Daily Mashriq


جناب وزیراعظم کا قوم سے خطاب

جناب وزیراعظم کا قوم سے خطاب

نومنتخب وزیراعظم عمران احمد خان نیازی کے پہلے خطاب (ریڈیو ٹی وی پر کی گئی نشری تقریر) میں خواب‘ امیدوں‘ وعدوں‘ ماضی کے حکمرانوں پر تنقید‘ اپنی فہم کی ماڈل ریاست‘ سادگی اپنانے کی باتیں تھیں۔ فقیر راحموں نے کہا ’’خواب تو سبھی دکھاتے اور فروخت کرتے ہیں‘ ہمیں انتظار کرنا چاہئے کہ اب کی بار کیا ہوتا ہے۔ تعبیریں چوری ہوتی ہیں یا امیدیں برآتی ہیں۔ انتظار کے بنا مخالفت برائے مخالفت غلامی کی ایک صورت ہے۔ ہماری ماؤں نے ہمیں آزاد شہری اور محب حضرت مصطفیﷺ کے طور پر جنم دیا ہے غلام زادوں کے طور پر نہیں۔ فقیر راحموں کی بات درست ہے۔ انتظار کرنا ہوگا اس کے باوجود کہ وزیراعظم کے لشکر میں ان کے پرانے ساتھی کم اور پچھلے تین ادوار کے چہرے زیادہ ہیں۔ پچھلے تین ادوار‘ مشرف‘ گیلانی‘ زرداری اور شریفین کے ادوار۔ ان کی منظورکردہ وفاقی کابینہ میں دکھائی دینے والے چہروں کو دیکھ لیجئے 80فیصد وہی ہیں جو ہمیشہ اسٹیٹس کو کے محافظ رہے۔ زبیدہ جلال‘ فروغ نسیم‘ یہ دیگ کے دو دانے ہیں باقی کی دیگ کیسی ہوگی رائے دینے کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود دیانتدارانہ رائے یہی ہے کہ لائی گئی قیادت کو وقت ملنا چاہئے کم از کم 100دن کا تو بہرصورت مگر وہ 100دن کا ایجنڈا اس پر جناب وزیراعظم نے تفصیل سے کچھ نہیں کہا۔ سرائیکی وسیب کو جنوبی پنجاب کہتے ہوئے الگ صوبے کی بات ضرور کی۔ سو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کا مجوزہ جنوبی پنجاب صوبہ سرائیکی قوم کی تقسیم درتقسیم کا باعث بنتا ہے یا سرائیکی دوہری غلامی سے نجات حاصل کر پاتے ہیں۔ سات دہائیوں سے دو برس اوپر کا سفر طے کر چکا پاکستان مسائل ومشکلات سے دو چار ہے۔ فیشنی ودرشنی مخالفت اور غلامی بھری تائید دونوں کی ضرورت نہیں کہ یہ دنوں زہر ثابت ہوئے۔ مزید سنکھیا کھائیں تو کیوں؟ ہاں اب انہیں کرکٹ کے میدان کے حوالوں اور باتوں سے اجتناب کرنا ہوگا۔ کرپشن یقینا ختم ہونی چاہئے مگر کیا کرپشن ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے؟ تائید میں اجتناب اس لئے ہے کہ جو لوگ کرپشن کو نمبر ون مسئلہ بنا کر پیش کر رہے ہیں وہ جمہوریت کو گالی بنانے کے ایجنڈے پر ہیں۔ کرپشن نے صرف سیاسی نظام پر اپنے پھریرے نہیں لہرائے دوسرے میدانوں میں بھی وہ وکٹری اسٹینڈ پر موجود ہے۔ کیا ہم امید کریں کہ انسداد کرپشن کیلئے ایک اجتماعی نظام کی بنیاد اٹھانے کیلئے قانون سازی ہوگی جو بلاامتیاز احتساب کر پائے؟ 20کروڑ لوگوں میں آٹھ لاکھ ٹیکس دیتے ہیں۔ اعداد وشمار درست کر لیجئے یہ آٹھ لاکھ ان لاکھوں سرکاری ملازمین کے علاوہ ہیں جو ٹیکس دیتے ہیں۔ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ماچس کی ڈبیہ سے لیکر ایک لیٹر پٹرول تک سرکاری بھتے کی ادائیگی بنا نہیں خریدا جاسکتا۔ سرکار ہر چیز میں سے اپنا ٹیکس وصول کر لیتی ہے چاہے وہ سیلز ٹیکس کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ سوال اصل میں یہ ہے کہ جو کچھ عوام سے مختلف شکلوں میں سرکار وصول کرتی ہے اس کے جواب میں عوام کو کیا ملتا ہے۔ مثال کے طور پر بنی گالہ میں بجلی تو ہوگی‘ کسی دن وزیراعظم بنی گالہ کا بجلی بل لیکر بیٹھیں اور پھر بجلی کی قیمت اور عائد کردہ ٹیکسوں کو ترتیب وار پڑھیں۔ ان پر عیاں ہوگا کہ دس روپے کی چیز 100روپے میں بیچی جا رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر وصول کردہ بھتہ کیا ہے۔ ڈیم بننے چاہئیں تاکہ پانی اور بجلی کے بحرانوں پر قابو پایا جاسکے۔جناب وزیراعظم! تاریخ کا تجزیہ اور اس سے رہنمائی دونوں لازم ہیں لیکن تاریخ کے اوراق پر بکل مار کر بیٹھا نہیں جا سکتا۔ مغرب جن انسانی وسماجی روایات وقوانین پر عمل پیرا ہے وہ ان کے اپنے ماخذات کا حصہ ہے۔ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ شخص بھی اگر ایک پیش نماز کی طرح ہمیں یہ سمجھائے گا کہ مغرب نے اپنے اصلاحی نظام کی عمارت اسلامی تعلیمات کی رہنمائی پر اٹھائی ہے تو افسوس ہوگا۔ عمران خان کو تاریخ سے دلچسپی رہی ہے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ مسلم تاریخ تقدسات کی دو دھاری تلواروں کے سائے میں سفرکرتے ہوئے یہاں تک پہنچی ہے۔ ہمیں تاریخ کے الجھاؤ میں گردن پھنسانے کی بجائے اپنے معروضی حالات اور ضرورتوں کو دیکھنا ہوگا۔ ہماری ضرورتیں کیا ہیں۔ غربت کا خاتمہ‘ طبقاتی بالادستی سے نجات‘ اداروں کو تابع دستور کرنا‘ عوام کا حق حکمرانی بحال کروانا‘ تعلیم ‘ روزگار اور طبی سہولتیں سب کیلئے مساوی طور پر‘ انصاف بذریعہ مہنگے وکلاء نہیں بلکہ انصاف ہوتا ہوا دکھائی دے۔ہم مان لیتے ہیں پچھلے دس سال میں کچھ نہیں ہوا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرف دور میں بھی طبقاتی خلیج میں اضافہ ہی ہوا کمی ہرگز نہیں ہوئی۔ انہیں مستقبل اور خصوصاً اپنے دور حکومت کا روڈ میپ سامنے لانا ہوگا۔ ایک اور بات بھی انہیں ذہن نشین رکھنا ہوگی کہ اب وہ وزیراعظم ہیں پارلیمان کو ساتھ لیکر چلنا ان کی ذمہ داری ہے۔ یہاں ایک بات کی طرف مکرر توجہ دلانا ازبس ضروری ہے کہ وہ بعض اداروں اور چند نادان دوستوں کے کہنے پر اٹھارہویں ترمیم پر کلہاڑا چلانے کی کسی قیمت پر منظوری نہ دیں البتہ اگر اس ترمیم میں اجتماعی ضمیر اور مستقبل کے حوالے سے کوئی خرابی ہے تو حزب اختلاف سے مشاورت کرکے درستگی لائیں۔ جناب وزیراعظم کی اولین نشری تقریر کو مسترد کرنا غیر دانشمندی اور واہ واہ کا شور بھی غیرمناسب ہے۔ اقتدار کے دنوں کا امتحانی پرچہ ان کے سامنے ہے سوالات غور سے پڑھنا ہوں گے اور جوابات کیلئے اقدامات حکمت عملی کے ذریعے۔ آخری بات یہ ہے کہ وہ اپنے ٹائیگرز کو سمجھائیں کہ سیاست برداشت کا کھیل ہے۔ خود کو تسلیم کروانا ہے تو دوسروں کا انکار نہ کریں۔ انکار کی تکرار سے عدم برداشت بڑھتی ہے جبکہ ہمارے عہد کو محبتوں کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں