Daily Mashriq


یہ سیاست ہے لطافت نہیں

یہ سیاست ہے لطافت نہیں

سات پردوں سے نکال کر عثمان بزدار کو عمران خان نے پنجاب کے تخت شاہی کو ان کی نذر کر دیا چونکہ زمانہ اس وقت عمران خان کا ہے اس لئے پارٹی میں درجنوں بھر بھبوکا لال پیلے چہرے اس نذرانہ سے ناخوش ہونے کے باوجود زبان پر شکوہ شکایت نہیں لاسکتے، کیونکہ وہ پارٹی کے مخلص ترین رہنماؤں جسٹس (ر) وجیہہ الدین، اکبر ایس احمد اور جاوید ہاشمی کے اخلاص کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ عثمان بزدار ان کی پسند ہیں کہ وہ انتہائی درجے کے صادق اور امین ہیں۔ ان کا دامن شفاف ہے اس میں ایک بھی چھید نہیں ہے۔ انہوں نے اچھی طرح عثمان بزدار کے بارے میںچھان پھٹک کرنے کے بعد فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان کے دعوے کے باوجود سنانے والے دوسری کہانی مصدقہ طور پر سنا رہے ہیں، تاہم یہ حقیقت ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایسے ہی شخص کو تفویض کیا جا سکتا ہے جو عمران خان کے معیار کے مطابق سچا، کھرا اور وفادار ہو چنانچہ عثمان بزدار کی سیاسی وفاداری مسلمہ ہے، وہ عام انتخابات سے صرف پندرہ دن پہلے تحریک انصاف میں شامل ہوئے کیونکہ ان کی وفاداری کا اصول ہے کہ ہر چڑھتے سورج کے پجاری بنے رہو، اس سے پہلے وہ مسلم لیگ ن میں تھے اس سے بھی پہلے مسلم لیگ ق میں وفاداری کا اصول نبھاتے رہے۔ اسی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ تحصیل کے ناظم کا بھی عہدہ سنبھال چکے ہیں، ان کے خاندان کی دلیرانہ سیاست کے قصے عام وخاص ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عثمان بزدار اور ان کے والد فتح بزدار نوے کے اواخر میں حلقہ بندی میں رد وبدل پر ناراض ہوکر پہاڑوں پر چڑھ گئے۔باپ اور بیٹا دو بار ناظم رہے مگر اپنے گاؤں میں بجلی سپلائی نہ کرا سکے۔ عثمان نے 2017 میں قابل ٹیکس آمدنی چار لاکھ ارسٹھ ہزار ظاہر کی لیکن ایف بی آر نے اسی برس کی قابل ٹیکس آمدنی تین لاکھ اٹھاسی ہزار درج کر کے الیکشن کمیشن کو تصدیق کی ہے لیکن ٹیکس تریسٹھ ہزار دیا گیا ہے، عثمان بزدار نے 2012ء میں نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کیا اور 2017ء تک ایک پیسہ ٹیکس ادا نہیں کیا جبکہ اثاثوں میں ظاہر کی گئی کئی ہزار زرعی اراضی الگ ہے ۔ ان کیخلاف نیب میں یہ شکایت بھی کی گئی ہے کہ کئی ترقیاتی کاموں کا بوگس اندراج کر کے ترقیاتی فنڈ خرد برد کر لیا گیا۔ اسی طرح وسیع پیمانے پر بھوت نوکریاں بانٹی گئی ہیں وغیرہ وغیرہ، ایسی خوبیوں کا ناول بہت طویل ہے وقت ختم ہو جائے گا مگر ناول ختم ہونے کا نام نہیںلے گا۔ اگر عمران خان نے خود چھان بین کی ہے تو درست ہی ہوگی ویسے بھی عمران خان مطلق العنان پارٹی کے چیئرمین ہیں۔ پارٹی والے ان ہی کی فراہم کردہ کھیر اور شہد چاٹ رہے ہیں۔ اگر اس میں ہلکی پھلکی ترشی آجائے تو اس پر پھڑ پھڑانے کی حاجت نہیں، پھر ان کی نظروں سے وہ منظر ہنوز اوجھل نہ ہوا ہوگا کہ چیئرمین نے اپنے سے اختلاف کرنے والے پارٹی کے منتخب مرکزی صدر کو کنٹینر سے اُتار دیا تھا۔جہاں تک شفاف اور امین وصادق ہونے کا سرٹیفکیٹ عطا کرنے کی بات ہے تو یہ حق بھی چیئرمین عمران خان کا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سندیافتہ امین وصادق ہیں چنانچہ عمران خان صداقت وامانت سے ہٹ کر کسی فعل کے مرتکب نہیںہو سکتے، جہانگیر ترین جن کی کاوشوں سے عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا پہاڑ سر کیا ہے وہ تو اپنا مشن ہی پورا کر سکتے ہیں کہا یہ ہی جا رہا ہے کہ عثمان بزدار جہا نگیر ترین کے جگری یار ہو گئے ہیں کیونکہ اس منصب تک وہی لیکر آئے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے جب جنوبی صوبے کی حمایت کیلئے جنوبی صوبہ محاذ قائم ہوا تو عمران خان کی سیاست کو ایک زوردار جھٹکا لگا تھا، جس پر ان کا تبصرہ تھا کہ جنوبی صوبہ محاذ کی کیا ضرورت تھی، محاذ قائم کرنے والوںکو چاہئے کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں کیونکہ وہ بھی جنوبی صوبے کے قیام کے حامی ہیں اور کامیاب ہونے پر جنوبی صوبہ تشکیل دیں گے۔ جس پر جہانگیر ترین نے پارٹی کی طرح دن رات دامے درمے، قدمے دوڑ دھوپ کی اسی طرح جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک کو پی ٹی آئی میں ضم کرنے کی سعی بھی کی اور کامیابی پائی۔ پارٹی کے چند افراد جو پنجاب کی حکمرانی کا خواب دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ملکر سیاست سے ان کو آؤٹ کرنے کا کھیل کھیلا ہے مگر نااہل ہونے کے باوجود انہوں نے عمران خان کیلئے جو خدمات انجام دی ہیں اس کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا اس لئے عمران خان اس وقت جہانگیر ترین کی سب سے زیادہ قدر ومنزلت کرتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ جہانگیر ترین کو ان کی وفاداری کا کوئی عمدہ ساصلہ ملنا چاہئے، جہانگیر ترین نے اپنی نااہلی کیخلاف سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے۔ پارٹی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ توقع یہ ہی ہے کہ جہانگیر ترین کی اپیل قبول کر لی جائے گی جس کے بعد ان کے بھی صادق وامین ہونے کی تصدیق ہو جائے گی اور وہ عوامی عہدے کے قابل ہو جائیں گے چنانچہ ان کو پنجاب کے تخت اعلیٰ سے نوازنے کا پروگرام ہے چنانچہ فی الوقت ایک ایسا بھروسے کا آدمی چاہئے تھا کہ جو وقت پڑنے پر جہانگیر ترین کیلئے تخت چھوڑ دے کیونکہ اس امر کا امکان تھا کہ کسی دوسرے کو مسند پنجاب پر صریر آراء کیا جاتا تو وہ وقت پر انکاری ہو سکتا تھا اور اس طرح گڑبڑ گھٹالا ہو سکتا ہے۔ عثمان بزدار راضی برضا تخت لاہور سے اُتر جائیںگے۔ علاوہ ازیں ایک زبردست فائدہ عمران خان کو یہ رہے گا کہ جب تک عثمان بزدار تخت لاہور پر براجمان رہیں گے اس وقت تک جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک کی آواز دبی رہے گی کیونکہ وہ کہہ سکیں گے کہ انہوں نے تو پورا پنجاب جنوبی پنجاب کے حوالے کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں