Daily Mashriq


وزیراعظم کا خطاب اور معروضی حقائق

وزیراعظم کا خطاب اور معروضی حقائق

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں ملک کے معاشی حالات میں بہتری اور سرکاری اخراجات میں کمی کے علاوہ ٹیکس اور تعلیم کے نظام کو ٹھیک کرنے کا عندیہ دیکر قوم کو ایک نئی امید ضرور دلائی ہے۔ عمران خان کا لب ولہجہ زیادہ پراثر ضرور تھا لیکن قوم اس سے قبل بھی مختلف دور کے آمروں اور منتخب حکمرانوں سے اس قسم کی نوید سن چکی ہے جو بعد میں ہوا میں تحلیل ہوگئے۔ عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جو حکومتی اخراجات میں کمی کیلئے تجاویز پیش کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان کے جذباتی خطاب سے امیدیں وابستہ نہ کرنے کی تو کوئی وجہ نہیں ان کے لب ولہجے میں ہمدردی اور دل میں درد بھرے جذبات کا بھی اندازہ لگانا مشکل نہ تھا۔ عمران خان نے بہت سے معاملات پر تو اپنا ما فی الضمیر کھل کر بیان کیا جن اقدامات کا انہوں نے عندیہ دیا ان کی تکمیل میں وقت لگے گا۔ ممکن ہے ان اقدامات پر اس طرح سے عملدرآمد نہ ہو سکے جس کا انہوں نے عندیہ دیا۔ پاکستان کے معاشی مسائل کا حل اور ملک میں تبدیلی لانے کی ذمہ داری اس قدر سہل اور آسان نہیں کہ اپنے طور پر مساعی سے اس کا حل نکل آئے۔ معیشت اور اقتصاد کے حوالے سے وزیراعظم نے کسی ٹھوس پالیسی کا ذکر نہیں کیا ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کیلئے عزم کافی نہیں بلکہ اقدامات کی ضرورت ہے جو وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں فروخت کر کے اور کفایت شعاری وسادگی اختیار کرنے سے ممکن نہیں یہ اقدامات مزید بوجھ تلے دبے آنے سے بچنے یا مزید بوجھ کا حجم اور وزن کم کرنے کیلئے تو کارآمد ہو سکتے ہیں مگر پہلے سے جو بھاری بوجھ تلے قوم دبی ہوئی ہے اس بوجھ کا حجم اور وزن کیسے ہلکا ہوگا اس بارے کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی۔ آج ملک جس دوراہے پر کھڑا ہے اور جس قسم کے معاشی مشکلات درپیش ہیں ان کے ہوتے ہوئے بہتری کا خواب تو بہت سعد ہوگا۔ اگر اس صورتحال کو تھام لیا جائے تو بھی غنیمت سمجھا جانا چاہئے لیکن بہرحال ملک کے نومنتخب اور پرعزم وزیراعظم پراُمید ہیں اور قوم کو انہوں نے نئی امید دلائی ہے تو ان سے عوام کی توقعات کا بڑھ جانا فطری امر ہے۔ مشکل امر یہ ہے کہ ملک کا رویہ بے لگام رجائیت والا ہے خاص کر عمران کے نوجوان حامیوں کے درمیان جنہیں یقین ہے کہ عمران ملک کے 208 ملین افراد کیلئے کرپشن سے آزاد اور خوشحال نیا پاکستان بنا سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان کیلئے سب سے بڑا چیلنج اپنے ووٹرز اور حمایتیوں سے کئے جانے والے بلند وبانگ دعوؤں پر پورا اترنا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ معاشی بحران بڑھ رہا ہے لیکن خان کی مہم کے وعدوں کی جانچ بدتر ہوتی معاشی حالت کرے گی خاص کر ان کا فلاحی ریاست بنانے کا عزم۔ مرکزی بینک نے دسمبر سے اب تک چار مرتبہ پیسے کی قدر کم کی ہے لیکن کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کرنسی کا بحران جاری ہے جبکہ مالیاتی خسارہ 6 اعشاریہ8 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ معاشی نمو تقریباً6 فیصد پر چل رہی ہے لیکن دئیے گئے ناقابل برداشت خسارے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی نمو مزید خرابی کی طرف جا رہی ہے۔ معاشی مسائل بڑا مسئلہ ہیں اور معاشی مسائل اور بحران حقیقت ہوا کرتے ہیں ایک ایسی حقیقت جس کا ملک کی اقتصادیات اور عوام سبھی پر مرتب ہونیوالے اثرات پوشیدہ نہیں بلکہ شدت کیساتھ احساس دلانے والے ہوتے ہیں۔ ان حالات میں فلاحی ریاست کا قیام تو خواب ہی نظر آتا ہے مگر اس کے باوجود نومنتخب وزیراعظم فلاحی ریاست دینے اور شدت سے چاہے جانیوالی اصلاحات کرنے کا پختہ عزم کئے ہوئے ہے۔ اس امر کا ان کو ضرور احساس ہوگا لیکن ان کے خیال میں ہمیں ان تمام بڑی توقعات پر پورا اُترنے کیلئے معمول سے زائد کام کرنے کی صورت میں ممکن ہوگا۔ یہ بھی ایک سوچ کی حد تک ہی بات ہے کہ کرپشن سے پاک خاکہ حکومت پر یقین کو بڑھا سکتا ہے اور ملک میں بہت سے لوگوں کو ٹیکس ادا کرنے کیلئے آمادہ کر سکتا ہے جہاں ایک فیصد سے بھی کم افراد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے سو دن کے منصوبے کی تشہیر کی مگر بہت سی اصلاحات جنہیں پی ٹی آئی تجویز کر رہی ہے جیسے کہ نقصان اٹھانے والے ریاستی اداروں کو ٹھیک کرنے سے لیکر ٹیکس جمع کرنے کے ادارے کی اصلاحات وغیرہ، کو ٹھیک کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ حکومتی کرپشن کا مکمل خاتمہ یا چوری سے لے جائی گئی دولت کو واپس لانا بھی ممکن نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کو فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے خان کے تصورات اور ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے میں ابھی وقت لگے گا اور یہ بات بھی بخوبی طور پر سامنے آئے گی کہ ان مقاصد کے حصول میں حالات کس حد تک ان کا ساتھ دیتے ہیں اور ان کی ٹیم ان کے توقعات پر کس حد تک پورا اُترتی ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومت کی اصلاحات کی چند ایک مثالیں دیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کو اس حوالے سے عملی طور پر کامیابی وناکامی کی صورتحال بارے زیادہ تفصیلات کا علم نہ تھا ایک چھوٹے صوبے میں کئے جانیوالے اقدامات کو ایک بڑے صوبے میں متعارف کرانا مستزاد پورے ملک میں ان پالیسیوں کی تشکیل قانون سازی اور عملی طور پر ان کو لاگو کر کے نتائج حاصل کرنے کا وقت خاصا طویل اور مشکلات سے بھرپور ہو سکتا ہے جس سے گزر کر ہی مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہوگا۔ تمام تر امور کو ایک طرف رکھ کر اگر عمران خان کی تقریر کے من حیث المجموع مندرجات ان کی سوچ اور عزائم کا جائزہ لیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچنا مشکل نہ ہوگا کہ عمران خان کا لب ولہجہ اور عزائم سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم سے کہیں زیادہ توانا اور امید افزاء ہیں۔ عمران خان اگر نرم لب ولہجے اور عملی سادگی اختیار کرنیوالے محمد خان جونیجو مرحوم کی اصلاحات لانے میں مشکلات اور ان کی حکومت کے خاتمے کے اسباب وعلل کا تفصیلی جائزہ لیں تو ان کو راستے کی مشکلات کا بڑی حد تک علم ہوگا اور وہ ان سے پیشگی آگاہی کے باعث ان کا ممکنہ حل بھی پہلے ہی سے نکال سکیں گے۔ عمران خان نے جن عزائم کا اظہار کیا ہے اس میں پوری قوم کا ان کیساتھ ہونا یقینی ہے۔ عمران خان اپنے وعدوں اور دعوؤں پر خلوص نیت اور دیانتداری کیساتھ چلنے کی سنجیدہ کوشش کرتے دکھائی دیں تو اس ملک کا عام آدمی ان کا ہم رکاب ہوگا۔ ہمارے تئیں اس وقت ملک کو درپیش معاشی مشکلات کا فوری حل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ قانونی ذرائع سے حاصل کرنے میں ہے۔ اس مقصد کیلئے وزیراعظم کو بیرونی ممالک خصوصاً سعودی عرب سے اس امر کی اجازت کے حصول کو یقینی بنانا ہوگا کہ بھجوانے والے پاکستانیوں پر زرمبادلہ بھجوانے کی تعداد کی حد کا خاتمہ کیا جائے اور قانونی ذریعے سے جتنی رقم وہ بھجوانا چاہیں ان کو بھجوانے کی اجازت دی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ حکومت کو بھی قیمتی زرمبادلہ بھجوانے والے پاکستانیوں کو بنکوں کے ذریعے رقم بھجوانے کے عمل کو سہل سادہ بنانے کی ضرورت ہے جبکہ ان کو دیگر ممالک کی طرح وطن واپسی پر مراعات اور پنشن کی سہولیات جیسی ترغیبات بھی دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ رقم بھجوانے پر راغب ہوں۔ عمران خان کے اصلاحی پروگراموں پر عملدرآمد میں وقت صرف ہوگا اس لئے مختصر مدت کیلئے ضروری اقدامات پہلے لئے جائیں تاکہ ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہو۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم ہو اور بہتری نظر آئے۔ اس کے بعد طویل المدتی منصوبوں پر عمل درآمد کی صورت میں ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنانے کے خواب کی تکمیل کیلئے کمر کس لی جائے۔

متعلقہ خبریں