کانگو وائرس‘ احتیاطی تدابیر کا خیال رکھا جائے

21 اگست 2018

وطن عزیز پاکستان میں دنیا بھر میں سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں لوگ سنت ابراہیمی کی پیروی میں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ ملک بھر میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ بائیس لاکھ افراد سے زائد قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اگرچہ اس قدر زیادہ تعداد میں جانوروں کی شہروں، قصبوں اور دیہات میں آمد اور قربانی کئے جانے کے موقع پر احتیاط سے کام لینے میں حرج نہیں۔ ماہرین بھی احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں کہ شہری کانگو وائرس کے خطرات سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں۔ عوام کو اس امر سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے کہ کانگو بخار جان لیوا بخار ہے جو مویشیوں کی جلد میں موجود ٹکس (چیچڑ) کی وجہ سے لگتا ہے اگر یہ ٹکس کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ انسان فوری طور پر کانگو بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ قربانی کے جانور کو الگ تھلگ اور کم استعمال ہونے والے زیادہ سورج کی روشنی والی جگہ کو قربانی کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے کیونکہ الٹرا وائلٹ شعاعیں جراثیم کا فوری خاتمہ کرتی ہیں۔ ایک یا خاندان کے کم سے کم افراد کو جانور ذبح کرنے اور گوشت کے کام کا حصہ بننا چاہئے جبکہ انہیں ڈسپوزایبل ٹوپیاں، دستانے، ماسک، پلاسٹک ایپرن، واٹر پروف جوتے اور حفاظتی کپڑوں کا لازمی استعمال کرنا چاہئے، ان کے ناخن صاف اور کٹے ہوئے ہونے چاہئے۔ اگر ہاتھ یا بازو پر زخم یا خراش ہو تو گوشت کے کام کا حصہ نہیں بننا چاہئے، جانوروں کے ذبح اور گوشت کی کٹائی کے بعد ہاتھوں کو دھونا لازمی ہے۔ ماہرین نے تجویز پیش کی ہے کہ فرش پر ایک بڑی اور موٹی پلاسٹک کی شیٹ پھیلا کر اس پر گوشت رکھیں، بچوں کو اس حصے سے دور رکھا جائے جہاں قربانی ہوئی ہو یا گوشت کو کاٹا گیا ہو۔ امراض کی روک تھام کیلئے ٹھوس اور سیال کچرے کو جلد ازجلد تلف کیا جائے، بڑے اور موٹے پلاسٹک بیگز کو جانور کے کچرے کو بھرنے کیلئے استعمال کیا جائے اور انہیں بعدازاں حکومت کی طے کردہ جگہوں پر پھینک دیا جائے۔ اگر قربانی کے14روز کے دوران بخار ہو جائے تو فوری طور پر طبی امداد کیلئے رجوع کیا جائے۔ مویشیوں کی آلائش کو آبادی اور سڑکوں پر نہ پھینکا جائے بلکہ انہیں محکمہ صحت کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق تلف کیا جائے۔ اس کے علاوہ گوشت کو اچھی طرح پکا کر کھایا جائے۔ جانوروں میں کانگو وائرس کی موجودگی کے خدشات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سے بچنے کی تدابیر انتہائی ضروری ہیں جن پر عمل درآمد سے بیماریوں سے محفوظ رہنا ممکن ہوگا۔

مزیدخبریں