Daily Mashriq


آئی جو ان کی یاد

آئی جو ان کی یاد

ہماری طرف سے عید قربان عید الاضحیٰ یا بڑی عید کی آمد آمد کی دلی مبارک باد قبول فرمائیں۔ چند گھنٹوں کے فاصلے پر ہیں وہ لمحات جب ہم سنت ابراہیمی ادا کرتے ہوئے قربانی کے وہ جانور بصد خشوع و خضوع ذبح کر رہے ہونگے جن کو خریدنے کے لئے ہم اپنی جمع پونجی لٹانے مویشی منڈی گئے تھے۔ قربانی کے جانور خرید کر لائے تھے اور پھر ان کی مقدور بھر ہی نہیں بھر پور خدمت کرتے رہے انہیں کھلاتے پلاتے نہاتے دھلاتے گھماتے پھراتے اور گیت خوشی کے گاتے رہے۔ اللہ جانے کس کی قربانی قبولیت کی معراج حاصل کرتی ہے کس کی نہیں مگر یہ بات طے ہے کہ عید چاہے چھوٹی ہو یا بڑی میٹھی ہو یا نمکین اپنے ساتھ بے پناہ خوشیاں لیکر آتی ہے۔ اب کے جو نمکین عید آئی ہر کہ’ در کان نمک رفت نمکین شود ‘کے مصداق ہمیں عید کے ذائقوں میں اس قد ر مست کرگئی کہ ہمیں خیال ہی نہ رہا کہ آج 21 اگست کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کو یاد کرنے اور ان کو خراج تحسین پیش کرنے کا بین الاقوامی دن منایا جارہا ہے۔ آپ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ 17اگست 2018ء کو پاکستان کی نودمیدہ قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں چیئر مین بلاول بھٹو نے اپنے تاریخی خطاب میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا حق ادا کردیا ، لیکن افسوس کہ اس حوالے سے کسی کی زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہ ہوسکا، وہ شہدائے کرام جو دہشت گردی کا شکار ہوکر اپنی جان، جان آفریں کے حوالے کر گئے وہ بے گناہ تھے۔ معصوم تھے۔ کیا دوش تھا بھلا ان کا جو بیٹھے بٹھائے دہشت گردی کا شکار ہوگئے ۔ زندگی چھین لی گئی ان سے ۔ نہلا دیا گیا ان کو خون ناحق میں۔ اور عذاب کردی گئی زندگی ان کے چاہنے والوں کی۔ وہ جو کسی کی آنکھوں کے تارے تھے دلوں کے سہارے تھے۔ کم نصیب سہاگنوں کے سہاگ تھے۔ ماؤں کے لعل تھے بہنوں کے لج پال تھے۔ دہشت گردوںنے ان کو صفحہ ہستی سے مٹاکر جانے کتنے نفلوں کا ثواب کمایا۔ عید کی خوشیاں مناتے ہوئے یا ان خوشیوں کے منانے کی تیاری کرتے ہوئے ہم آرمی پبلک اسکول پشاور کے ان پھول اور کلیوں کو بھلا کیسے بھول سکتے ہیں جن کو ان کی ماؤں نے ان کے ننھے منے ہاتھوں میں کتابوں کا بستہ اور لنچ بکس تھما کر اللہ حافظ کہا تھا۔

کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں

ٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے

کیا خبر تھی ان اسکول جانے والے نازوں پالے بچوں کی امی ابو کو کہ تقدیر کیا کھلواڑ کرنے والی ہے ان کے ساتھ۔ کب معلوم تھا ان کو کہ گولیوں سے چھلنی کر د یا جائے گا ان کے ننھے بدن کو۔ بھون ڈالا جائے گا ان کی معصوم اور ننھی جانوں کو جرم ناکردہ کی پاداش میں۔ دیکھتے ہی دیکھتے چکنا چور کردئیے جائیں گے ان کے مستقبل کے حسیں خوابوں کے تاج محل، شہید ہونے والے بچے گھر سے اسکول کی جانب روانہ ہوتے وقت اپنی امی ابو سے اتنا بھی نہ کہہ سکے کہ

ہمیں ماتھے پہ بوسا دوکہ ہم کو تتلیوں کے جگنوؤں کے دیس جانا ہے

ہمیں رنگوں کے جگنو، روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں

آج ہم دہشت گردی کا شکار ہوکر جام شہادت نوش کرنے والوں کو یاد کرکے ان کو خراج تحسین پیش کرنے کا عالمی دن منا رہے ہیں۔ آج کا دن صرف آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہید بچوں کو یاد کرنے کا نہیں ہماری چاک و چوبند پولیس کے بہت سے گبرو جوان اس دہشت و بربریت کا شکار ہوکر ہم سے خراج تحسین کا تقاضا کر رہے ہیں اور ہمارے فوجی جوان جرأتوں کے نشاں تو شہید ہونے کی آرزو لیکر ہی زندہ رہتے ہیں۔ وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اور ملک کے کونے کونے میں قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے وا لے دہشت گردوںکی آنکھوں میں چبھتا کانٹا ہیں۔ لیکن ہائے ہمارے معصوم بچے جو آج کے دن پکار پکار کر کہہ رہے ہیں

میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتاہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

عید قربان کی آمد سے پہلے ہماری آنکھوں کے تارے قربانی کے جانوروں کو سجا کر ان کے پاؤں میں جھانجریں پہنا کر گلے میں گھنگرو لٹکا کر ان کو گلی گلی کی سیر کراتے ہیں۔ آج بھی وہ یہ راہ ورسم دنیا نبھا رہے ہیں لیکن کسی کو خبر ہی نہیں کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے وا لوں کے لواحقین کے دل پر کیا گزر رہی ہے ، وہ اپنی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ان کی راہ تک رہی ہیں جو کبھی لوٹ کرنہیں آتے ۔

نہ انتظار کرو ان کا اے عزادارو

شہید جاتے ہیں جنت کو گھر نہیں آتے

کاش ہم سب بچے ہوتے اور ان ماؤں کے گلے لگ کر رو رو کر کہتے نہ رو ماں، نہ رو، آج 21 اگست ہے اور دنیا بھر میں دہشت گردی کے شکار ہونے والوں کو یاد کرنے ان کو خراج عقیدت پیش کرنے اور پسماندگان سے یکجہتی کے اظہار کرنے کا بین الاقوامی دن منایا جارہا ہے۔صرف تیرا جگر گوشہ ہی دہشت گردی کا شکار نہیں ہوا، تو بھی اس آگ میں جھلس کر رہ گئی اے ماں، اور ہم بھی جھلس رہے ہیں تیرے غم میں برابر کے شریک ہوکر ، ڈرتے ہیں کہ کہیں تو بھی نہ کہہ اٹھے کہ

اس زخم کا مرہم مجھے بتلا نہیں دیتے

ہے ہے مجھے فرزند کا پرسا نہیں دیتے

متعلقہ خبریں