کشمیر کا اسلامی تشخص خطرات کی زد میں

21 اگست 2018

بھارتی سپریم کورٹ نے آئین کی دفعہ35Aپر فیصلہ سنانے کی تاریخ ستائیس اگست تک بڑھادی ۔سپریم کورٹ کے ججز نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ بینچ تین رکنی تھا مگر ایک رکن کی غیر حاضری کی وجہ سے فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا ۔سپریم کورٹ نے مقرر ہ دن فیصلہ سنانے سے گریز کیا ۔جس دن فیصلہ سنانا تھا اس وقت مقبوضہ کشمیر میں زوردار ہڑتال چل رہی تھی ۔مشترکہ مزاحمتی فورم کی اپیل پر ہونے والی دو روزہ ہڑتال نے کاروبار حیات معطل کر کے رکھ دیا تھا اور عوام چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں احتجاج کر رہے تھے ۔ ’’وی دی سٹیزن ‘‘(ہم شہری ) نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے بھارتی سپریم کورٹ میں یہ رٹ دائر کر رکھی ہے۔ بھارتی آئین کی دفعہ35Aمقبوضہ کشمیر کو خصوصی شناخت دیتی ہے جس کے تحت کوئی بھی غیر کشمیری باشندہ ریاست جموں وکشمیر میں نہ تو جائیداد خرید سکتا ہے اور نہ ووٹ کا استعمال کر سکتا ہے ۔اس دفعہ کے تحت بھارت کا شہری کشمیر میں ملازمت کا حق بھی نہیں رکھتا ۔یہ دفعہ کشمیر کی الگ شناخت کے حوالے سے بھارت کی قیادت بالخصوص پنڈت جواہر لعل نہرو کے وعدوں کی آخری آخری نشانیوں میں شامل ہے ۔غیر کشمیری باشندوں کے کشمیر میں زمینیں خریدنے اور ملازمت حاصل کرنے کا قانون جسے عرف عام میں سٹیٹ سبجیکٹ یعنی پشتنی باشندہ ریاست جموں وکشمیر کا تصدیق نامہ کہا جاتا ہے مہاراجہ ہری سنگھ نے نافذ کیا تھا ۔جس کا بنیادی مقصد پنجاب کے ہندوئوں کا اپنی زیر خرید ریاست میں انخلا ء روکنا اور اس کا داخلی تشخص برقرار رکھنا تھا ۔قیام پاکستان کے بعد جب کشمیر تقسیم ہوا تو بھارت اور پاکستان دونوں نے اس قانون کو من وعن تسلیم کرکے نافذ رکھا ۔مغربی پاکستان سے جانے والے لاکھوں ہندو شرنارتھی جموں کے کیمپوں میں مدتوں سے اس قانون کے خاتمے کی امید پرمقیم رہے ۔وہ کشمیر کی شہریت اور وہاں باشندہ درجہ اول کا حق مانگتے رہے مگر کسی حکومت نے سٹیٹ سبجیکٹ کے قانون کے ساتھ چھیڑ کر اس مطالبے کوپذیرائی بخشنے کی جرات نہ کی ۔پنڈت جواہر لعل نہرو نے ایک الگ ریاست یا بھارت کے وجود میں ایک نیم خود مختار ریاست کے وعدوں اور خوابو ں کے بدلے ہی شیخ محمد عبداللہ کو مہاراجہ ہری سنگھ کے الحاق کی توثیق پر آمادہ کیا تھا مگرمطلب براری کے بعد نہ صرف یہ کہ شیخ عبداللہ کوبرطرف کرکے جیل میں ٹھونس دیا گیا بلکہ ریاست کی خودمختاری کا گلہ بھی گھونٹا جاتا رہا ۔یہاں تک اب ان وعدوں کی بکھری ہوئی کرچیوں کو بھی برداشت نہیں کیا جا رہا ۔بھارت کشمیر میں اس وقت پوری طرح فلسطین ماڈل اپنائے ہوئے ہے۔اس کام میں بھارت کو اسرائیل کے تجربے کی ہی نہیں ٹیکنالوجی کی بھی بھرپور مدد حاصل ہے اور اس کا انکشاف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی کشمیر کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔بھارت کے ان عزائم اور منصوبوں کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ یہی دفعہ ہے ۔اب بھارت اس دفعہ کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرکے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے ۔اس قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر بھارتی سرمایہ دار وادی کی طرف نقل مکانی کریں گے اونے پونے داموں زمینیں خریدی جائیں گی اور مغربی پاکستان سے جانے والے لاکھوں ہندو پناہ گزین پہلے ہی جموں کے علاقوں میں شہریت کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔پنڈتوں کے لئے الگ بستیاں بسانے کے منصوبے بھی کاغذوں میں تیار ہیں ،امرناتھ یاتریوں کے لئے وسیع وعریض رہائشی منصوبے اور انہیں اس کے لئے الگ سے انتظامیہ کا قیام اور ان کے لئے مکانیت کی سہولت کی فراہمی وادی کے مسلمان اکثریتی کردار کے اوپر لٹکتی ہوئی تلوار ہے اور یوں کشمیر میں ایک’’ اسرائیل ‘‘کے خدوخال اُبھرنا شروع ہوجائیں گے ۔کشمیری مسلمان ہمیشہ سے اس خطرے کی بو محسوس کرتے رہے ہیں مگر نریندر مودی کے دور حکومت میں یہ خطرہ بہت عیاں ہو کر سامنے آیا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ مودی کے آتے ہی کشمیر میں مزاحمت کے ایک نئے اور نہ ختم ہونے والے دور کا آغاز ہو گیا ہے ۔وادی کے مسلمان فلسطین ماڈل کے خلاف ردعمل میں اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔طاقت اور حیلہ جوئی سے کشمیریوں کو رام نہ کیا جا سکا اور اب آخری چارہ کار آبادی کے تناسب کی تبدیلی ہے ۔اس کے لئے بھارت کے آئینی اداروں کا سہارا لیا جا رہاہے ۔مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی اس منظم کوشش کے خلاف حکومت پاکستان کو بھرپور سفارتی مہم شروع کر نی چاہئے ۔تمام سفارت خانوں کو متحرک کرنا چاہئے کیونکہ آباد ی کے تناسب کا یہ سلسلہ کامیاب ہو گیا تو یہ خطے میں مسلمانوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہوگا اور یوں مسلمانوں کو اپنے لئے کوئی نیا مقام اور ٹھکانہ تلاش کرنا ہوگا۔ بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد کشمیر میں بار بار مزاحمتی تحریکوں کے پیچھے وادی کشمیر کے مسلمانوں میں اقلیت بنائے جانے کا خوف بھی موجود ہے۔

مزیدخبریں