہی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں پارلیمنٹ کی راہداریاں بقول شخصے سنجنیاں ہون گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے، کی تصویر پیش کرتے دکھائی دیں۔ ایسی صورتحال سے تو بہتر ہے کہ ملک میں جمہوریت کا جنازہ پڑھنے کی تیاری کرلی جائے۔ 63/62 کے مکمل خاتمے کی اجازت یقیناً نہیں ہونی چاہئے تاہم اس میں معقول تبدیلی کے بغیر ملک میں پارلیمنٹ کی موجودی کا جواز ہی ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور پھر کون اقتدار سنبھالے گا؟ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے جس پر تمام جمہوری قوتوں کو سنجیدہ رویہ اپنانا پڑے گا۔

ہرچہ دانا کند، کند ناداں

لیک بعد از خرابئی بسیار

متعلقہ خبریں