Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک مرتبہ امام بخاری دریائی سفر کر رہے تھے اور ایک ہزار اشرفیاں ان کے ساتھ تھیں ۔ ایک شخص نے کمال نیاز مندی کا طریقہ اختیار کیا اور امام بخاری کو اس پر اعتماد ہوگیا، اپنے احوال سے اس کو مطلع کیا۔ یہ بھی بتادیا کہ میرے پاس ایک ہزار اشرفیاں ہیں ۔ ایک صبح کو جب وہ شخص اٹھا تو اس نے چیخنا چلانا شروع کیا اور کہنے لگا کہ میری ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی غائب ہے ۔ چنانچہ جہاز والوں کی تلاشی شروع ہوئی ۔ امام بخاری نے موقع پا کر چپکے سے وہ تھیلی دریا میں ڈال دی ۔ تلاشی کے باوجود تھیلی دستیاب نہ ہوسکی تو لوگوں نے اس کو ملامت کیا۔ سفر کے اختتام پر وہ شخص امام بخاری سے پوچھتا ہے کہ آپ کی وہ اشرفیاں کہاں گئیں امام صاحب نے فرمایا کہ میںنے ان کو دریا میں ڈال دیا۔ کہنے لگا کہ اتنی بڑی رقم کوآپ نے ضائع کر دیا ؟ فرمایا کہ میری زندگی کی اصل کمائی تو ثقاہت کی دولت ہے ۔ چند اشرفیوں کے عوض میں اس کو کیسے تباہ کر سکتا تھا؟ امام بخاری کی کمال احتیاط کا اندزہ کیجئے کہ آپ نے صرف اس لئے ایک ہزار اشرفیاں دریا میں ڈال دیں کہ اگر یہ مجھ سے برآمد ہوگئیں۔ تو لوگوں کے ذہنوں میں یہ شکوک وشبہات آسکتے ہیں کہ کہیں امام بخاری نے چوری نہ کیے ہوں۔ آپ نے محض ان شبہات سے بچنے کے لئے اتنی بڑی رقم سمندر میں ڈال دی اوراپنے دامن کو قیامت کے دن تک ہر قسم کے شکوک وشبہات سے مبرا کر دیا۔
٭سلطان الحکم میں مثل اپنے باپ کے عدل تھا اور اس بادشاہ کو ضد نہ تھی۔ اگر کوئی غلطی کرتا تو اعتراف بھی کر لیا کرتا۔ اتفاقاً خلیفہ الحکم کی توسیع میں ایک غریب بیوہ کی جائیداد آگئی۔ اس سے کہا بھی گیا کہ اس جائیداد کو معقول داموں میں علیحدہ کردے مگر موروثی جائیداد کی وجہ سے اس نے انکار کر دیا۔مگر خلیفہ کے کارندوں نے زبردستی وہ زمین لے لی اور بنگلہ تعمیر ہوگیا۔ اس عورت نے قاضی کے رو برو استغاثہ پیش کیا۔ قاضی نے فرمایا کہ تو تامل کر میں انصاف سے کام لوں گا۔ جس روز خلیفہ الحکم پہلے پہل مکان اور باغ ملاحظہ کرنے گیا ' قاضی بھی خبر پا کرپہنچ گئے۔ ایک گدھا مع خالی بورے کے ہمراہ لیا۔ الحکم کا سامنا ہوا تو قاضی صاحب نے کہا کہ امیر المومنین اس زمین کی کچھ مٹی مجھے چاہئے' اجازت ہو تو لے لوں۔ خلیفہ نے مسکرا کر اجازت دے دی۔ قاضی نے بورا مٹی سے بھر لیا اور خلیفہ سے درخواست کی کہ اس بورے کو گدھے پر رکھنے میں حضور ذرا میری معاونت فرمادیں۔ خلیفہ قاضی کی اس حرکت کو مزاح سمجھ رہا تھا۔ چنانچہ بورا ہر دو اٹھانے لگے' مگر بھاری وزن تھا اٹھ نہ سکا۔ خلیفہ ہانپ گیا۔ قاضی نے کہا۔ سرکار! اس بوجھ کو تو آپ اٹھا نہ سکے تو انصاف کے دن (یوم قیامت) کو یہ جو زمین بڑھیا کی ضبط کرلی گئی ہے وہ کس طرح اٹھائیں گے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ بڑھیا دعویٰ ضرور کرے گی۔ شاہ الحکم آبدیدہ ہوگیا اور حکم دیا کہ فوراً بڑھیا کی زمین اس کو واپس کرو اورمحل کا وہ حصہ مع ساز و سامان کے میںنے اس کو دے دیا۔ عرضیکہ بڑھیا مالا مال ہوگئی۔

اداریہ